| 89943 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میں پشتو میں بار بار اپنی بیوی کو طلاق کی دھمکی دیتا تھا ۔لیکن ابھی بعض الفاظ یاد ہیں بعض الفاظ یاد نہیں ہیں لیکن یہ یاد ہے کہ میں جب بھی دیتا تھا تو طلاق کی دھمکی ہی دیتاتھا ۔جو الفاظ مجھے یاد ہیں وہ میں بتا دیتا ہوں :طلاق بہ درکم "یعنی طلاق دوں گا ۔"طلاق بدی کم "یعنی طلاق دے دونگا ۔"چپ شہ کنہ طلاق بہ درکم "یعنی چپ ہوجا ؤ ورنہ طلاق دے دوں گا ۔ "کہ تہ زما پہ طریقہ نہ چلیگی نو طلاق بہ درکم "یعنی اگر تم میرے طریقہ سے نہیں چلو گی تو طلاق دے دوں گا ۔اب جتنا مجھے یاد ہے وہ میں نے بتا دیا ۔باقی اور بھی دھمکی دیتا تھالیکن مجھے یاد نہیں آرہا ۔لیکن یہ یاد ہے کہ دھمکی ہی دیتا تھا ۔پھر بھی مجھے شک ہے کے ان الفاظ کے علاوہ وہ الفاظ جو مجھے یاد نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ ان الفاظ سے کہیں طلاق واقع نہ ہوئی ہو ۔اور ایک بات جو مجھے یاد ہے لیکن اللّه کی قسم واضح نہیں ہے ۔دو تین الفاظ ہیں :۔1 طلاق درکوم ۔یعنی طلاق دیتا ہوں "یا "طلاق بہ درکم "یعنی طلاق دوں گا ۔یا طلاق درکومہ" یعنی طلاق دے رہا ہو ۔ان تین الفاظ میں مجھے شک ہے کہ کونسے الفاظ بولے تھے ۔ لیکن یہ یاد ہے کے ان الفاظ میں جو بھی میں نے کہا تھا ۔ میرا ضمیر الفاظ بولنے کے بعد تھوڑا سا ہلا تھا ۔ میں نے youtube پر search کیا تو پتا چلا کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی ۔پھر نارمل زندگی چلتی رہی ۔ایک رات مجھے خواب آیا خواب میں ،میں کہتا ہو ں اگر میری بیوی مجھ سے طلاق مانگ لے ۔تو پھر بھی میں طلاق نہیں دونگا ۔ یہ خواب دیکھنےکے بعد آج تک میں ذہنی مریض بن چکا ہوں سکون نہیں ہے بہت وہم ہوتا ہے زندگی جہنم بن چکی ہے بہت تکلیف میں ہو ۔یہ جو 3 الفاظ میں مجھے شک ہے ان کے بارے میں رہنمائی فرما دیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں بتائی گئی تفصیل کے مطابق محض دھمکی دینے سے طلاق واقع نہ ہوگی تاہم دوسری صورت میں بھی سائل کو اگر اپنے الفاظ یقینی طور پر یاد نہ ہوں، محض شک ہو کسی ایک جانب غالب گمان نہ ہو تو ایسی صورت میں محض شک کی بناء پر سائل کے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، لہذا سائل اور اس کی بیوی حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ تاہم آئندہ اس طرح کے الفاظ سے بھی اجتناب لازم ہے، جن سے بے جا شکوک و شبہات پیدا ہو کر گھر کا سکون خراب ہو۔
حوالہ جات
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 38):
(سئل) في رجل له زوجة موافقة لأمها مطيعة لها وكل منهما في مسكن على حدة فقال لزوجته ما دمت مع أمك تكوني طالقة فانقطعت عن موافقتها وإطاعتها مدة ولفظ تكوني مغلب في الحال ونيته في المعية المذكورة ما ذكر من الموافقة والإطاعة لها فما الحكم؟
(الجواب) : صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام وحيث تركت ذلك المدة المذكورة فإذا عادت لموافقتها وإطاعتها لا يقع عليه الطلاق لأن كلمة ما دام غاية ينتهي اليمين بها كما تقدم عن التنوير وشرحه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 283):
علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا. ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 37):
«(سئل) في الرجل إذا شك أنه طلق أم لا فهل لا يقع عليه الطلاق؟
(الجواب) : نعم لا يقع كما في الأشباه أي في قاعدة الأصل براءة الذمة.
عادل ارشاد
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۵/شعبان المعظم /۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


