03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ازدواجی تعلق کے بغیر عدت کا حکم
89906طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

میری شادی کو 11 سال ہو گئے ہیں، لیکن ہمارا کوئی ازدواجی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اولاد ہے۔ میرا شوہر ایک پیسہ نہیں کماتا، سارا گھر میں چلاتی ہوں۔ وہ پاکی ناپاکی کا بھی خیال نہیں رکھتا اور نہ ہی نماز پڑھتا ہے۔ وہ مجھے کوئی سہولت نہیں دیتا۔ اگر ہماری طلاق ہو جائے تو کیا مجھ پر عدت گزارنا لازم ہوگی؟ میں نوکری کرتی ہوں اور اتنی چھٹیاں نہیں لے سکتی۔ براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میاں بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ قائم ہوئی ہو، یعنی انہیں تنہائی میں ملنے کا ایسا موقع ملا ہو جس میں ازدواجی تعلق قائم کرنے سے کوئی شرعی یا طبعی رکاوٹ نہ ہو، اگرچہ کسی وجہ سے وہ تعلق قائم نہ کرسکے ہوں، تو طلاق کی صورت میں عورت پر عام مطلقہ عورتوں کی طرح مکمل عدت گزارنا لازم ہوگی۔

طلاق کی صورت میں عدت کے دوران شرعی طور پر بیوی کا خرچہ مرد کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر شوہر اس میں کوتاہی کرے اور عورت کے پاس گزارے کی کوئی اور صورت نہ ہو تو وہ اپنی ناگزیر ضروریات کی وجہ سے، پردے کے اہتمام کے ساتھ دن میں صرف اتنی دیر کے لیے ملازمت کر سکتی ہے جس سے اس کی روزمرہ کا ضروری خرچہ پورا ہو سکے۔

طلاق یا خلع کا فیصلہ ازدواجی زندگی میں آخری راستہ ہونا چاہیے، اس لیے اس انتہائی اہم قدم کو اٹھانے سے پہلے خاندان کے سمجھدار بڑوں کو درمیان میں بٹھا کر معاملات کو سلجھانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اگر وہ بھی جدائی کا ہی فیصلہ کریں تو ایک طلاق رجعی لے لی جائے، تا کہ اگر دوبارہ رجوع کی ضرورت ہو تو موقع باقی رہے۔

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار(ص:258)

قال العلامۃ محمد بن علی الحصکفی رحمہ اللہ: النَّفَقَة: هي لغةً: ما ينفقه الإنسان على عياله ،وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس.

الدر المختار (224/5)

(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل أو تخاف انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات، فتخرج لأقرب موضع إليه.

فتح القدیر(218/4)

قال العلامۃ ابن الہمام رحمہ اللہ: قال الله عز وجل وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكماً من أهله وحكماً أهلها إن يريدا إصلاحاً يوفق الله بينهما) [النساء : ٣٥] ضمير يريدا للحكمين وضمير بينهما للزوجين، وقيل: للحكمين أيضاً، وقيل: الضميران للزوجين، والأولى أن يكون الحكمان من أهليهما كما ذكر الله تعالى. 

الاختيار لتعليل المختار(138/3)

قال العلامۃ الموصلي رحمہ اللہ:أبغض المباحاتِ إلى الله الطلاق، وعلى وقوعه انعقد الإجماع، ولأن استباحة البضع ملكُ الزّوج على الخصوص، والمالك الصحيحُ القول يملك إزالة ملكه كما في سائر الأملاك، ولأن مصالح النكاح قد تنقلب مفاسد، والتوافُقُ بين الزوجين قد يصير تنافراً، فالبقاء على النكاح حينئذ يشتمل على مفاسد من التباغض والعداوة والمَقْت وغير ذلك، فشُرِع الطلاق دفعاً لهذه المفاسد، ومتى وقعَ لغير حاجة، فهو مباح مبغوض ، لأنه قاطع للمصالح، وإنَّما أُبيحتِ الواحدة للحاجة، وهو الخلاص على ما تقدّم، وفي الحديث: "ما خَلَقَ الله تعالى مباحاً أحب إليه من العتاق ولا خَلَقَ مُباحاً أبغض إليه من الطلاق ".

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

8 شعبان المعظم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب