| 89166 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے دادا ابو کے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ میرے دادا ابو کے پاس تقریباً 20 کروڑ کی جائیداد ہے۔ کچھ دن پہلے میرے دادا ابو نے اپنی ایک بیٹی کو جائیداد میں حصے کے طور پر 70 لاکھ روپے دیے تھے۔ دادا ابو ابھی بھی زندہ ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی سے ایک اسٹامپ پیپر پر دستخط (انگوٹھا) بھی کروایا تھا، جس میں یہ لکھا تھا کہ بیٹی نے اپنا پورا حق اپنے والد صاحب سے وصول کر لیا ہے۔ اس اسٹامپ پر دادا ابو اور اس بیٹی دونوں کے انگوٹھے لگے ہوئے ہیں، اور بیٹی نے اپنی مرضی سے انگوٹھا لگایا تھا۔مسئلہ یہ ہے کہ میرے دادا ابو اپنی دونوں بیٹیوں کو پورا حق نہیں دے رہے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس اسٹامپ پر انگوٹھا لگانے کے بعد، کیا اس بیٹی کا دادا ابو کی باقی جائیداد میں کوئی حق باقی ہے یا نہیں؟ دادا ابو اسے 70 لاکھ سے زیادہ کچھ نہیں دے رہے ہیں۔ کیا شرعی طور پر ان کا جائیداد میں مزید کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث کے ساتھ ورثہ کا حق مورث(جس کا مال بطور میراث ہوتاہے ) کی موت کے بعد متعلق ہوتاہے۔ لہذا اس سے پہلے مورث کے کسی مال کی تقسیم بطور میراث معتبر نہیں ۔ پس صورت مسئولہ میں آپ کے دادا ابو نے اپنی بیٹی کو جو پیسے دیے ہیں وہ میراث شمار نہیں ہوں گے، بلکہ ہبہ شمار ہوں گے۔ نیز بیٹی نےاپنا حق چھوڑنے پر جو دستخط کیے ہیں اس سے ان کا میراث میں سے حصہ ختم نہیں ہوگا ۔
میراث کا حصہ اللہ تعالی کی طرف سے متعین کردہ ہے لہذا کوئی انسان کسی کو اپنے طور پر محروم نہیں کرسکتا ۔ پس آپ کے دادا کی وفات کے بعد ان کی بیٹی وارث ہونے کی حیثیت سے اپنا حصہ لینے کا حقدار ہوں گی ۔
البتہ چونکہ وہ ایک بڑی رقم وصول کرچکی ہیں ، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس رقم کے بقدر میراث سے اپنے حصے کو کم کرکے وصول کرے۔
حوالہ جات
قال الله تعالى: فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا، [النساء: 11].
ر د المحتار مع الدر المختار (10/527)،دار المعرفة ،بيروت
(وهل إرث الحي من الحي الخـ) أي قبيل الموت في آخر جزء من أجزاء حياته ( المعتمد الثاني)
المحيط البرهاني (23/282)، إدارة التراث الإسلامي
قال مشايخ العراق: الإرث يجري في آخر جزء من أجزاء حياة المورث. وقال مشايخ بلخ : الإرث يجري بعد موت المورث.
شرح المجلة للشيخ خالد الأتاسي(4/14)
شرح المادة(1073)... ومن دفع شيئا ليس بواجب عليه فله استرداده إلا إذا دفعه على وجه الهبة واستهلكه القابض كما في شرح النظم الوهباني وغيره من المعتبرات .
امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
24/جمادی الاولی 1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


