| 89363 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
السلام و علیکم مفتی صاحب پوچھنا یہ تھا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں فحش فلم کے ذریعے خواہش پوری کروں تو میری بیوی کو ایک طلاق اور وہ شخص فحش فلم کے ساتھ ساتھ ہاتھ کا استعمال کرلیتا ہے اور خواہش پوری ہو جاتی ہے تو کیا اس صورت میں شرط پوری ہو گئی ہے جبکہ دیکھ کر خواہش پوری کرنے کا ذکر تھا اور ہاتھ کا بھی استعمال ہوا ہے . کیا ایسی صورت میں طلاق معلق ہوگی کہ نہیں ؟ مزید یہ کہ نیت میں یہی تھا کہ فحش فلم اور ہاتھ کے استعمال سے خواہش پوری نہ ہو ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اس شخص کا فحش فلم دیکھنے کے دوران خواہش پوری کرنے سے شرط پائی گئی، لہٰذا اس کی بیوی کو ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے ،اس سے رجوع ہوسکتا ہے ۔ اور اگر رجوع کر لیا تو آ ئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 420):
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي (4/ 114):
واليمين في الطلاق عبارة عن تعليقه بأمر بما يدل على معنى الشرط فهو في الحقيقة شرط وجزاء، سمي يمينا مجازا لما فيه من معنى السببية.
الاختيار لتعليل المختار (3/ 140):
فإن وجد الشرط في ملك انحلت) اليمين (ووقع الطلاق) ، لأن الشرط وجد والمحل قابل للجزاء فينزل وينتهي اليمين.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 30):
وأما حكم هذه اليمين فحكمها واحد وهو وقوع الطلاق أو العتاق المعلق عند وجود الشرط فتبين أن حكم هذه اليمين وقوع الطلاق والعتاق المعلق بالشرط.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
22/جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


