| 88391 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرا نام عاكف ہے۔ میں اپنی پوری زندگی اپنے والد محترم کے ساتھ اسی گھر میں رہتا آیا ہوں جو کہ میری والدہ مرحومہ کے نام پر تھا، میری والدہ کا انتقال 1995 ء میں ہو گیا تھا۔ والد صاحب نے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی تھی ،لیکن ان کے اور دوسری اہلیہ کے درمیان کوئی اولاد نہیں ہے۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں ،تین بہنیں اور دو بھائی، اور والد محترم کا انتقال حال ہی میں، مارچ 2025 ء میں ہو چکا ہے۔ اب میں اپنی بیوی بچوں اور سوتیلی والدہ کے ساتھ اسی گھر میں مقیم ہوں۔ چونکہ اب ہمارے دونوں والدین کا انتقال ہو چکا ہے، ہم بہن بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیا ہے کہ اس مکان کی شرعی وراثتى تقسیم کے حوالے سےسنجیدگی سے غور کیا جائے۔ میری ذاتی خواہش ہے کہ اس مکان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت طے کی جائے، اور میں اپنے بہن بھائیوں کے شرعی حصے کی رقم انہیں قانونی معاہدے کے تحت پانچویں سال میں یکمشت ادا کر دوں۔ اس حوالےسے میرے چند اہم سوالات ہیں جن پر شرعی نقطہ نظر سے رہنمائی فرمائیں:
یہ مکان میری حقیقی والدہ کے نام پر تھا اور ان کا انتقال 1995 ء میں ہوا۔ اب اس میں میری سوتیلی والدہ ،جن کی اولاد نہیں، میرے ساتھ رہتی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اس مکان میں میری سوتیلی والدہ کا کوئی شرعی حصہ بنتا ہےیا یہ جائیداد صرف ہم پانچ حقیقی بہن بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر یہ گھر آپ کی والدہ کی ذاتی ملکیت میں تھا یا آپ کے والد نے انہیں دیا ہو اور ساتھ میں قبضہ بھی دیا اس طور پر کہ اس جائیداد سےاپنے تصرفات ختم کرکے ، اس کے تمام حقوق اور سارے متعلقہ امور سے دستبردار ہوکرآپ کی والدہ کے حوالے کردیا ہو تویہ گھر آپ کی والدہ کی ملکیت ہے،ان کے انتقال کے بعد اس گھر میں آپ کے والد اور آپ پانچ بہن بھائیوں کا حصہ ہوگا،آپ کی سوتیلی والدہ کو اس میں سےحصہ نہیں ملے گا،البتہ جب آپ کے والد کا حصہ تقسیم ہوگا تو اس میں سے آپ بہن ،بھائیوں کے ساتھ آپ کی سوتیلی والدہ کو بھی حصہ ملے گا۔
اگر والد نے قبضہ نہ دیا ہو بلکہ فقط کاغذات میں نام کیاہوتو پھر یہ گھر آپ کی والدہ کی ملکیت میں نہیں آیا ہےبلکہ شرعی لحاظ سے والد ہی کی ملکیت ہے،لہذا وہ میراث کا حصہ بن کر ورثہ کے درمیان اپنے حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔ورثہ میں آپ بہن بھائیوں کے ساتھ آپ کی سوتیلی والدہ بھی شامل ہوگی۔
حوالہ جات
وفي الدرالمختار(6/259):
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها"…
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
21/ صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


