03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدنےاپنی زندگی میں مکان قبضہ  میں دےکر مالک بنادیاتودیگرورثہ کامیراث کامطالبہ کرنا؟
88406میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!میراث کےبارےمیں  ایک مسئلہ پوچھناہےوہ یہ کہ میرےوالدصاحب کو میرےداداسے10مرلےکامکان ملاہے،مجھےقرآن وسنت کی روشنی میں اس کی تقسیم سےمتعلق معلوم کرناہے، ابھی میرےوالدصاحب حیات نہیں ہیں،ایک سال پہلے وہ فوت ہوچکےہیں۔

میرےوالدصاحب اور ان کےبہن بھائیوں کی تفصیل:

  1. چچا نیاز علی خان
  2. چچا تاج ولی خان
  3. گل ولی خان (میرا بابا)
  4. بڑی پھوپھی (وفاتِ صاحب اولاد)
  5. چھوٹی پھوپھی (وفاتِ لا وارث)
  6. چھوٹی پھوپھی اپنے والد محترم یعنی میرے دادا کے بعد فوت ہوئی ہیں، نہ ان کا شوہر زندہ ہے اور نہ ان کی کوئی اولاد ہے۔

نوٹ: میرےدادا نے خود اپنے بیٹوں کے درمیان گھروں کی تقسیم کردی تھی، بڑی پھوپھی جوصاحب اولاد ہیں،ان کی اولاد اس 10 مرلےکے مکان میں حصہ مانگتےہے، شریعت کےمطابق اگر حصہ بنتا ہے تو کتنا بنتا  ہے؟

الحمدللہ میرےوالد صاحب اولاد ہیں، ہم الحمدللہ 2 بھائی اور 4 بہنیں ہیں، صرف میرا چھوٹا بھائی فوت ہوا ہے۔

ہماری زمینوں کی ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے،مجھے صرف اس گھر کے بارے میں جواب چاہیے جو کہ ہمارے قبضہ میں ہے ،ہم اس میں رہ رہے ہیں۔

تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ دادانےاپنےبیٹوں کواپنی زندگی میں الگ الگ قبضہ دےکرمکان ملکیت میں دیاتھا،اسی طرح دادانےمیرےوالد صاحب کو بھی 10 مرلہ مکان ملکیت میں دیاہے،لیکن داداکی وفات کےبعد دادکی میراث  جس میں کھیت وغیرہ بھی شامل ہیں ،شرعی طریقےپر تقسیم نہیں کی ،داداکےبیٹوں نےمیراث میں سےاپنی بہن کو ابھی تک حصہ نہیں دیا۔اسی لیےپھوپی کی اولادمیرےوالدصاحب  کے10 مرلہ کےمکان پر دعوی کرررہےہیں کہ اس میں ہماراحصہ بھی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں سائل کی وضاحت کےمطابق چونکہ دادا مرحوم نےاپنےبیٹوں کو اپنی زندگی میں الگ الگ مکان مالک بناکرقبضہ میں دےدیےتھے،اس لیےآپ کےوالد صاحب کی ملکیت  10 مرلہ کےمکان  میں دیگرورثہ (پھوپھی) یاپھوپی کی اولاد کاکوئی حصہ نہیں ہوگا،کیونکہ زندگی میں جوکچھ دیاجاتاہےوہ میراث نہیں،بلکہ ہبہ اورعطیہ ہوتاہے،جس کےلیےزندگی میں مالک بناکر قبضہ میں دیناضروری ہےاورشرعاوالدکی زندگی میں قبضہ بھی دےدیاگیاتھا،لہذایہ مکان میراث نہیں ہوگا،بلکہ آپ کےوالد صاحب کاذاتی ہوگا۔

ہاں چونکہ آپ کی پھوپی مرحومہ کو ان کی زندگی میں آپ کےوالد،چچا وغیرہ نےداداکی میراث سےحصہ نہیں  دیاتھا،لہذا دااداکی وفات کےوقت پھوپی کی جتنی میراث بنتی تھی،اس کےبقدرپھوپی کی اولاد آپ اور آپ کےچچا سےمطالبہ کاحق رکھتی ہے۔

 شرعی طور پر میراث میں بہنوں کو حق دینالازم ہے،اس لیےآپ پر لازم ہےکہ آپ اپنےچچا وغیرہ کےساتھ مشاورت کرکےملکیتی مکان کےعلاوہ داداکی دیگرجائیداد کی مارکیٹ ویلیو لگواکرپھوپی کاجتناحصہ بنتاہےوہ ان کی اولاد کےحوالےکردیں تاکہ شرعاآپ عنداللہ بری ہوجائیں،ورنہ ناجائزحق کھانےاور غصب کی وجہ سےآپ کےوالد توگناہگار ہونگےاوروالدکےوارث ہونےکی وجہ سےکسی قدر آپ بھی اس گناہ میں شریک ہونگے،والدکی طرف سےآپ  اپنی پھوپی کاحق اداء کروادیں گےتوعنداللہ آپ کےوالدبھی بری ہوجائیں گے۔

حوالہ جات

"شرح المجلۃ"1 /462:وتتم(الھبۃ)بالقبض الکامل لأنہامن التبرعات والتبرع لایتم الابالقبض الکامل ۔

"صحيح مسلم "ج 5 / 58: عن سعيد بن زيد قال سمعت النبى -صلى الله عليه وسلم- يقول « من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

20/صفر    1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب