| 89225 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
حدیثِ شریف میں آیا ہے: "جو لوگ مسجد میں نہیں آتے اور گھر پر ہی نماز پڑھ لیتے ہیں، میرا جی چاہتا ہے کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں"۔اور یہ بھی فرمایا گیا: "جو شخص اذان سنے اور مسجد نہ آئے، اُس کی نماز قابلِ قبول نہیں"۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:"اگر تم گھروں میں نماز پڑھنے لگو اور مسجدوں کو چھوڑ دو تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔"فقہی کتب میں یہ تصریح موجود ہے کہ "اجابت بالقدم واجب ہے"۔جماعت کی نماز صرف آزاد مردوں پر واجب ہے، عورتوں پر نہیں؛ کیونکہ ان کا باہر نکلنا فتنہ کا سبب بن سکتا ہے۔مسجد جانے سے صرف شدید عذر کی صورت میں جماعت ترک کرنے کی گنجائش ہےاور اگر کوئی شخص بلا عذر جماعت کی حاضری ترک کرنے کا معمول بنا لے تو ایسا شخص "مرتكبِ کبیرہ" شمار ہوتا ہے۔اکابر میں حضرت گنگوہی، حضرت کشمیری، حضرت سہارنپوری رحمہم اللہ وغیرہ سب ہی "اجابت بالقدم" کے واجب ہونے کے قائل ہیں۔ان تمام تصریحات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسجد کی جماعت ترک کرنے کی اجازت صرف شدید اعذار کی حالت میں ہےلیکن دوسری طرف فتاوی قاضی خان، فتاویٰ ہندیہ وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کی جماعت محض افضل ہے اور اگر کوئی شخص گھر میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھےتووہ لائقِ ملامت نہیں۔عرض یہ ہے کہ کیا یہ مسئلہ صحیح ہے یا نہیں؟ شبہ یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ مسئلہ عوام کو بتا دیا جائے تو مسجدیں ویران ہو جائیں گی۔
عبارت درج زيل ہے:
وإن صلى بجماعة في البيت اختلف فيه المشايخ والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة أخرى فإذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة وترك الفضيلة الأخرى، هكذا قاله القاضي الإمام أبو علي النسفي، والصحيح أن أداءها بالجماعة في المسجد أفضل وكذلك في المكتوبات ولو كان الفقيه قارئا فالأفضل والأحسن يصلي بقراءة نفسه ولا يقتدي بغيره، كذا في فتاوى قاضي خان.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جماعت کےساتھ نماز ادا کرنا ایسی سنت مؤکدہ ہے جوتاکیدمیں وجوب کے قریب ہے ،لہٰذا بلا عذرِ شرعی مسجدکی جماعت کو ترک کرنا اور اس کی عادت بنالینا فسق اور گناہ کبیرہ ہے۔ تمام معتبر فقہی کتب اور اکابر ِامت نے اسی موقف کو اختیار کیا ہے،جبکہ فتاوی قاضی خان اور فتاویٰ ہندیہ کی سوال میں مذکور عبارت کا تعلق تراویح کےساتھ ہے اور تراویح کی جماعت گھر میں بھی اداکی جاسکتی ہے اور مسجد میں بھی، لیکن گھرمیں اداکرنےکی بنسبت مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھنے کوزیادہ فضیلت حاصل ہےاورجن معتبر فقہی کتب اور اکابرکے اقوال میں وجوب کاذکر آیاہےتو اس کا تعلق فرائض کی جماعت سےہے،لہذا کتب فقہیہ کی عبارات میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
حوالہ جات
صحيح مسلم: (1/ 453 ت عبد الباقي)
عن أبي الأحوص. قال: قال عبد الله:لقد رأيتنا وما يتخلف عن الصلاة إلا منافق قد علم نفاقه. أو مريض. إن كان المريض ليمشي بين رجلين حتى يأتي الصلاة. وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم علمنا سنن الهدى. وإن من سنن الهدى الصلاة في المسجد الذي يؤذن فيه.
حاشية ابن عابدين :(1/ 552)
(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط (قوله قال الزاهدي إلخ).....وقال في شرح المنية: والأحكام تدل على الوجوب، من أن تاركها بلا عذر يعزر وترد شهادته، ويأثم الجيران بالسكوت عنه، وقد يوفق بأن ذلك مقيد بالمداومة على الترك كما هو ظاهر قوله صلى الله عليه وسلم لا يشهدون الصلاة.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية:(1/ 82)
الجماعة سنة مؤكدة. كذا في المتون والخلاصة والمحيط ومحيط السرخسي وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة وفي المفيد وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة وفي البدائع تجب على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 156)
وذكر القدوري أنه إذا فاتته الجماعة جمع بأهله في منزله، وإن صلى وحده جاز، لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه خرج من المدينة إلى صلح بين حيين من أحياء العرب، فانصرف منه وقد فرغ الناس من الصلاة، فمال إلى بيته وجمع بأهله في منزله» ، وفي هذا الحديث دليل على سقوط الطلب.
رشیدخان
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
18/جمادی الآخرۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


