03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
SCS (Success chaser star) کمپنی میں کمیشن پر ملازمت کرنا
84363اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

میں SCSکمپنی کے ساتھ آنلائن کام کرتی ہوں  یہ کمپنی گھر بیٹھی خواتین کو اپنی ویب سائٹ سے کام کروا کے ان کا سیلری دیتی ہے مطلب وہ خواتین اسٹیٹس پہ پراڈکٹس اپڈیٹ کرتی ہیں پھر جس کو جو چیز پسند آتی ہے وہ اس کا آرڈر لگا کہ وہ چیز اپنے گھر یا پھر کسٹمر کے گھر منگوا لیتی ہے اور جب پارسل گھر پہنچتا ہے تو وہ تب پیمنٹ کرتی ہے ساتھ میں  ویڈیو بھی بنائی جاتی ہے کہ اگر کوئ پراڈکٹس کم یا خراب ہے تو کمپنی کو مطلع کر کے اس نقصان کو پورا کیا جائے  کیا اس صورت میں یہ کام ان خواتین کے لیے جائز ہے؟

 اضافہ از مجیب:

ویب سائیٹ  کے مطالعے سے درجہ ذیل باتیں سامنےآئی ہیں ۔

 ۱۔ کمیشن نکالنے کے لیے ابتداء ۱۰۰ پوائنٹس  پورے کرنے ضروری ہیں ۔

۳۔ ہر سیل پر آپ کو ۲۰ پرسنٹ کمیشن ملتا ہے جو کیش بیک کے طور پر آپ کے اکاونٹ میں منتقل ہو جاتا ہے۔

۴۔ ۱۰۰۰ روپے کم رقم  والٹ سے منتقل نہیں ہو سکتی  ۔

۵۔ ۳۰ دن تک والٹ سے پیسے نہ نکالنے پر والٹ سے رقم خود بخود ختم ہو جائے گی۔

تنقیح:

کمپنی کے ایک سیل مینجر کی طرف سے ملنے والی معلومات:

۱۔ کمپنی میں اکاونٹ بنانے پر  ممبر باقاعدہ کمیشن ایجنٹ سمجھا  جاتا ہے۔

۲۔خاص رینک پر پہنچنے کے بعد  اگر کوئی دوسری کمپنی کے لیے بھی کام کرے تو اس کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ ہو جاتا ہے۔کوئی فکسڈ سیلری کسی بھی ممبر کی نہیں ۔

۳۔جو ممبر ایڈ ہوگا اس کو کیٹلاگ خریدنی ہوگی۔جس کی مالیت ۶۰۰ روپے ہے۔

۴۔کیٹلاگ خریدنے پر  اسے ۲۰ پرسنٹ ڈسکاؤنٹ ملنا شروع ہو جائے گا ۔

۵۔ایڈ کروانے والے پہلے شخص کو ۱۵۰ روپے بونس ملتے ہیں ، اسی طرح اس چین کے دوسرے اور تیسرے ممبرز کو  ۲۵ ، ۲۵ روپے ملیں گے، پھر ۱۰ روپے  بونس ۔ یہاں سے  آگے بونس ملتا ہے یا نہیں اس کی تفصیل معلوم نہ ہو سکی۔یہ بونس فکس ہے اور جو کیٹلاگ خریدی جاتی ہے اس سے کٹتاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس کمپنی کےساتھ  آپ کا معاملہ کمیشن ایجنٹ کا ہے  اور کمپنی کا کاروبار بھی جائز کاروبار ہے ۔لیکن کمپنی کے  کچھ معاملات شریعت کے خلاف ہیں ۔

۱۔ابتداء عقد میں 100 پوائنٹس کی شرط لگانا شرط فاسد ہے۔

۲۔ 30 دن میں پیسے نہ نکالنے پر اکاؤنٹ سے پیسے از خود ختم ہوجانا بھی ناجائز ہے۔ 

۳۔چین میں چلتا ہوا بونس  ملٹی لیول مارکیٹنگ کے ضمن میں آتا ہے جو کہ جائز نہیں ۔

۴۔ دوسری کمپنی کے کیے کام کرنے پر کمیشنایجنٹکے اکاونٹ ڈیلیٹ کرنے کی شرط بھی مقتضی عقد کے خلاف ہے۔ اگر کسی خاص رینک والوں کے لیے یہ شرط ہے تو کمپنی کو ان کی تنخواہ بھی مقرر کرنی ہوگی۔

اگر کمپنی کے ذرائع تک آپ کی پہنچ ہے تو ان سے بات کروا کر یہ معاملات  حل ہوجاتے ہیں تو  آپ ملازمت جاری رکھ سکتی ہیں ، اگر اس کے حل کی کوئی صورت نہیں تو پھرفی الفور کوئی اور ملازمت  ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ جب تک دوسری ملازمت نہیں ملتی اور  ضرورت بھی ہے آپ دیکھیں کہ عام طور پر اس قسم کا  کام کرنے والوں کو کتنی کمیشن ملتی ہے اتنی کمشن رکھ کر اضافی  اگر کمپنی کو واپس کرنے کا کوئی طریقہ کار ہے تواسے  واپس کر دیں ، اگر واپسی کی صورت نہ ہو تو بغیر ثواب کی نیت سے صدقہ کر لیں ۔البتہ جو ممبرز ایڈ کرنے پر ،یا ایڈ کیے ہوئے ممبرز کے ذریعے کمیشن ملا  ہے ،وہ کمپنی  سیل مینجر کے مطابق  چونکہ نئے ایڈ ہونے والے ممبرز سے کٹتا ہے ، اگر ممبرز  تک وہ کمیشن پہنچانا ممکن ہے تو ان کو لوٹا دیں، ورنہ وہ بھی بغیر ثواب کی نیت سے صدقہ کر لیں۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين (6/ 63):

«مطلب في أجرة الدلال [تتمة]

قال في التتارخانية: وفي ‌الدلال ‌والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.

«حاشية ابن عابدين (6/ 46):

«(‌تفسد ‌الإجارة ‌بالشروط ‌المخالفة ‌لمقتضى ‌العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد أشباه۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(4/ 193):

وأما ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌ما ‌يقابل ‌المعقود ‌عليه ‌وهو ‌الأجرة ‌والأجرة ‌في ‌الإجارات ‌معتبرة ‌بالثمن ‌في ‌البياعات ‌لأن ‌كل ‌واحد ‌من ‌العقدين ‌معاوضة ‌المال ‌بالمال ‌فما ‌يصلح ‌ثمنا ‌في ‌البياعات ‌يصلح ‌أجرة ‌في ‌الإجارات ‌وما ‌لا ‌فلا ‌وهو ‌أن ‌تكون ‌الأجرة ‌مالا ‌متقوما ‌معلوما ‌وغير ‌ذلك ‌مما ‌ذكرناه ‌في ‌كتاب ‌البيوع ۔

محمد سعد ذاكر

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

21 /محرمالحرام 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب