| 89891 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
دو سگی بہنیں ہیں بڑی بہن طلاق یافتہ ہے اور بے اولاد ہے چھوٹی بہن شادی شدہ ہے مگر بے اولاد ھے کیا بڑی بہن چھوٹی بہن کے ساتھ اسی گھر میں جہاں چھوٹی بہن کا شوہر بھی ساتھ رہتا ہے رہ سکتی ہے؟ اس میں کوئی شرعی قباحت تونہیں ہے
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بہنوئی اپنی سالی کے لیے غیر محرم ہے، لہٰذا بغیر ضرورت کے بہنوئی کےساتھ ایک گھر میں رہنا جس میں بے پر دگی ہو جائز نہیں ۔ اگر اس بڑی بہن کا ان کے علاوہ اور کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو اور بہنوئی کے گھر رہنا نا گزیر ہو تو مکمل شرعی پردے کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہوگی ،تاہم جلد سے جلد ان کا نکاح کرادینا چاہیے۔
حوالہ جات
وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَاّ لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبائِهِنَّ أَوْ آباءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنائِهِنَّ أَوْ أَبْناءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَواتِهِنَّ أَوْ نِسائِهِنَّ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلى عَوْراتِ النِّساءِ وَلا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ ما يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (سورۃ النور31 )
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (10/ 220):
لأن المحرم من لا يجوز له نكاحها على التأييد،
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 367):
(ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته)
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
05/شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


