| 89459 | قصاص اور دیت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
2007ء میں ہمارے سوتیلے بھائی نے زمین کے تنازع پر ایک شخص کو قتل کر دیا۔ اس قتل کی ایف آئی آر ہمارے سوتیلے بھائی، اس کے بیٹے اور ہم دو حقیقی بھائیوں پر بھی درج ہوئی۔ہم دونوں حقیقی بھائیوں نے ابتدا ہی سے اس قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔
تقریباً چالیس دن بعد ہم دونوں نے خود مقتول کے ورثاء سے رابطہ کر کے انہیں قائل کیا کہ ہم اس قتل میں بے گناہ ہیں، جس پر مقتول کے ورثاء نے ہمیں معاف کرنے پر آمادگی ظاہر کی، مگر اس کے لیے درج ذیل شرائط رکھی گئیں:
1۔ ہم مقتول کے ورثاء کو ڈیڑھ لاکھ روپے نقد اور ایک عدد بندوق دیں گے۔
یہ بندوق اس غرض سے مانگی گئی کہ وہ ہمارے سوتیلے بھائی اور اس کے بیٹے سے دشمنی میں بدلہ لیں، جسے مقامی طور پر “کو شوندہ” کہا جاتا ہے۔
نیز ہم اپنے سوتیلے بھائی اور اس کے بیٹے کی کسی قسم کی مدد یا حمایت نہیں کریں گے۔
2۔ ہماری بہن (جو مقتول کے بھائی کی بیوی تھی) اپنے بچوں کی جائیداد کے مقدمات سے دستبردار ہو جائے گی، حالانکہ اس کے شوہر کا انتقال 1990ء میں ہو چکا تھا اور اس کے بچوں کو وراثتی جائیداد سے محروم کر دیا گیا تھا۔
3۔ ہمارے بھانجے کو اس کی دادی نے چار کنال زمین بطور ہبہ دی تھی، مگر قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے اس پر مقدمہ چل رہا تھا۔ شرط یہ رکھی گئی کہ وہ بھی اس مقدمے سے دستبردار ہو جائے۔
ہم مجبوری کے عالم میں ان تمام شرائط کو قبول کر کے صلح پر آمادہ ہو گئے۔ صلح کے بعد ہمارا سوتیلا بھائی ہم سے ناراض ہو کر الگ ہو گیا اور اپنا دفاع خود کرنے لگا۔
چند سال بعد، جب مقتول کے ورثاء ہمارے سوتیلے بھائی اور اس کے بیٹے کو قتل کرنے میں ناکام رہے، تو انہوں نے تقریباً تین سال بعد ہمارے اُس حقیقی بھائی کو قتل کر دیا جو 2007ء کے مقدمے میں بے گناہ تھا اور جسے ان شرائط کے بدلے معاف کیا گیا تھا۔
اس کے بعد ہم نے مقتول کے والد اور بھائی کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔ مقتول کا والد عمر قید کاٹ کر جیل سے رہا ہوا، پھر ہم نے اپنے بے گناہ بھائی کے قتل کے بدلے میں اس (یعنی قاتل والد) کو قتل کر دیا۔
بعد ازاں مقتول (جو جیل سے رہا ہوا تھا) کے دوسرے بیٹے کو، جو ہمارے بے گناہ بھائی کے قتل میں ملوث تھا، عدالت نے حال ہی میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اب وہ شخص (جسے عمر قید ہوئی ہے) ہم سے صلح کرنا چاہتا ہے۔ ہم نے صلح کے لیے یہ شرائط رکھی ہیں کہ:
1۔ وہ ہمیں ڈیڑھ لاکھ روپے نقد واپس کرے۔
2۔ ایک عدد بندوق واپس کرے۔
3۔ ہمارے بھانجے کو اس کی دادی کی دی ہوئی چار کنال زمین واپس کرے۔
تب ہی ہم صلح پر غور کریں گے۔
سوال:
کیا شرعاً ہمارے لیے صلح کے بدلے ان مذکورہ چیزوں (ڈیڑھ لاکھ روپے، بندوق، اور بھانجے کی زمین) کا مطالبہ کرنا جائز ہے؟کیا یہ مطالبہ شرعی اعتبار سے حق کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس معاملے کی شرعی حیثیت واضح فرما دیں۔
وضاحت:ہمارا سوتیلا بھائی اور اس کا بیٹا اب بھی زندہ ہیں، مگر انہوں نے اس قتل کا بدلہ ہم سے لیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ پہلے قتل میں آپ لوگ بقولِ خود ملوث نہیں تھے اور یہ قتل آپ کے سوتیلے بھائی نے آپ کی مرضی کے بغیر کیا تھا، اس لیے اولیاءِ مقتول کا آپ سے ڈیڑھ لاکھ روپے، بندوق اور دیگر شرائط لینا شرعاً ناحق تھا، اور شرعی اصول کے مطابق جو چیز ناحق لی گئی ہو اسے واپس لینا حق ہوتا ہے؛ لہٰذا قاتل کے ساتھ موجودہ صلح میں ڈیڑھ لاکھ روپے، بندوق اور بھانجے کی وہ چار کنال زمین جو ناحق طور پر چھڑوائی گئی تھی واپس لینے کا مطالبہ شرعاً جائز ہے، کیونکہ یہ کسی پر نیا یا زائد تاوان عائد کرنا نہیں بلکہ اپنے ناحق ضائع شدہ حق کی واپسی کا مطالبہ ہے.
واضح رہے کہ حدود و قصاص ازخود لینے کا شرعاً جواز نہیں ، اور قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنا ایک بے گناہ مسلمان کے قتل کے مترادف ہے؛ لہٰذا جس طرح زمین کے تنازعے میں آپ کے سوتیلے بھائی کےلیے قتل کرنا شرعاً ناجائز اور حرام تھا، اسی طرح اولیاءِ مقتول کا خود بدلہ لینا، پھر اصل قاتل کو چھوڑ کر آپ کے اُس حقیقی بھائی کو قتل کرنا جو ان سے صلح بھی کر چکا تھا، یہ بھی سخت ناجائز اور حرام تھا۔ جواباً آپ لوگوں کا اپنے بے گناہ بھائی کے اصل قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا تو درست تھا، لیکن قاتل نہ ہونے کے باوجود اس کے والد پر ایف آئی آر درج کروانا، اسے جیل بھجوانا اور پھر رہائی کے بعد اسے قتل کرنا بھی شرعاً ناجائز تھا، کیونکہ وہ قتل کا مرتکب نہیں تھا۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ [البقرة/178]
﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾(البقرة: 188)
﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ﴾(الشورى: 41)
الأحاديث النبویۃ ﷺ
الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا(سنن الترمذي، كتاب الأحكام)
عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ(سنن أبي داود)
الأشباه والنظائر للسيوطي (ص: 83)
[القاعدة الرابعة: الضرر يزال]أصلها قوله صلى الله عليه وسلم «لا ضرر ولا ضرار» أخرجه مالك في الموطأ عن عمرو بن يحيى عن أبيه مرسلا وأخرجه الحاكم في المستدرك والبيهقي والدارقطني، ومن حديث أبي سعيد الخدري وأخرجه ابن ماجه من حديث ابن عباس وعبادة بن الصامت. اعلم أن هذه القاعدة ينبني عليها كثير من أبواب الفقه من ذلك: الرد بالعيب، وجميع أنواع الخيار: من اختلاف الوصف المشروط، والتعزير، وإفلاس المشتري، وغير ذلك، والحجر بأنواعه، والشفعة، لأنها شرعت لدفع ضرر القسمة. والقصاص، والحدود، والكفارات، وضمان المتلف، والقسمة، ونصب الأئمة، والقضاة، ودفع الصائل، وقتال المشركين، والبغاة، وفسخ النكاح بالعيوب، أو الإعسار، أو غير ذلك
الدر المختار: (کتاب الجنایات، 158/10، ط: زکریا)
"وموجبہ القود عینا فلایصیر مالاً إلا بالتراضي فیصح صلحًا ولو بمثل الدیۃ أو أکثر"
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
30/6/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


