| 89903 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے والد (مرحوم) کے ورثہ میں ماں، تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ والد کی زندگی میں ایک بیٹے کو 34 لاکھ روپے بطور تحفہ دیے گئے۔ والد کی وفات کے بعد ماں نے اپنی ذاتی رقم ملا کر دو بیٹوں کے لیے 10 مرلے کا پلاٹ خرید کر دیااس وقت والدہ نے کوئی شرط وغیرہ نہیں لگائی تھی کہ اس پلاٹ کے پیسے وہ بیٹوں سے بعد میں وصول کرے گی یعنی یہ قرض ہے اور اس کی بھی صراحت نہیں تھی کہ یہ ہبہ ہے ۔ اب والد کے باقی دو بیٹوں کا شرعی حصہ (تقریباً 11 لاکھ 75 ہزار روپے فی کس) ماں کے پاس ہے، مگر وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ پہلے پلاٹ میں پیسے میں نے دیے تھے اس لیے اب یہ حصہ نہیں دیا جائے گا۔ ایک بیٹے کے نکاح کے وقت 4 تولہ سونا لکھا گیا تھا، اس میں سے ایک تولہ کی چوڑی ماں نے اپنے پاس رکھ لی ہے اس لیے کہ چھوٹے بیٹے کی شادی کے لیے پیسے نہ ہوئے تو یہ بیچ کر شادی پر خرچ کروں گی جبکہ اس بھائی کی شادی بھی ہوگئی ہے اس کو حصہ بھی مل گیا ہے جس بھائی کے نکاح میں سونا لکھا تھا اس کو یہ سونے کی چوڑی بھی نہیں دےرہی اور کہتی ہیں کہ پلاٹ خریدا تھا تو اس میں آگیا ۔ براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں: ۱۔کیا والد کی زندگی میں دیا گیا تحفہ کسی ایک بچے کو دینا جائز ہے اور باقی بچوں کا اس میں حصہ طلب کرنا شرعی طور پر جائز یا ناجائز ہے؟۲۔ کیا ماں کے لیے جائز ہے کہ وہ بعد میں شرط لگائے کہ پہلے پلاٹ کے پیسوں کی بنیاد پر وراثت کا حصہ ختم ہو گیا؟کیا ماں شرعی حصہ روک کر رکھ سکتی ہیں اور دوسروں کا حصہ اپنی مرضی سے دے سکتی ہیں؟۳۔ نکاح میں لکھا ہوا سونا روکنا جائز ہے یا نہیں؟ اس پورے معاملے میں شرعی طور پر حق کس کا بنتا ہے اور کون غلط ہے؟
تنقیح : سائل نے فون پر بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد میراث میں سے بڑے بھائی کو حصہ دینے کے بعد باقی ورثہ کا حصہ والدہ نے اپنے پاس رکھ لیا پھر دو بھائیوں کے لیے پلاٹ بھی خریدا اپنے ذاتی پیسوں سے اس وقت اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی کہ اس کے پیسے بیٹوں سے لوں گی اب والدہ نے دو نوں بیٹوں کا حصہ اپنے پاس روک رکھا ہے اور کہتی ہیں کہ میں نے پلاٹ میں پیسے دیے تھے لہذا اب آپ دونوں کو حصہ نہیں دوں گی جبکہ بیٹے کہتے ہیں اگر آپ نے یہ پیسے بطور قرض دے کر ہمارے لیے پلاٹ خریدنا تھا تو ہمیں بتاتی ہم آپ کو منع کردیتے لہذا ہمیں ہمارا حصہ چاہیے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۔والدین اگر اولاد میں سے کسی کو کوئی چیز ہدیہ کردیں تو باقی اولاد اتنے ہدیہ کی لازمی مستحق تو نہیں البتہ والدین کو چاہیے کہ اولاد کو ہدیہ دینے میں برابری کا خیال رکھیں ۔
۲۔والدہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی وارث کا حصہ ترکہ میں سے ختم کرے یا اس کے حصے کو روک کر رکھے ،بلکہ والدہ کو چاہیے کہ بیٹوں کو جو والد کے ترکہ میں سے حصہ ملنا ہے وہ جلد از جلد ان کے حوالے کرے۔
والدہ نے اپنے پیسوں سے بیٹوں کے لیے جو پلاٹ خریدا تھا تو وہ ان سے پیسوں کا مطالبہ کرسکتی ہیں ۔اولاد نہ لینا چاہے تو یہ پلاٹ والدہ کا رہے گا اور والدہ ان کے وراثتی حصے کے پیسے ان کو دینے کی پابند ہوں گی اور والدہ کی اجازت کے بغیر اس پلاٹ کو ہدیہ شمار کرنا درست نہیں ۔
۳۔والدہ کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ نکاح میں لکھا ہوا سونا اپنے پاس روک کر رکھے ، بلکہ ان کو چاہیے اپنا وعدہ پورا کرے اور جس کا سونا ہے اسے وہ دے دے ۔
حوالہ جات
سنن ابن ماجه (4/ 9 ت الأرنؤوط):
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمي، عن أبيه عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من فر من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة.
مشکاۃ المصابیح،887/2)ص(:
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين.
صحيح البخاري،1/ 16(:
حدثنا سليمان أبو الربيع قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان.
حاشیہ ابن عابدین،(444/4):
وفي الخانية: ولو وهب شيئاً لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى.
تنقيح الفتاوى الحامدية )4/ 425ص(:
دفع إلى ابنه مالًا فأراد أخذه صدق أنه دفعه قرضًا؛ لأنه مملك. دفع إليه دراهم فقال له أنفقها ففعل فهو قرض كما لو قال اصرفها إلى حوائجك، ولو دفع إليه ثوبا وقال اكتس به ففعل يكون هبة ؛ لأن قرض الثوب باطل، لسان الحكام في هبة المريض وغيره. دفع إلى غيره دراهم فأنفقها، وقال صاحب الدراهم أقرضتك وقال القابض لا بل وهبتني، كان القول قول صاحب الدراهم، من نكاح الخانية.
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
8/شعبان المعظم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


