| 89850 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہماری مسجد جامع مسجد امی عائشہ اور جامعہ رشیدیہ حنفیہ روڈ سلطان، تحصیل 18 ہزاری، ضلع جھنگ میں واقع ہے۔ مسجد و مدرسہ کے ساتھ جی ٹی روڈ ہے، مین اڈہ ہے اور مشرقی جانب مین بازار ہے۔ ہمارے ہاں جمعہ کے دن جمعہ کی پہلی اذان بیان کے بعد اور دوسری اذان سنتوں کے بعد، عربی خطبہ سے پہلے دی جاتی ہے۔ اس بارے میں فتویٰ چاہیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جمعہ کی پہلی اذان کے بعد سعی الی الجمعہ واجب ہو جاتی ہے، اس کے بعد جمعہ کی تیاری کے علاوہ دوسرے کام، مثلاً خرید و فروخت وغیرہ کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔
چونکہ آج کل لوگوں میں دین کے بارے میں بڑی بے اعتنائی پائی جا رہی ہے، اس لیے بعض مساجد میں لوگوں کو ترکِ سعی کے گناہ سے بچانے کے لیے اذانِ اول بیان و تقریر کے بعد دینا شروع کیا گیا ہے، تاکہ حتی الامکان لوگ اس گناہ سے بچ جائیں۔ اور یہ طریقہ بھی جائز ہے، بس فرق اتنا ہے کہ پرانے طریقے پر عمل کرنے والی مساجد میں پہلی اور دوسری اذان کے درمیان وقفہ زیادہ ہوتا ہے، اور ان مساجد میں وقفہ کم ہوتا ہے۔
لہٰذا اگر اس پر عمل کرتے ہوئے جمعہ کی پہلی اذان اردو تقریر کے بعد دی جائے تو بھی جائز ہے، لیکن اگر کسی مسجد والے اپنے پرانے طریقے ہی پر قائم رہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے پرطعن کرنا یا اس کو بنیاد بنا کر مسجد میں کوئی فتنہ کھڑا کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
التفسير المظهري - (9 / 281)
(مسئلة) قيل المراد بهذا النداء فى الاية الاذان عند قعود الامام على المنبر للخطبة لحديث ابن يزيد قال كان النداء يوم الجمعة اوله إذا جلس الامام على المنبر على عهد النبي - صلى الله عليه وسلم - وابى بكر وعمر فلما كان عثمان وكثر الناس زاد النداء الثالث على الزوراء وتسميته ثالثا باعتداد الاقامة ثانيا فعلى هذا قيل السعى الى الجمعة وترك البيع ونحوه انما يجب بالنداء الثاني والصحيح ان السعى وترك البيع ونحوه يجب بالأذان الاول لعموم قوله تعالى إذا نودى للصلوة من يوم الجمعة وصدقه على الاذان الاول ايضا.
النهر الفائق شرح كنز الدقائق - (1 / 364)
ووجب (السعي إليها) أي: لزم (وترك البيع) أراد به كل عمل ينافيه وخصه اتباعًا للآية، فظاهر كلامه منعه أيضًا، ولو مع السعي إلا أنه في السراج جزم بعدم كراهته إذا لم يشغله وينبغي التعويل على الأول، وقد قال في (المضمرات): إنه في المسجد أعظم وزرًا (بالأذان الأول) الواقع بعد الزوال رواه الحسن عن الإمام، لأنه لو اعتبر الثاني لفاتته السنة وسماع الخطبة وربما فاتته الجمعة إذا كان بيته بعيدًا واعتبر بعضهم الثاني لأنه الذي كان في زمنه - صلى الله عليه وسلم - والشيخين بعده.
قال البخاري: فلما كثر الناس في زمن عثمان زادوا النداء على الزورا موضع بسوق المدينة، وفي (البدائع) هي منارة أو حجر كبير وجزم المصنف بالأول لأنه الأصح، وفي (المعراج) أكثر فقهاء الأمصار على الثاني، قال العتابي: وهو المختار
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (2 / 161)
(ووجب سعي إليها وترك البيع) ولو مع السعي، في المسجد أعظم وزرا (بالأذان الأول) في الأصح وإن لم يكن في زمن الرسول بل في زمن عثمان. وأفاد في البحر صحة إطلاق الحرمة على المكروه تحريما
(قوله في الأصح) قال في شرح المنية. واختلفوا في المراد بالأذان الأول فقيل الأول باعتبار المشروعية وهو الذي بين يدي المنبر لأنه الذي كان أولا في زمنه - عليه الصلاة والسلام - وزمن أبي بكر وعمر حتى أحدث عثمان الأذان الثاني على الزوراء حين كثر الناس. والأصح أنه الأول باعتبار الوقت، وهو الذي يكون على المنارة بعد الزوال. اهـ.
الفتاوى الهندية - (1 / 149)
ويجب السعي وترك البيع بالأذان الأول، وقال الطحطاوي: يجب السعي ويكره البيع عند أذان المنبر وقال الحسن بن زياد المعتبر هو الأذان على المنارة والأصح أن كل أذان يكون قبل الزوال فهو غير معتبر والمعتبر أول الأذان بعد الزوال سواء كان على المنبر أو على الزوراء، كذا في الكافي.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
29/07/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


