03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نئی بننے والی مسجد کے بارے میں نازیباالفاظ کااستعمال
89376ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

 کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ

ہماری بستی میں مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی تو  اس  پربعض ناواقف افراد نے یہ نازیبا اور توہین آمیز الفاظ کہے کہ یہ مسجد، مسجدِ ضرار بنے گی یا یہاں کنجر خانہ بنے گا، نعوذباللہ من ذلک؛ تو کیا اس طرح کے الفاظ کہنا شرعاً گناہ ہے اور ایسے افراد اللہ تعالیٰ کے ہاں مجرم شمار ہوں گے؟اب ان کو کیا کرنا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآن میں جس مسجدِ ضرار کا ذکر ہے وہ صرف وہی مسجد ہے جس کے بارے میں قطعی دلیل سے ثابت ہو کہ اسے حقیقتاً مسجد بنانے کی نیت سے نہیں بلکہ اسلام کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے مسجد کی صورت میں بنایا گیا تھا۔ اگر کسی مسجد کا بانی یہ دعویٰ کرے کہ اس کی نیت مسجد بنانے کی تھی اور اس کے خلاف کوئی یقینی دلیل موجود نہ ہو تو ایسی مسجد کو مسجدِ ضرار نہیں کہا جا سکتا۔ ورنہ لازم آئے گا کہ ایسی مسجد کو گرانا یا ناپاک کرنا جائز ہو، جبکہ اس کا کوئی قائل نہیں۔لہذا آئندہ بننے والی مذکورمسجد کومسجدِ ضرار کہنابے بنیاد اورگناہ کی بات ہے،یہ مسجد ضرارنہیں۔ اس طرح کی بات کرنے والے لوگوں پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضوراس بات سے سچی توبہ کریں،اور آئندہ ایسی باتوں سے مکمل اجتناب کریں۔

مسجددینی شعائرمیں سےاور اللہ کا گھر ہوتاہے،اس کے بارے میں کنجر خانہ جیسے نازیبا اور بے بنیاد الفاظ استعمال کرنا سخت گناہ، اور شعائرِ اسلام کی توہین ہے(اگرچہ سامنے والی کی مخالفت کی بنیادپرکہنے کے احتمال کی وجہ سے قائل کفرسے بچ جائے گا) لیکن اگراس کا ذہنی توازن درست ہے تو وہ ان جملوں کی وجہ سے سخت گناہگارہوگا، ایسے شخص پر لازم ہے کہ فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرے، احتیاطاً تجدیدایمان ونکاح بھی کرے اورآئندہ ایسی باتوں سے مکمل اجتناب کرے، اور اگر یہ باتیں اس نے لوگوں کے سامنے کی ہوں تو ان سے رجوع اور برأت کا اظہاربھی علی الاعلان کرےاوراگریہ شخص منع کرنے کے باوجود وہ ان اہانت آمیز جملوں پر قائم رہتا ہے،اوراپنی ان باتوں سے رجوع نہیں کرتاتو اس گناہ کی وجہ سے لوگوں کا اس سےسوشل بائیکاٹ بھی جائزہے،اورقانونی چارہ گوئی بھی بوقت ضرورت وہ کرسکتے ہیں،تاہم قانون ہاتھ میں لیکر ازخود کوئی اقدام نہ کریں ۔

حوالہ جات

وفی امداد الفتاویٰ (ج 6، ص 170)

المسجدُ الذي ذُكِر في القرآنِ الكريم باسم مسجدِ الضِّرار هو ذلك المسجدُ الذي ثبت بدليلٍ قطعيٍّ أنَّ نيةَ بنائه لم تكن نيةَ إنشاءِ مسجدٍ حقيقةً، وإنما أُنشئ على صورةِ المسجد بقصدِ الإضرارِ بالإسلام.فأمّا المسجدُ الذي يدّعي بانيه أنَّ نيتَه كانت بناءَ مسجدٍ، ولم يوجد دليلٌ قطعيٌّ يُكذِّب هذا الادعاء، فكيف يمكن أن يُسمّى مسجدَ الضِّرار؟ وإلا لزم من ذلك القولُ بجوازِ هدمِ مثلِ هذا المسجد وإلقاءِ القاذورات فيه، لأن الشيءَ إذا ثبت ثبت بلوازمه، ولا قائلَ بهذا.فثبت أنَّ مثلَ هذه المساجد لا تدخل في حكم مسجدِ الضِّرار. نعم، تبقى هذه القاعدةُ مقرَّرةً: وهي أنه إذا كان في الطاعة غرضُ معصيةٍ، كما إذا كان المقصودُ من بناءِ المسجد التعصّبَ والتفريقَ، فإنَّ الفاعل يكون آثمًا، لكن يبقى المسجدُ مسجدًا مع جميعِ أحكامه اللازمة.وأما حقيقةُ تلك النية فاللهُ تعالى وحده أعلمُ بها، ولا يجوزُ لغيره أن يحكم عليها حكمًا جازمًا.

{وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَکُفْرًا وَتَفْرِیْقًا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه مِنْ قَبْلُ وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَا اِلَّا الْحُسْنَی وَاللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَکَاذِبُوْن} [التوبة: ۱۰۷]

أخرج ابن أبي حاتم عن قتادة في قوله:{وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا} قال: إن النبي صلی اﷲ علیه وسلم بنی مسجداً بقباء، فعارضه المنافقون بآخر، ثم بعثوا إلیه لیصلي فیه، فاطلع اﷲ نبیه صلی اﷲ علیه وسلم ذلك". (الدر المنثور، سورة التوبة آیت: ۱۰۷، دارالکتب العلمیة بیروت ۳/۴۹۵)

قال اللہ تعالیٰ:

 { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ ﴿ المائدۃ :۲﴾

وفی تفسیر الخازن: 

وشعائر الله أعلام دينه أصلها من الإشعار وهو الإعلام واحدتها شعيرة وكل ما كان معلماً لقربات يتقرب به إلى الله من صلاة ودعاء وذبيحة فهو شعيرة فالمطاف والموقف والنحر كلها شعائر لله

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم

’’إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سُخْطِ اللهِ، لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا، فَيَهْوِي بِهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ سَبْعِيْنَ خَرِيْفًا‘‘(سنن ابن ماجہ ،باب کف اللسان فی الفتنہ)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 78)

ومن يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب} [الحج: 32]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

26/06/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب