03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کا جھوٹ بول کر عدالت کے ذریعہ شوہر سےجہیز کا مطالبہ کرنا
89770طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میری اہلیہ ........ نے میرے خلاف آٹھ لاکھ روپے کےسامان جہیز کا کورٹ میں جھوٹا دعوی کیا ہے ، لیکن میں (..............) اللہ اور اللہ کے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرے سسرال سے جہیزمیں کوئی چیز نہیں آئی،  اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پراللہ کا قہر برسے۔ نہ ہی میری بیوی کے ساتھ میری کوئی لڑائی ہے اور نہ تھی۔ شادی کا سار ا سامان میرے والد وحید احمد نے بداتِ خود اپنی رقم سے مجھے دلوایا اور اس پر جو خرچہ آیا اس کی رسید میرے پاس موجود ہے اور اس نے اپنی فیملی کے ساتھ مل کر میرا جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی بنوا یا،  جس کا غلط ہونا میں تمام ثبوت اور دو گواہ بھی پیش کر چکا ہوں،  وہ ایک غیر محرم آدمی کو بطور گواہ لے کر کورٹ آئی،  اس آدمی کو بھی حقیقت سے اس نے آگاہ نہیں کیا اور جھوٹی گواہی کے لیے تیار کر لیا، لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ میراسات سال کا بیٹا ماں کے پاس ہے، جس کی کوئی دینی یاد نیاوی تربیت یہ عورت بالکل نہیں کر رہی اور بچے کو میرے چہرے پر تھپڑ مارنے پر بھی اکسا چکی ہے اور اسے یہ تربیت دی جارہی ہے کہ عبدالرحمن آپ کے والد تھے جو فوت ہو گئے ہیں اور اپنے باپ کےبارےمیں بچے کوبتارہی ہے کہ یہ آپ کے ابو ہیں، بچے کو کورٹ میں میری ملاقات کے وقت نشہ آور چیز پلا کر لاتی ہے، جس کی وجہ سے بچہ نیند کی کیفیت میں مجھے کورٹ میں ملا، اس بار میں اپنا بچہ اس عورت کے پاس بالکل بھی نہیں چھوڑ سکتا اور نہ جھوٹ بول کر میں اپنی دنیا اور آخرت خراب کر سکتا ہوں، لہذا جو اپنی صفائی میں حق سچ کہنا چاہتا تھا کہہ دیا۔ اگر اس سچ کو کورٹ میں جھوٹا قرار دیا گیا تواس سلسلے میں میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا میری بیوی کا اس طرح میرے خلاف جہیز کا جھوٹا دعوی کرنا جائز ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا بچے کی سات سال کی عمر ہو گئی ہے اس کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً آپ کی بیوی نے غلط بیانی اور جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہوئے جہیز کا دعوی کیا ہے تو اس کا اس طرح جھوٹا دعوی کرنا سراسر ظلم اور زیادتی ہے، اس کے لیے ہرگز جائز نہیں کہ جھوٹا دعوی کر کے آپ سے کسی قسم کامال لینے کی کوشش کرے، اگر اس نے اس طرح جھوٹی گواہی پیش کر کے عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ کروا لیا تو یہ عورت اور جھوٹی گواہی دینے والے لوگ سخت گناہگار ہوں گے، جس کا نتیجے ان کو آخرت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے، نیز عدالت کے فیصلے کے باوجود یہ مال ان کے لیے حلال نہیں ہو گا، بلکہ بدستور یہ مال اس عورت کے لیے حرام رہے گا، جس کا واپس کرنا اس کے ذمہ لازم ہو گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

میں تو ایک بشر (انسان) ہوں، اور تم لوگ اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو، ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی دلیل کو دوسرے سے زیادہ اچھی طرح پیش کر دےتو میں اس کے مطابق فیصلہ کر دوں جو میں سنتا ہوں۔ پس جس شخص کے حق میں میں اس کے بھائی کے حق میں سے کسی چیز کا فیصلہ کر دوں  تو وہ اسے ہرگز نہ لے، کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔”

یہ حدیث اس بات پر بہت بڑی تنبیہ ہے کہ اگر آدمی دیانتا اور حقیقتاًحق پر نہ ہوتوظاہری صورتِ حال پر مبنی  عدالت کافیصلہ ناحق کو حلال نہیں بنا تا، کیونکہ عدالت صرف ظاہری گواہوں کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہے، لہذا عورت پرلازم ہے کہ وہ خدا کا خوف کھائے اوراس طرح ناحق دعوی کرنے سے باز رہے۔  

صحيح البخاري (9/ 25) الناشر: دار طوق النجاة:

عن أم سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «إنما أنا بشر، وإنكم تختصمون إلي، ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، وأقضي له على نحو ما أسمع، فمن قضيت له من حق أخيه شيئا فلا يأخذ، فإنما أقطع له قطعة من النار»

  1. میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے بعد شرعی اعتبار سے ماں سات سال تک بچے کو اپنی پرورش میں رکھ سکتی ہے، اس کے بعد باپ بچے کو اپنی پرورش میں لے سکتا ہے، لہذا باپ کی رضامندی کے بغیر عدالت کا سات سال کے بعد بچے کو زبردستی ماں کی پرورش میں دینے کا فیصلہ کرنا خلافِ شرع اور غیر معتبر ہے۔

حوالہ جات

القرآن الكريم[البقرة: 233]:

{ لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ }

التفسير الكبير =تفسير الرازي  (6/ 462) دار إحياء التراث العربي – بيروت:

قوله: لا تضار والدة بولدها وإن كان خبرا في الظاهر، لكن المراد منه النهي، وهو يتناول إساءتها إلى الولد بترك الرضاع، وترك التعهد والحفظ.

وقوله: ولا مولود له بولده يتناول كل المضار، وذلك بأن يمنع الوالدة أن ترضعه وهي به أرأف وقد يكون بأن يضيق عليها النفقة والكسوة أو بأن يسيء العشرة فيحملها ذلك على إضرارها بالولد، فكل ذلك داخل في هذا النهي والله أعلم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 566) الناشر: دار الفكر-بيروت:

(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا.

مفتی محمد حسین خلیل خیل

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

23/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب