03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر کے باہر گلی میں کوڑا کرکٹ رکھنے کا حکم
89177جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب میری امی اور میرے ابو مجھے گھر کے باہر شاپر  میں کوڑا کرکٹ رکھنے  پر مجبور کرتے ہیں۔ میں جب گھر والوں کو کہتا ہوں کہ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے تو گھر والے کہتے ہیں کہ ہمارے  اپنے گھر کے باہر کی جگہ ہے۔ مفتی صاحب گھر میں جو چیزیں اکٹھی ہو جاتی ہیں پھل کے چھلکے، سبزیوں کے چھلکے وغیرہ تو انہیں اپنے گھر کے باہر رکھنے کا گناہ ہے یا نہیں؟ اور میں اگر باہر رکھتا ہوں تو کیا میں گناہ گار ہوں گا یا نہیں؟

تنقیح:

رابطہ کرنے پر سائل نے مزید بتایا کہ ہماری گلی بند(غیر نافذہ) ہے، میں کچرے کو شاپر میں رکھتا ہوں  اور کچرہ اٹھانے والا روزانہ آکر وہاں سے کچرا اٹھاتا ہے۔

باہر کے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے یا نہیں ، اس بات کا مجھے علم نہیں لیکن میں جب باہر شاپر کے اندر پڑھا گند دیکھتا ہوں تو میرا دل بہت تنگ ہوتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کچرے کا شاپر باہر اس لیے رکھنا کہ کچرے والا اٹھا کر لے جائے، اس میں حرج نہیں۔ تاہم مزید صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کے لیے آپ ایسے کچرہ دان کا انتظام کریں جس کے اندر پڑا کچرا باہر والوں کو نظر نہ آئے تو زیادہ بہتر رہے گا۔

حوالہ جات

جامع الترمذی  حدیث نمبر 2799

سمعت سعيد بن المسيب يقول : إن الله طيب يحب الطيب، نظيف يحب النظافة، كريم يحب الكرم، جواد يحب الجود ؛ فنظفوا - أراه قال : أفنيتكم - ولا تشبهوا باليهود. قال : فذكرت ذلك لمهاجر بن مسمار، فقال : حدثنيه عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله، إلا أنه قال : "نظفوا أفنيتكم". هذا حديث غريب، وخالد بن إلياس يضعف.

قوت المغتذی علی جامع الترمذی للسیوطی(2799)

(نظفوا أفنیتکم) جمع فناء وھو متسع امام البیت.

صحیح مسلم حدیث نمبر 35

عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ ﷺ:'' الإیمان بضع و سبعون-أو: بضع و ستون- شعبۃ، أفضلھا قول: لاإلہ إلا اللہ، و أدناھا إماطۃ الأذی عن الطریق، والحیاء شعبۃ من الإیمان''.

مسند الدارمی حدیث نمبر( 579)

عن أبی موسیؓ أنہ قال حین قدم البصرۃ: بعثنی إلیکم عمر بن الخطاب رضوان اللہ علیہ أعلمکم کتاب ربکم و سنۃ نبیکم ، و أنظف طرقکم.

بدائع الصنائع (7/279)

وقد قالوا فيمن وضع كناسة في الطريق فعطب بها إنسان: إنه يضمن؛ لأن التلف حصل بوضعه، وهو في الوضع معتد.

زبیر احمد بن شیرجان

 دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی

10/06/2025ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب