03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بلا دلیل کسی کے الزام پر نوکری سے نکالنا
89444جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

      محترم مفتی صاحب!میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھا۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ لاہور جوہر ٹاؤن کے علاقے میں ایک مسجد ہے، جس کی رینوویشن کروانی ہے۔ اس نے کہا کہ میں اپنی کمپنی کے مالک سے بات کروں۔ چونکہ میری کمپنی کے مالک بھی اس دوست کو جانتے تھے، اس لیے میں نے مالک سے بات کی، اور انہوں نے رینوویشن کروانے کی منظوری دے دی۔اس کے بعد مسجد کی رینوویشن کا کام شروع ہو گیا۔ میں اسی دوران چالیس دن کے لیے جماعت میں چلا گیا۔ جو ٹھیکے دار رینوویشن کر رہا تھا، وہ مجھے واٹس ایپ پر بل بھیجتا، میں وہ بل اپنے مالک کو فارورڈ کر دیتا، اور مالک خود ٹھیکے دار کو ادائیگی کر دیتے تھے۔ میرے ذریعے ایک روپیہ بھی ادا نہیں ہوا۔

    کچھ عرصہ بعد کمپنی نے مجھے ملازمت سے نکال دیا، اور مالک نے ایک وجہ یہ بھی بتائی کہ میں نے مسجد کی رینوویشن میں پیسے کھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے ایک بہت قریبی دوست نے انہیں یہ بات بتائی ہے۔ میں نے مالک سے کہا:اوّل یہ کہ میں اس دوران موجود ہی نہیں تھا، میں جماعت میں تھا۔دوم یہ کہ تمام ادائیگیاں آپ نے خود ٹھیکے دار کو کیں، میرے ہاتھ سے کوئی رقم نہیں گزری۔سوم یہ کہ جس دوست نے آپ کو یہ الزام بتایا ہے، کیا اس نے مجھے اپنی آنکھوں سے پیسے لیتے دیکھا ہے؟اس پر مالک کوئی جواب نہ دے سکے۔ آخر میں میں نے پوچھا کہ کیا اس الزام پر آپ کے پاس دو گواہ موجود ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔

    تنقیح از سائل: مالک کا یہ بیان تھا کہ تمہارے کسی قریبی جاننے والے نے یہ بات بتائی تھی۔ اس سے زیادہ اس نے کچھ نہیں کہا۔میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر یہ بیان دیتا ہوں کہ میں نے ایک پیسے کی بھی کوئی ہیرا پھیری نہیں کی۔ اور میرے ذریعے کسی بھی نوعیت کی کوئی رقم مسجد کی تعمیر کرنے والوں تک منتقل نہیں ہوئی۔

    اب میرا سوال یہ ہے کہ شریعت کی رو سے کیا بغیر ثبوت، گواہ یا تحقیق کے مجھ پر مالی الزام لگا کر مجھے ملازمت سے نکال دینا درست ہے؟ اور ایسی صورت میں شرعاً اس الزام اور میری بدنامی کا کیا حکم ہے؟برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

    اگر آپ کا بیان سچا ہے کہ آپ مسجد میں رینویشن کے معاملے میں کسی کرپشن یا کمیشن لینے میں ملوث نہیں اور آپ کے مالک نے صرف اس بنیاد پر آپ کو نکالا ہے تو آپ کے کمپنی کے   مالک کا آپ پر  الزام لگا کر نکالنا اور آپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا درست نہیں ۔ہونا یہ چاہیے کہ کمپنی کا مالک اس حوالے سے مکمل تحقیق کرے،اگر اس کے سامنے کسی نے کوئی منفی رپورٹنگ کی ہے تو بیان کرنے والے سے ثبوت طلب کرے اوراگر کوئی بات ثابت نہ ہو تو ملازم کو نوکری پر بحال کرتے ہوئےان سے معافی مانگے۔تاہم اگر نکالنے کا سبب کوئی اور ہے تو اسے بیان کرکے حکم پوچھا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

     سورت الأحزاب: (58)

    {وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا}

    صحيح البخاري (8/ 19)

   عن أبي هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تناجشوا، ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا".

    صحيح مسلم (1/ 10)

    عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع»

    المحيط البرهاني في الفقه النعماني (8/ 311)

   "يجب أن يعلم أن العدالة شرط لتصير الشهادة واجبة القبول؛ لأنه ما لم يظهر الحق عند القاضي للمدعي لا يجوز له القضاء به، فضلاً عن الوجوب، وظهور الحق بالشهادة باعتبار صدق الشهود، ودليل صدق الشهود العدالة.

   البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 204)

   (قوله ولا ترد يمين على مدع) لقوله - عليه السلام - «البينة على المدعي واليمين على من أنكر» قسم والقسمة تنافي الشركة وجعل جنس الأيمان على المنكرين، وليس وراء الجنس شيء...

محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

28/جماد الا خری/1447ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب