| 89787 | ذبح اور ذبیحہ کے احکام | ذبائح کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مروجہ مشینی ذبیحہ کا حکم کیا ہے؟ بالخصوص جبکہ ذبح کرنے کے وقت اگر درج ذیل صورتوں میں کلمہ بسم اللہ اللہ اکبر پڑ ھا جائے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
1-اگرذبیحہ کے جانورزیادہ ہوں اور ذبیحہ کرتے وقت کلمہ لاؤڈ اسپیکر میں لگا کر ان پر اکتفا کیا جائے۔
2- جس بلیڈ سے ذبیحہ کیا جار ہا ہو، اس بلیڈ پر کلمہ ذبح لکھا ہو۔
وضاحت: باہر ملکوں میں کمپنیاں جو گوشت فراہم کرتی ہیں، چاہے چکن کے ہوں یا کسی اور حلال جانور کے تو وہ بہت بڑی تعداد میں ہونے کے وجہ سے یا تو اسپیکر میں کلمہ ذبح لگا کر جانور ذبح کرتے ہیں یا پھر ایک بلیڈ ہوتا ہے جس پر کلمہ ذبح لکھا ہوتا ہے،جبکہ جانوروں کےذبح کی کثرت کے وجہ سے ہر ایک پر خود کلمہ نہیں پڑھا جاتا۔ تو اس ذبیحہ کا شر عی حکم بیان فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا
نوٹ:بندہ کاروباری شخصیت ہے اور دینی امور کا پابند ہے اور امریکہ میں Fast food کاکاروبار کرنا چاہتا ہے،اگر درجہ بالا امور بالفرض خلاف شر ع ہیں تو برائے کرم ایک متبادل بتائیں جس پر عمل آسان اور شریعت میں جائز ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مشینی ذبیحہ بالخصوص سؤال میں پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم جاننے سے پہلے اسلام میں ذبح کی حیثیت ومقام اور احکام یعنی شرائط وحدودوآداب کا جاننا ضروری ہے اور اس کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ مروجہ مشینی ذبیحہ کے مطلقاجواز کے پیچھے کونسی سوچ کار فرما ہے؟ اور اس کی علمی واستدلالی حقیقت کیا ہے؟
انسانی تاریخ میں جانور وں کے ذبح کا عمل اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسانی تاریخ قدیم ہے اس لیے کہ انسان فطری طور پر گوشت خور حیوان ہے، نیز ذبح کے بارے میں اسلامی تعلیمات بھی متفق ہیں، چنانچہ چاروں بڑی آسمانی کتابوں تورات انجیل اور زبور اور قرآن مجید میں اسلامی تعلیمات کے مطابق جانور ذبح کرنا ایک شرعی ذمہ داری، بلکہ شعائر اسلام( دین اسلام کی امتیازی علامات وتعلیمات) میں سے ہے جس کے لیے شریعت میں ایک مخصوص و متعین طریقہ کار ہے جومکمل طور پر آسمانی تعلیمات ،بالخصوص قرآن وسنت سے ثابت ہے، جس کی تفصیل آگےرہی ہے، لہذا محض حسی طور پر کسی بھی طریقہ سے جانور کو ماردینا یا اس کا گلا کاٹ دینا شریعت کی نظر میں ذبح نہیں ،لہذا ایسے طریقے یا ذریعہ سے ذبح کئے گئے جانور شرعی مذبوحہ نہیں قرار پائیں گے۔چنانچہ قرآن مجید نے جانور کی ذبح کے بارے میں عرب کے علاقے میں مروج جملہ غلط طریقوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور ان کی تردید فرمائی ہے اور اس کے بعد اسلامی طریقہ کو دو الفاظ سے بیان فرمایا ہے ،ایک لفظ ذکاۃ ہے جس کا تعلق فعل اور عمل سے ہے جس کی دو قسموں اختیاری واضطراری میں سے اختیاری قسم کی تشریح وتفسیر احادیث صحیحہ میں گلے کی جانب سے حلق اور لبہ کے بیچ میں کاٹنے سے کی گئی ہے (حدیث) اورپھر اس ذکاۃ اختیاری کی مزید دو صورتیں ہیں (۱) ذبح ۔ گائے بیل بکری کے لیے اور(۲) نحر۔ اونٹ کے لیے، لہذا بجلی کے جھٹکے سے موت واقع کرنا یا مشین کے ذریعہ کسی تیز دار یا وزن دار چیز کے جھٹکے سے سرا تن سے جدا کرنا ناجائز اور حرام فعل ہے اور اس طرح مذبوحہ جانور بھی بالاتفاق حرام ہے، جبکہ گردن کی پشت کی جانب سے گلا کاٹنا ناجائز اور باتفاق جمہور امت خلاف شریعت اور گناہ ہے ،البتہ جانور جمہور کے نزدیک حلال ہوگا،بشرطیکہ گردن کی رگوں کے کٹنے سے پہلے جانور کی موت واقع نہ ہونا یقینی ہو،لہذا تیز رفتار چھری سے کاٹنے کی صورت میں حلال، جبکہ آہستہ چلنے والی چھری کی صورت میں رگیں کاٹنے سے پہلے موت واقع نہ ہونےکا یقین ضروری ہے،جبکہ بعض صحابہ کرام کے نزدیک گردن کی پشت سے ذبح کی صورت میں طریقہ کار ناجائز ہونے کے علاوہ مطلقا جانور کا گوشت بھی حرام ہے اوردوسرا لفظ تسمیہ ہے جس کا تعلق ذابح کے قول اور زبانی ذکر سے ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں کے شرعی مفاہیم، یعنی حدود وشرائظ وآداب کو بھی احادیث وآثار صحابہ وتابعین میں تفصیل سے بیان فرمایا گیاہے،مثلا یہ کہ بسم اللہ ذابح خود متصلا پڑھے اور معین ذابح پر بھی بسم اللہ پڑھنا لازم ہے اور ہر ذبح پر مستقل بسم اللہ پڑھنا ضروری ہےاور نیز یہ کہ مذبوحہ جانور کے حلال جانور ہونے کے علاوہ حقیقۃ ( خود چھری چلانےکی صورت میں)یا حکما ( یعنی بٹن دبانے کی صورت میں) ذابح کا انسان اور مذہبی( مسلمان یا کتابی یعنی یہودی وعیسائی) ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔لہذا لاؤڈ اسپیکر یا کسی بھی دوسرے آلہ کے ذریعہ بسم اللہ کی ریکارڈنگ چلانے یا ذابح کے علاوہ کسی اور کے بسم اللہ پڑھنے یا محض بسم اللہ لکھی چھری سے ذبح سے شرعا وہ جانور مذبوح اور حلال نہیں ہوگا۔
بعض نام نہاد مفکرین ومجتہدین بلکہ تجدد پسند اور مغربیت سے مرعوب ذہنوں نے ذبح کو امور عادیہ طبعیہ میں سے قرار دے کر اس کے لیے قرآن وسنت میں بیان کی گئی پابندیوں کو حالات اور زمانے کے لحاظ سے وقتی اور عارضی احکام قرار دیا ہے، لہذا ان کے نزدیک کسی بھی طرح سے جانور کو بالقصد مارا جائے تو وہ حلال ہوگا۔لیکن یہ نظریہ واضح طور پر دلائل شرع کے علاوہ تاریخ ذبح اورقدیم وجدیدفلسفہ ذبح کے بھی خلاف ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ
تاریخ ذبح اور اسلامی تعلیمات:
جیساکہ اوپر بتایا جاچکا کہ جانور ذبح کرنے کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ تقریباخود انسان کی تاریخ قدیم ہےچنانچہ,یہ سب جانتے ہیں کہ دنیا میں گوشت خوری کا دستور انتہائی قدیم ہے، اور انسان فطرتا گوشت خور ہے ،چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی قربانی کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے، اور سورہ حج میں بھی ولکل امۃ جعلنا منسکا لیذکروا اسم اللہ علیہ میں بھی اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے، البتہ انسان کے گوشت خوری کی ابتدائی مرحلہ اور شکل کیا تھی؟ اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں ملی، البتہ اتنی بات یقینی ہے کہ جانور کے ذبح یا قربانی کا کوئی مخصوص طریقہ ہر امت میں آسمانی تعلیمات کے مطابق رہا ہے اور ان میں قدر مشترک ذبح اور تسمیہ باسم اللہ رہاہے ، لہذا حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے لے کر آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام ادیان سماویہ میں حلال گوشت جانور کے گوشت کھانے کے لیے یہ دو بنیادی شرطیں مسلم اور اتفاقی ہیں۔البتہ ہر دور میں نبی کے جانے کے بعد اس کے دین میں تحریف وتبدیل اور رسوم وتوہمات کا سلسلہ ہر دور میں رہا ہے ،لہذا حضرت ابراہیم ، موسی وعیسی علیہم السلام کے بعد بھی ان کےا دیان سماویہ میں تحریف ہوتی گئی اور اسلام سے پہلے مشرکین وکفار یہود ونصاری جانوروں کا گوشت کھانے کے عجیب عجیب طریقے بغیر کسی پابندی کے اختیار کئے ہوئے تھے، مثلامردار کا گوشت کھایا جاتا تھا ، زندہ جانور کے کچھ اعضاء کاٹ کر کھالئے جاتے تھے، جانور کی جان لینے کے لئے بھی انتہائی بے رحمانہ سلوک کیا جاتا تھا، کہیں لاٹھیوں سے مار کر کہیں تیروں کی بوچھار کر کے جانور کی جان لی جاتی تھی۔
اسلام نے سب سے پہلے تو یہ تفریق کی کہ مردار کا گوشت حرام کیا ، جو انسان کی جسمانی اور روحانی دونوں صحتوں کو برباد کرنے والا ہے، ان جانوروں کو حرام قرار دیا ، جن کے گوشت سے اخلاق انسانی مسموم ہو جاتے ہیں مثلا خنزیر، کتا، بلی، درندہ جانور وغیرہ پھر جن جانوروں کو حلال کیا، ان کا گوشت کھانے میں بھی ایسا یا کیزہ طریقہ بتلایا جس سے ناپاک خون زیادہ سے زیادہ نکل جائے اور جانور کو تکلیف کم سے کم ہو،ا نہیں اصول پر انسانی صحت اور غذائی اعتدال میں اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا ، جیسا کہ موجودہ زمانے کے بعض ڈاکٹروں نےبھی جدید تحقیق کے ساتھ اس کو ثابت اور تسلیم بھی کیا، لہذااسلام نے جانور کا گوشت کھانے میں انسان کو آزاد نہیں چھوڑا کہ جس طرح درختوں کے پھل اور ترکاریاں وغیرہ کو جس طرح چاہیں کھائیں، اسی طرح جانور کو بھی جس طرح چاہیں کھا جائیں۔
یہ ظاہر ہے کہ انسان کی غذا خواہ نباتات سے ہو یا حیوانات سے ہو ، سب اللہ کی پیدا کی ہوئی نعتیں ہیں اور اس حیثیت سے ہر کھانے کو اللہ کا نام لے کر کھانا اور کھانے سے فارغ ہوکراللہ کا شکرادا کرنا سنت اسلام ہے، جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وفعل سے اتنا عام کیا کہ وہ ایک اسلامی شعار بن گیا، لیکن جانوروں کے ذبح پراللہ کانام لینے کامعاملہ اس سے کچھ آگے ہے کہ جانور کا گوشت اس کے بغیر حلال ہی نہیں ہوتا، کوئی غافل انسان ترکاری، پھل وغیرہ کو بغیر اللہ کے نام کے کاٹے کھائے تو اسے غافل تارک سنت تو کہا جائے گا لیکن اس کے کھانے کو حرام نہیں کہا جا سکتا۔ بخلاف جانور کے کہ اس کے ذبح کے وقت بسم اللہ کہنا اس کے حلال ہونے کی شرط ہے، اس کے بغیر سارے آداب ذبح پورے بھی کر دیے جائیں، تو بھی جانور مردار و حرام ہے۔
ذبح اسلامی کا فلسفہ :سائنسی اور عقلی پہلو ( حکمتیں اور مصلحتیں):
حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ نے حجۃ اللہ البالغہ اور حضرت مولا نا محمد قاسم نانوتوی صاحب رحمہ اللہ تعالی نے حجۃ الاسلام میں اور حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالی نے اشرف الجواب اور احکام اسلام عقل کی نظر میں نامی کتابوں میں، اسلامی ذبیحہ کی حکمت اور اس کے مصالح پر بصیرت افروز تحقیقات فرمائی ہیں ، یہاں ان سب کو پورا نقل کرنے کا موقع نہیں اور نہ ہی ضرورت ہے،البتہ ان میں سے ایک بات بنیادی اہمیت رکھتی ہےکہ جانوروں کا معاملہ عام نباتی مخلوقات کا سا نہیں، کیونکہ ان میں انسان کی طرح روح ہے، انسان کی طرح دیکھنے ، سننے، سونگھنے اور چلنے پھرنے کے آلات و اعضاء ہیں، انسان کی طرح ان میں احساس وارادہ اور ایک حد تک ادراک بھی موجود ہے، اس کا سرسری تقاضا یہ تھا کہ جانور کا کھانا مطلقاً حلال نہ ہوتا، لیکن حکمت الٰہیہ کا تقاضا تھا کہ اس نے انسان کو مخدوم کا ئنات بنایا ،جانوروں سے خدمت لینا، ان کا دودھ پینا، اور بوقت ضرورت ذبح کر کے ان کا گوشت کھا لینا بھی انسان کے لئے حلال کر دیا، مگر ساتھ ہی اس کے حلال ہونے کے لئے چند ارکان اور شرائط بتلائے جن کے بغیر جانور حلال نہیں ہوتا، اس لیے کہ جس طرح ذبح کی ظاہری صورت جانور کے جسم سے زائد اور فاسد خون کو خراج کردیتا ہے جس کی وجہ سے خون غیر ضروری بلکہ مضر کاربن کے اثرات سے صاف ہوجاتا ہے، اسی طرح بسم اللہ کہنے سے گوشت روحانی ومعنوی پلیدی اور ناپاکی سے بھی صاف ہوجاتا ہے، اس لیے کہ مذہبی تعلیمات کے مطابق شیطانی اور جنی مخلوق کا وجود اور اس کے انسان کے دیگر حیوانات کے جسم اور خوراک پر اثر اندازی کو تسلیم کیا گیا ہے ،لہذا جانور کے گوشت کو بھی شیطانی اثر اندازی سے بچانے کے لیے ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھنے کو لازم قرار دیا ہےنیز بسملہ پڑھنے کی شرط لگانے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ روح حیوانی کا اصل وحقیقی مالک اللہ تعالی ہی ہے ،لہذاکسی جاندار کی جان لینا صرف اسی کی اجازت سے ہوسکتا ہے ،لہذا بسملہ کے پڑھنے میں اسی مالکانہ اجازت کا اقرار واظہار بھی ہے،نیز اسلامی طریقہ ذبح میں جس طرح انسانی صحت کی مصلحت ملحوظ ہے ،اسی طرح اس میں جانوروں کی فلاح وبہبود کی مصلحت بھی ملحوظ ہے، چنانچہ سائنسدانوں( جن میں اکثریت غیر مسلموں کی ہے )نے تجربات کے بعد اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جانوروں کی جان لینے کا اسلامی طریقہ ذبح سے بہتر کوئی طریقہ نہیں، اس لیے اس میں جانور کو اذیت کا احساس نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کی روح مسامات جسم کھلنے سے آسانی سے نکلتی ہے۔(مزید تفصیل کے لیے احکام اسلام عقل کی نظر میں از تھانوی رحمہ اللہ تعالی ملاحطہ ہو۔)
اسلام میں ذبح کی حیثیت و مقام اور متجددین زمانہ:
بعض نام نہاد اسلامی اسکالر اور متجددین زمانہ نے قرآن کے اس اصطلاحی لفظ (ذکوة )کو بھی تمام فقہاء ومفسرین، محدثین اسلام کے خلاف ایک نئے اور منگھڑت معنی پہنائے جس کا خلاصہ ان کی تحقیق سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ذکوة ( جانورحلال کرنے)کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ کسی جانور کو کھانے کی نیت سے بالقصد مارا جائے ، مارنے کی صورت کچھ بھی ہو، انھوں نے ذکو ۃ اختیاری کو بھی قرآن وسنت کی تصریحات کے خلاف غیر اختیاری ذکاۃ یعنی شکار پر قیاس کر کے ایک کرڈالاہے اور اختیاری ذکوۃ میں باتفاق امت جو حلقوم کی رگوں کے کاٹنے کی شرط ہے، انہوں نے اس کا بھی انکار کردیا ہے اور یہاں تک پہنچ چکے کہ جوجانور بجلی کے کرنٹ کے ذریعہ ماردیا جائے وہ بھی حلال ہے ،اور حلال ہی نہیں بلکہ افضل اور مستحسن بھی ہے،بلکہ ان متجددین کے اس اجتہاد کا تکملہ یہ بھی ہے کہ ان کے نزدیک جانور کا گلا گھونٹ دیا جائے تو وہ بھی حلال ہے، اور اس بارے میں قرآنی آیت کی صریح مخالفت کا جواب منخنقہ اور مخنوقہ کی بحث کا مغالطہ سے پیش کر کے دیا ہے جو تمام صحابہ کرام ،تابعین اور جمہور امت کے خلاف ہے ،اسی طرح ان حضرات میں سے بعض نے تو ذبیحہ پر اللہ تعالی کانام لینے کی ضرورت کا بھی انکار کیا ہے اور اس کو واضح الفاظ میں امور عادیہ میں سے قرار دینے کی کوشش کی ہے، جس کو ان کے دلائل دیکھنے ہوں ہوں وہ مصر کے عالم رشید رضا مصری کی تفسیر المنار کی جلد ششم کا مطالعہ کرلے۔چنانچہ اس نام نہاد وبے لگام اجتہاد بے احتیاطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس دور آزادی اور دین بیزاری میں مغرب زدہ ذہنوں نے اس رائے اور سوچ کو خوب ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس پر بڑے پیمانے پر عمل پیرا بھی ہوئے ، جیساکہ مغربی ممالک سے لکھے گئے استفتاء میں پوچھےگئےطریقہ کار کے پیچے یہی سوچ اور فکر کارفرما نظر آتی ہے۔
حقیقت حال یہ ہے کہ اسلام کے قرن اول سے لے کر آج تک کے ہر طبقے اور ہرفرقے کے مسلمان اس عقیدہ پر متفق ہیں کہ معاشرتی امور میں سے نکاح و طلاق کی طرح ذبیحہ بھی ایک تشریعی امر یعنی خالص مذہبی معاملہ ہے، جو قرآن وسنت کے مقرر کردہ اصول و شرائط کے بغیر حلال نہیں ہوتا ، اسی لئے اس پر بسم اللہ پڑھنا الاجماع اور ذبح کرنے والے کا مسلمان یا اہل کتاب میں سے ہو نا نص قرآنی سے شرط قرار دیا گیاہے جو خالص مذہبی تعلیم ہے،لہذااس کو محض امر عادی قرار دینا اور یہ کہنا کہ کوئی بھی کسی بھی طرح بسم اللہ پڑھ کر ذبح کردے یا کسی بھی طرح جانور کا سر تن سے جدا کردیا جائےتو یہ جائز ہوگا اور جانور حلال ہوگا، ہرگز درست نہیں،اسی طرح ذبح کے وقت بسملہ کو مختلف فیہ قرار دینابھی خلاف تحقیق وحقیت ہے۔(مزید تفصیل اور دلائل کے لیےجواہر الفقہ:ج۶،ص۱۸۸ تا ۱۹۹ ملاحظہ ہو۔)
صحیح بخاری کی حدیث میں اسلامی ذبیحہ کو ان شعائر میں شمار فرمایا ہے جن سے مسلمان کا مسلمان ہونا پہچانا جاتا ہے، حدیث کے الفاظ یہ ہیں:من صلى صلوتنا و استقبل قبلتنا و اكل ذبيحتنا فذالك المسلم الذي له ذمة الله و رسوله .(صحیح بخاری باب استقبال القبلة)
جس نے ہمارے جیسی نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف نماز میں رخ کیا ، اور ہمارا ذبیحہ کھایا ، وہ ہی مسلمان ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہے۔
اس میں جس طرح نماز اور اسلامی قبلہ کو مسلمان کی علامت قرار دیا ہے، اسی طرح اسلامی ذبیحہ کو اسلام کا شعار اور علامت بتلایا ہے۔
بلکہ صحیح بخاری ہی میں اس سے زیادہ صریح ایک اور روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
صحيح البخاري ـ م م (1/ 87):
392 - حدثنا نعيم قال حدثنا ابن المبارك عن حميد الطويل عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها وصلوا صلاتنا واستقبلوا قبلتنا وذبحوا ذبيحتنا فقد حرمت علينا دماؤهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله
فتح الباري - ابن حجر (1/ 496):
وفيه إن أمور الناس محمولة على الظاهر فمن أظهر شعار الدين أجريت عليه أحكام أهله ما لم يظهر منه خلاف ذلك
ایک حدیث میں مجوسی کفار کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ان کے ساتھ وہ ہی معاملہ یا جائے ، جو اہل کتاب کے ساتھ کیا جاتا ہے ، صرف دو چیزوں کا فرق ہے وہ یہ کہ: غیر ناکحی نسائهم و لا أكلى ذبيحتهم.یعنی نہ تو ان کی عورتوں سے مسلمان کا نکاح جائز ہے، نہ ان کا ذبیحہ کھانا جائز ہے۔
تحفة الأحوذي لمحمد المباركفوري (10/ 35):
وأخرج عبدالرزاق وابن أبي شيبة في مصنفيهما عن علي رضي الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كتب الى مجوس هجر يعرض عليهم الاسلام فمن أسلم قبل منه ومن لم يسلم ضرب عليهم الجزية غير ناكحي نسائهم ولا آكلي ذبائحهم
اس حدیث میں یہ بات اور واضح ہوگئی کہ نکاح اگر چہ بنیادی طور پرانسانی عادات اور معاشرتی امور میں سے ہے، لیکن اسلام نے اس پر بھی کچھ مذہبی پابندیاں عائد کی ہیں جن کے بغیر شرعا نکاح نہیں ہوتا ، اسی طرح ذبیحہ بھی ایسے ہی امور عادیہ میں سے بلکہ فطری ضرورت اور تقاضا ہونے کے باوجود اس پر اسلامی پابندیاں ثابت ہیں، جن کے بغیر ذبیحہ حلال نہیں ہوتا اور یہ ایک ایسی بات ہے، جس کو ہر طبقے اور ہر فرقے کے مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے، اور ضروریات دین میں داخل سمجھتا ہے، اس پر کچھ دلائل قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم میں جانوروں کے حلال کرنے کے لئے تین لفظ آئے ہیں، زکوۃ،ذبح نحر۔
ذکرۃ لفظ مشترک ہے، جو ذبیح ہجر کو شامل ہے، اور غیر اختیاری ذکاۃ کی ان تمام صورتوں کو بھی جن سے شرعاً جانور حلال ہو جاتا ہے، سب کو شامل ہے، اور با تفاق امت ذکوۃ قرآن کا ایک اصطلاحی لفظ ہے، جیسے صلوٰۃ اور صوم جس طرح صلوۃ اور صوم ) مفہوم شرعی وہی معتبر ہے، جو قرآن کی دوسری آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ثابت ہے، محض لغوی مفہوم مراد لینا تحریف قرآن ہے، اسی طرح لفظ ذکوة بھی خالص اصطلاحی لفظ ہے، جس کی دو قسمیں اختیاری اور غیر اختیاری قرآن میں مذکور ہیں، اور دونوں کے احکام الگ الگ مذکور ہیں، حضرات محدثین و فقہاء نے ذکاۃ اختیاری کو ذبائح کے عنوان سے اور غیر اختیاری کو صید کے عنوان سے تعبیر کیا ہے ،اور دونوں کے لئے از روئے قرآن و سنت کچھ ارکان و شرائط ہیں اور ان شرائط وآداب وقواعد میں ہر صاحب عقلہ وبصیرت اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ذبح کا معاملہ محض امور عادیہ اور طبعیہ میں سے نہیں، بلکہ طبعی اور طبعی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا طریقہ کار ضرور ایک شرعی ذمہ داری اور مذہبی معاملہ ہے، ورنہ اس بارے میں اس قدر تفصیل اور پابندیوں کا کوئی معنی اور مطلب نہیں رہتا۔یہی وجہ ہے کہ روز اول سے امت مسلمہ کے مفسرین کے علاوہ محدثین عظام اور فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی نےبھی کتب حدیث اور فقہ میں اسلامی ذبیحہ کے احکام کو خصوصی طور پر موضوع بحث بنایا اور کتاب الصید والذبائح کے عنوانات سے ابواب قائم فرمائے۔ اور اس بارے میں قرآن مجید کی آیات کے علاوہ احادیث صحیحہ وآثار صحابہ وتابعین سے بھی استدلال فرمایا ہے۔
أحكام القرآن لابن العربي (3/ 50)
لا سيما والذكاة عبادة كلفها الله سبحانه عباده للحكمة التي [ يأتي ] بيانها في سورة الأنعام إن شاء الله تعالى.
أحكام القرآن لابن العربي (3/ 54)
ولكن فيها ضرب من التعبد والتقرب إلى الله سبحانه ؛ لأن الجاهلية كانت تتقرب بذلك لأصنامها وأنصابها ، وتهل لغير الله فيها ، وتجعلها قربتها وعبادتها ، فأمر الله تعالى بردها إليه والتعبد بها له ، وهذا يقتضي أن يكون لها نية ومحل مخصوص
اسلام میں ذبح کے ارکان ،شرائط وآداب :
شرائط ذبح اور قرآن مجید:
شرط اول: تسمیہ یعنی بسم اللہ پڑھنا : سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ذبح کے وقت اللہ کے اس انعام کا شکر ادا کیا جائے
کہ روح حیوانی میں مساوات کے باوجود اس نے کچھ جانوروں کو ہمارے لئے حلال کر دیا ہے اور اس شکر کے ادا کرنے کا طریقہ قرآن وسنت نے یہ سمجھایا کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیں ، بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کریں ، جس نے ذبح پر اللہ کا نام قصد ا چھوڑ دیا، اس کا ذبیحہ حلال نہیں، مردار ہے ، قرآن کریم کے ارشادات اس معاملہ میں واضح اور حسب ذیل ہیں:
ا۔{وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ} [الأنعام: 121]
ترجمہ اور ایسے جانوروں سے مت کھاؤ، جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور بلا شبہ یہ گناہ کی بات ہے، اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کو
تعلیم دے رہے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں، اور تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو، تو یقینا تم مشرک ہو جاؤ۔"
۲۔{فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ} [الحج: 36]
ترجمہ: "سو تم ان (اونٹوں کو نحر کرتے وقت ) کھڑے کر کے اللہ کا نام لیا کرو۔
۳۔ {وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ} [الحج: 34]
ترجمہ: اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کرنا اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چو پاؤں پر اللہ کا نام لیں ، جو اس نے ان کو عطا فرمائے تھے۔"
۴۔ {وَأَنْعَامٌ لَا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ} [الأنعام: 138]
ترجمہ: اور مویشی ہیں جن پر یہ لوگ اللہ کا نام نہیں لیتے محض اللہ پر افتراء باندھنے کے طور پر ۔"
۵۔{إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ } [النحل: 115]
ترجمہ: تم پر صرف مردار کو حرام کیا ہے، اور خون کو اور خنزیر کے گوشت کو اور جس چیز کو غیر اللہ کے ساتھ نا مزد کر دیا گیا ہو ۔
۶۔ {وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ} [الأنعام: 119]
ترجمہ: اور تم کو کون امر اس کا باعث ہو سکتا ہے کہ تم ایسے جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“
۷۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ } [البقرة: 173]
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے تو تم پر صرف مردار کو اور خون کو اور خنزیر کے گوشت کو اور ایسے جانور کو حرام کیا ہے ، جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“
۸۔ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ} [المائدة: 3]
ترجمہ: تم پر حرام کئے گئے ہیں، مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جو جانور کہ غیر اللہ کے نام زد کر دیا گیا ہو، اور جو گلا گھونٹنے سے مر جائے ، اور جو کسی چوٹ سے مر جائے ، اور جو اونچے سے گر کر مر جائے ، اور جو کسی کی ٹکر سے مر جائے، اور جس کو کوئی درندہ کھانے لگے، لیکن جس کو ذبح کر ڈالو ۔“
۹۔.. {وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ} [المائدة: 5]
ترجمہ: اور جو لوگ کتاب دیے گئے ہیں، ان کا ذبیحہ تم کو حلال ہے، اور تمہا راذبیحہ ان کو حلال ہے۔“
۱۰۔{يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ } [المائدة: 4]
ترجمہ: لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کیا جانور ان کے لئے حلال کئے گئے ہیں؟ آپ فرما دیجئے کہ تمھارے لئے کل حلال جانور حلال رکھے ہیں، اور جن شکاری جانوروں کو تعلیم دو، اور تم ان کو چھوڑ بھی، اور ان کو اس طریقے سے تعلیم دو، جو تم کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، تو ایسے شکاری جانور جس شکار کو تمہارے لئے پکڑیں، اس کو کھاؤ، اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا کرو۔“
آیات مبارکہ سے ثابت شدہ مسائل واحکام:
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی اسلامی ذبیحہ مندرجہ جواہر الفقہ :ج ۶،ص۱۷۲ پر لکھتے ہیں کہ
آیات مذکورہ سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے :
۱۔جانوروں کا معاملہ عام انسانی غذاؤں کی طرح نہیں بلکہ ان کے حلال ہونے کےلئے خاص شرائط ہیں۔
۲۔سب سے پہلی اور اہم شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام لیا جا۔ قرآن کریم کی مذکورہ آیتوں میں اس شرط کو بہ تکرار ذکر فرمایا ہے، اور اس مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ صرف جانور کا گوشت کھا سکتے ہو، جس کے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہے، جانور حرام ہے، جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا۔
۳۔یہ کہ جس جانور پر بوقت ذبح غیر اللہ کا نام لیا گیا وہ حرام ہے، جیسے کفارا بتوں اور مصنوعی خداؤں کے نام پر ذبح کیا کرتے تھے ۔
۴۔جو جانور گلا گھونٹ کر یا چوٹ مار کر مارا گیا ہو ، یا سی او کی جگہ سے گر کرنا ٹکر سے مر گیا ہو، یا جس کو کسی درندے نے کاٹا ہو، وہ حلال نہیں ۔
قال شیخ الاسلام المفتی محمد تقی العثمانی رحمہ اللہ تعالی فی احکام الذبائح المستوردۃ ص20:
وهذه الآيات كلها تدل بأساليب مختلفة أن ذكر اسم الله تعالى من أهم العناصر التي تحل للمسلم أكل لحم الحيوان، ولم يكتف القرآن ببيان ذلك في آية أو آيتين، وإنما ذكر هذا الركن في كل من الذبيحة والصيد والأضحية بصفة مستقلة، وأنكر على من يتركه إنكارا بليغا، فجعله افتراء على الله، وأنكر أيضاً على من لا يستحل الذبيحة التي ذكر اسم الله عليها، بما يدل على أنه من أعظم الشروط للذكاة الشرعية.
دوسری شرط : ذکاۃ یعنی ذبح کا عمل :
قرآن کریم نے کسی جانور کا گوشت حلال ہونے کے لئے ذکاۃ کو ضروری قرار دیا ہے۔ بغیر ذکاۃ شرعی کے ذبیحہ قطعا حرام ہے ۔ یہ ذکات قرآن مجید کا ایک اصطلاحی لفظ ہے ۔
سورہ مائدہ میں قرآن کریم کا واضح ارشاد ہے : {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ} [المائدة: 3]
اس آیت کریمہ میں حرمت سے مستثنی صرف وہ جانور ہیں جن کو ذکاۃ شرعی کے ذریعہ حلال کر لیا گیا ہو۔
ذکاۃ شرعی کے متعلق امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ تعالی نے مفردات الفاظ القرآن میں فرماياہے کہ:
وحقيقة التذكية اخراج الحرارة الغريزية لكن خص في الشرع بأبطال الحياة على وجه دون وجه .
امام راغب کی اس تصریح سے دو باتیں معلوم ہوئیں ۔ اول یہ کہ ذکاۃ مطلقا جانوروں کو قتل کر دینے کا نام نہیں، بلکہ اس کے لئے ایک خاص طریقہ مقرر ہے ۔ دوسرے یہ کہ خاص طریقہ محض عادات و رسوم کے تابع نہیں ، بلکہ ایک شرعی اصطلاح اور ایک قانون ہے۔ پھر قرآن و سنت کے ذکان کی دو صورتیں قرار دی ہیں۔ ایک اختیاری، جیسے گھریلو اور پالتو جانوروں کی ذکات دوسرے غیر اختیاری ، جیسے شکار ، یا جو جانور کسی وجہ سے قابوسے نکل جائے اورمقررہ طریق پر ذبح نہ کیا جا سکے ۔ دوسری صورت کی ذکاة حسب تصریح احادیث صحیحہ بسم اللہ کے ساتھ تیر یا نیز وغیرہ سے زخم لگا کر زخمی کر دینااور خون بہا دنیا ہے ۔ ذبیح یا نحر شرط نہیں ۔
اور پہلی قسم اینی اختیاری ذکاۃ کے لئے ذبح یا نحر ضروری ہے ۔ گائے ، بیل اور بکری میں ذبح کرنے کا اور اونٹ میں نحر کرنے کا حکم ہے ۔
ذبح کی حقیقت یہ ہے کہ چار رگیں حلقوم اور مری اور ان دونوں کے دو طرف گردن ں ہیں جن کو در چین کہا جاتا ہے ، ان کو قطع کر دیا ، اور نحر کی صورت یہ ہے کہ جانور کھڑا کر کے اس کے لبہ یعنی حلقوم کے گڑھے میں نیزہ یا چھری مار کر خون بہا دیا جائے ۔
قرآن عزیز میں گائے کے متعلق ان تذبحوا بقرۃ اور فذ بجوھا کے الفاظ سے اور انہ کے متعلق وفدیناہ بذبح عظیم کے الفاظ سے معلوم ہوا ، کہ گائے ، بیل ، بکری ، دنبہ و غیرہ میں ذبح کرنا مسنون ہے اور فصل لربك وانحر کے الفاظ سے اونٹ کا نحرکرنا معلوم ہوا ۔ کیونکہ یہ آیت اونٹ کی قربانی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ دوسری جگہ آن کریم میں اونٹوں کے متعلق صواف کا لفظ بھی آیا ہے اس سے بھی اونٹ کا نحر ہی معلوم ہوتا ہے ۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا تعامل بھی ہمیشہ ہی رہا ہے۔ ان کے خلاف یعنی اونٹ کا ذبح کرنا ، یا گائے ، بکری وغیرہ کا نحر کر نا کہیں منقول نہیں ۔اس لئے باتفاق امت ایسا کرنا جائز نہیں ، اگر کسی نے سنت کے خلاف ایسا کر دیا تو حضرت امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا گوشت بھی حرام ہو گیا ،دوسرے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر چہ طریقہ ذکاۃ خلاف سنت ہونے کا گناہ ہوا مگر چونکہ حقیقت ذبح پائی گئی ، اس لئے گوشت حلال ہے ۔
جانورکے حلال ہونے کے لئے ذکاۃ شرعی کی شرط اور ذکات کے متعلق مذکورہ بالا تصریحات یعنی قرآن و سنت اور اقوال صحابہ و تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ اتنی بات سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ ذبیحہ کا جو طریقہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا ہے وہ محض رسم و عادت نہیں، بلکہ جاہلیت کی رسموں اور عادتوں کو بدل کر ایک تعبدی طریقہ جاری کیا گیا ہے جس کی خلاف ورزی گناہ ہے اور بعض صورتوں میں ذبیحہ بھی حلال نہیں ہوتا ۔
ذبح کی تعریف صحیح بخاری میں حضرت عطاء بن ابی رباح سے یہ نقل کی گئی ہے الذبح قطع الاوداج اس میں اوداج ۔ ودج کی جمع ہے۔ جو حلقوم اور مری کے دائیں بائیں ر موٹی رگوں کانام ہے، اور عادۃ ان کا قطع کرنا حلقوم اور مری کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ اس سے مراد ان چاروں چیزوں کو قطع کرنا ہے ۔ یعنی حلقوم جس سے سانس اندر کیا جاتا ہے اور مری میں سے غذا اندرجاتی ہے اور دونوں طرف گردن کی موٹی رگیں جن سے خون کا سیلان ہوتا ہے اور ان کا محل متعین کرنے کے لئے ہدایہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نقل کی ہے ، جس میں ار شاد ہے. الذكاة بين اللبة واللحیین یعنی ذبح دونوں جبڑوں کے نیچےگردن اور سینہ کے درمیانی گھڑے تک ہے ۔ اس درمیان میں جس جگہ سے بھی کاٹ دیا جائے،ذبح درست ہوگا، جمہور فقہاء امت کے نزدیک ذبح کی یہی تعریف ہے جو عام کتب فقہ میں میں مذکور ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ ذبح کا مسنون اور شرعی طریقہ وہی ہے جو عام طور پر مسلمانوں میں رائج ہے کہ جانور کو لٹا کر گلے کی یہ چار موٹی رگیں قطع کر دی جائیں ۔ جن سے خون بہ جائے اور سر بالکل دھر سے علیحدہ بھی نہ ہوں، گلے کو بالکل آخر تک کاٹ دینے کو نخع کہا جاتا ہے۔ حدیث صحیح بخاری میں اس سے منع کیا گیا ہے۔
عن ابن جريج قال اخبرنى نافع ان ابن عمر نهى عن النخع يقول يقطع ما دون العظم ثم يدع حتى تموت
یعنی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نخع کرنے سے منع فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ گردن کی آخری ہڈی جس کو
نخاع کہا جاتا ہے ، اس کو قطع نہیں کرنا چاہئیے ۔ بلکہ چار رگیں کاٹ کر چھوڑ دیں یہاں تک کہ جانور کی روح نکل جائے۔
اور بدائع الصنائع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کا یہ ارشاد نقل ہے الا لا تنخعوا الذبيحة یعنی مذبوح جانور کا سر بالکل دھڑ سے مت الگ کرو ۔ اور یہ ظاہر ہے کہ یہ کوئی رائے اور قیاس کا معاملہ نہیں ۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا منع فرمانا اس کی دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی نخع کرنے سے منع فرمایا تھا۔ اس لئے گلے کی رگوں کو اتنا گہر اکاٹنا کہ آخر گردن تک پہنچ جائے ۔ اس حدیث کی رُو سے ناجائز ثابت ہوا اور اس سے زیادہ اشد گناہ اور نا جائز یہ ہے کہ گدی کی
طرف سے کاٹا جائے اور سر کو دھڑسے علیحدہ کر دیا جائے۔
تیسری شرط: ذابح کا مذہبی شخص ہونا ( یعنی مسلمان یا کتابی ہونا) :
جمادات و نباتات کے کاٹنے ، تراشنے ، پکانے ، بنانے میں اسلام نے کوئی یہ پابندی نہیں لگائی کہ وہ مسلمان ہی کے ہاتھ سے ہو، مگر روح حیوانی کے خصوصی احترام کی وجہ سے جیسے اللہ کا نام بوقت ذبیح لینا شرط قرار دیا ہے، اسی طرح ذبح کرنے والے کا مسلمان ہونا یا کم از کم اہل کتاب میں سے ہونا ، شرط حلت قرار دیا ہے، آیت و طعام الذين أوتوا الكتاب سے باتفاق ائمہ تفسیر ان کے ذبائح مراد ہیں ۔ گوشت کے علاوہ دوسری غذاؤں میں تو اہل کتاب اور تمام کفار برابر ہیں کہ عام کھانے پینے کی چیزیں جو پاک و حلال ہیں ، وہ ہر شخص کے ہاتھ کی حلال ہیں، مسلمان ہو ، یا کوئی کافر، یہود و نصاری کے علاوہ دوسرے کفار کے ذبائح حرام ہونے کے متعلق حدیث نمبر10 ( جیساکہ آگے آداب ذبح کے ضمن میں آرہی ہے)کی تصریح واضح ہے، اور تمام طوائف کفار میں سے صرف یہود و نصاری کے ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح کو حلال قرار دینے کی وجہ بھی یہ ہے کہ ان دونوں مسئلوں میں ان کا اپنا مذہب اور تورات وانجیل کی تصریحات بھی عین قرآن اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں، اور سینکڑوں تحریفات کے بعد اب تک بھی یہ حکم اس میں موجود ہے، عہد نامہ جدید کی کتاب اعمال میں غیر قوم کے لئے تمام احکام کو ختم کر کے اتنا پھر بھی لکھا گیا ہے، کہ تم بتوں کی قربانیوں کے گوشت اور لہو اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں اور حرام کاری سے پر ہیز کرو۔ (اعمال: ۲۹:۱۵)
اہل کتاب سے مراد صرف یہود نصاری ہیں جو اپنے مذہب کے تعلیمات کے پیروکار ہوں اور ذبح بھی مذہبی طریقہ کے مطابق کریں یعنی بسم اللہ پڑھ کر متعلقہ رگوں کو کاٹیں۔ لہذا اہل کتاب کے ساتھ دیگر کفار کو شامل نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ مجوس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح اور ذبیحہ کی اجازت نہیں دی۔
ذبح شرعی کے آداب اور احادیث مبارکہ:
اسلام نے ذبح کے متعدد آداب بتلائے ہیں جن تفصیلات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل احادیث سے واضح ہوتی ہیں:
1-عن رافع بن خديج ان النبي صلى الله عليه و سلم قال ما انهر الدم و ذكر اسم الله عليه فكلوه ليس السن و الظفر( بخاری و مسلم و سنن اربعۃ)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو دھار دار چیز جانور کا خون بہادے، اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا جائے
، ( وہ حلال ہے ) کھا سکتے ہو، مگر دانت اور ناخن ( کہ دھار دار ہونے کے باوجود ان سے ذبح کرنا جائز نہیں ، دیگر ہڈیوں کا بھی یہی
حکم ہے ۔ ")
2-عن عدی بن حاتم قال قال النبي صلى الله عليه و سلم امرر الدم بما شئت و اذكر اسم الله . (ابودازد و نسائی از حواله بالا)
ترجمہ: " جس دھار دار چیز سے چاہو، جانور کا خون بہا دو، اور ذبح کے وقت اللہ کا نام لو ۔"
3-عن شداد بن اوس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ان الله كتب الاحسان على كل شئ فاذا قتلتم فاحسنوا القتلة و اذا اذبحتم فاحسنوا الذبح وليحد احدکم شفرتہ(صحیح مسلم )
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے متعلق حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے، پس اگر تمہیں کسی کو قصاص وغیرہ میں ( قتل کرنا ہو، تو بہتر ہیئت میں قتل کرو( کہ آسانی سے جان نکل جائے ) اور کسی جانور کو ذبح کرنا ہو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، چنانچہ پہلے اپنی چھری کو خوب تیز کر لو ۔ ( تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو )
4- عن ابن عمر امر النبي صلى الله عليه و سلم بحد الشفار و ان توارى عن البهائم قال اذا ذبح احدكم فليجهز . (قزوینی وجمع الفوائد)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھریوں کی دھار کی جانب سے ذبح کرنے کا حکم فرمایا اور حکم فرمایا کہ چھریاں جانوروں کی آنکھ سے چھپا کر رکھی جائیں، نیز فرمایا اگر ذبح کرو، تو مکمل طور پر ذبح کرد.( ادھورا نہ چھوڑو )
5-قال ابن عباس و انس و ابن عمر اذا قطع الرأس مع ابتداء الذبح من الحلق و لا يتعمد فان ذبح من القفا لم توكل سواء قطع الرأس ام لم يقطع.(بخاری)
ترجمہ: حضرت ابن عباس اور حضرت انس اور حضرت ابن عمررضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ اگر حلق کی جانب سے ذبح کرتے وقت جانور کا سرکٹ کر الگ ہو جائے، تو کوئی حرج نہیں، لیکن بالا رادہ ایسا نہ کرنا چاہئے کہ یہ مکروہ ہے اور اگر جانور کو پشت کی طرف سے ذبح کیا جائے ، تو وہ کسی حال میں حلال نہیں، برابر ہے کہ سرکٹ جائے ، یا نہ کٹے (یعنی دونوں حالتوں میں نا جائز ہے )۔
6- الذكوة بين الحلق و اللبة (دار قطنی) و قال ابن عباس الذكاة بين الحلق و اللبة (بخاري في الترجمة و مثله عن عمر في تخريج الهداية . ( نصب الرایۃ)
ترجمہ: ابن عباس فرماتے ہیں کہ ذبح حلقوم اور نرخرہ کے بیچ میں ہونا چاہئے اور حضرت عمرؓ سے بھی ایسا ہی منقول ہے ۔
7-..... افر الأوداج بما شئت. (هدایه) (نصب الرایۃ)
ترجمہ: رگیں (جن کو اوداج کہتے ہیں ) ان کو اچھے طریقے سے کاٹ دو۔
8-... عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن شريطة الشيطان هى الذبيحة يقطع منها الجلد و لا تفرى الأوداج (ابوداود)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کے ذبیحہ سے منع فرمایا، یعنی ایسے ذبیحہ سے جس کا صرف اوپر کا گوشت کا ٹا جائے ، اور نرخرہ کے متصل رگیں سالم رہ جائیں ۔“
9-نهى النبي صلى الله عليه و سلم ان تنخع الشاة اذا ذبحت. (الطبراني في المعجم)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے نخع کرنے سے منع فرمایا ( یعنی ذبح میں اتنا مبالغہ کرنا کہ گردن کی ہڈیوں کے سفید مغز اور گودے بھی کاٹے جائیں ۔)
10-قال عليه الصلوة و السلام في امر المجوس غير ناکحى نسائهم و لا أكلي ذبائحهم.(مصنف عبد الرزاق و ابن ابی شیبه )
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آتش پرست کافروں کے متعلق فرمایا کہ ان کی عورتوں سے شادی کرنے اور ان کے ہاتھ کے ذبیحہ کھانے کے علاوہ دوسرے امور میں ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا معاملہ کرو، ( مجوس کے اس حکم میں اہل کتاب کے سوا دوسرے کفار و مشرکین سب شامل ہیں کہ ) ان کا ذبیحہ اور عورتیں مسلمان کے لئے حلال نہیں حرام ہیں ۔
ان احادیث مبارکہ سے ثابت احکام:
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ ہدایات سے امور ذیل معلوم ہوئے:
اول یہ کہ ذبح کا مقام حلق اور لبہ کے درمیان ہے۔
دوم یہ کہ گردن کو پورا کاٹ کر الگ نہ کیا جائے ، بلکہ حرام مغز تک بھی نہ کاٹا جائے، بلکہ حلقوم اور مری یعنی سانس کی نالی اور اس کے اطراف کے خون کی ر گیں جن کو اوراج کہا جاتا ہے، وہ قطع کی جائیں ، اس طرح نجس خون بھی پور انکل جاتا ہے، اور جانور کو تکلیف بھی بہت کم ہوتی ہے، اس طریق کے خلاف جتنی صورتیں ہیں، ان میں خون بھی پورا نہیں نکلتا اور جانور کو بلا ضرورت تکلیف بھی شدید ہوتی ہے۔
سوم یہ کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا جائے یعنی بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا جائے۔
چہارم یہ کہ اس کا پورا اہتمام کیا جائے کہ جانور کو تکلیف کم سے کم ہو، اس لئے یہ حکم دیا کہ چھری کو تیز کر لو اور ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کروں اور مذکورہ حلقوم وغیرہ کو پورا کا ٹو، تا کہ جان آسانی سے نکل جائے، ایک حدیث میں اس سے بھی منع کیا گیا ہےکہ جانور کے سامنے چھری تیز کی جائے۔
پنجم یہ کہ زندہ جانور کا کوئی عضونہ کا ٹو۔
ششم یہ کہ جانور کو گدی کی طرف سے ذبح نہ کر و، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جھٹکا جائز نہیں، جس میں دفعۃگردن الگ کر دی جاتی ہے۔
ہفتم یہ کہ جو جانور گدی کی طرف سے ذبح کیا جائے ، حضرت ابن عباس کے نزدیک اس کا گوشت بھی حلال نہیں۔
ہشتم یہ کہ کفار میں سے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے، دوسرے کسی کافر کا حلال نہیں اور اہل کتاب کے ذبیحہ کی حلت بھی اس وجہ سے ہے کہ اس مسئلے میں ان کا اپنا مذہب بھی اسلام کے مطابق ہے۔
مروجہ مشینی ذبیحہ کی شرعی حیثیت اور اس کاتفصیلی شرعی حکم:
مشینی ذبح کا حکم ذبح شرعی کے اصول حدود شرائط واحکام وآداب کے جاننے پر مبنی ہے ،لہذا شرعی ذبح میں جو چیزیں بطور رکن اور شرط کے ہیں ان کی تکمیل نہ ہونے پر ذبح غیر شرعی اور جانور حرام ہوگا جبکہ جو امور صرف آداب وسنن مؤکدہ کے درجہ میں ہیں یا ان میں معتبراجتہادی اختلاف ہے تو ایسی صورت میں بھی ذبح کا وہ طریقہ کار تو مکروہ ہوگا ،لیکن خود جانور کا گوشت جمہور کے مطابق حلال ہوگا۔
مشینی ذبیحہ کے مراحل اور ان کا شرعی حکم:
مشینی ذبح کے چونکہ متعدد طریقے ہیں اور ہر طریقہ مختلف مراحل پر مشتمل ہے ، اس لیے یہاں مختصرا ان کےاحکام شرعیہ لکھے جاتے ہیں۔
بنیادی طور پر مشینی ذبح کے تین مراحل ہوتے ہیں:
پہلا مرحلہ : جانور کو بے ہوش کرنا:
مشینی ذبح کاسب سے پہلا مرحلہ جانور کو بے ہوش کرنے کا ہے جس کو اسٹننگ کہا جاتا ہے او۴ر اس کے بھی مخلف طریقے ہیں البتہ اس عمل کا شرعی حکم یہ ہے کہ یہ عمل چونکہ ذبح سے پہلے کیا جاتا ہے، اور اس سے جانور کو دماغی طور پر تکلیف پہنچتی ہے، اور ذبح سے پہلے یا ذبح کے دوران جانور کو غیر ضروری تلیف دینا شرعا جائز نہیں۔ دوسری وجہ اس کے عدم جواز کی یہ ہے کہ بعض دفع اس عمل کے شدت کے باعث جانور کی ذبح سے پہلے ہی حرکت قلب دند ہونے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔ لہذا ان دو وجوہات کی وجہ سے اسٹننگ کے عمل کی مروجہ تمام صورتیں مکروہ اور ناجائز ہیں،بشرطیکہ قبل از ذبح موت واقع نہ ہو،ورنہ موت واقع ہونے یا اس کے ظن غالب کی صورت میں ایسا جانور موقوذہ (چوٹ سے مرے)جانور کے حکم میں داخل ہونے کی بناء پر حلال نہ ہوگا۔
دوسرا مرحلہ: ذبح کا عمل:
مشینی ذبح کا دوسرا مرحلہ چھری سے ذبح کا عمل ہے اور اس میں دو خربیاں ہیں: ایک یہ کہ اس سے عمل میں جانور کی گردن کی رگیں بالکل یا پوری نہ کٹنے کا قوی احتمال رہتا ہے ، دوسرا یہ کہ اس عمل میں چھری کی تیز رفتاری کی وجہ سے ہر جانور پر الگ سے تسمیہ پڑھنا ممکن نہیں رہتا ،جبکہ شرعا ہرجانور پر مستقل تسمیہ شرط ہے الا یہ کہ ایک ہی عمل ذبح میں دو جانور جمع ہوں مثلا ایک ساتھ لیٹائے گئے دو جانوروں پر ایک ہی تسمیہ سے یک بارگی چھری چلے تو دونوں جانور حلال ہونگے آگی پیچھے چلے تو دوسرا جانور بغیر تسمیہ کے قرار پائے گا اور حرام ہوگا۔
تیسرا مرحلہ: تسمیہ یعنی ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھنا:
مشینی ذبیحہ کے عمل کے دوران تسمیہ کا واجبی عمل یا تو بالکل چھوٹ جاتا ہے یاادھور یا شرعا غیر معتبر طریقے سے ادا کیا جاتا ہے۔
اس بات کی کچھ وضاحت یہ ہے کہ مشین سے ذبح کی صورت میں تسمیہ پڑھنے کی چار صورتیں ہو سکتی ہیں :
مشینی ذبیحہ میں تسمیہ کی ممکنہ چار صورتیں اور ان کا حکم:
پہلی ممکنہ صورت یہ ہے کہ تسمیہ کی ریکارڈنگ چلا دی جائے۔ خواہ لاؤڈ اسپیکر پر خواہ بغیر لاؤڈ اسپیکر کے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص مشینی چھری کے پاس کھڑا ہو اور وہ مسلسل تسمیہ پڑھتا جائے۔
تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جو شخص مشین چلائے وہ مشین چلاتے وقت ایک بار بسم اللہ پڑھ لیا کرے۔
چوتھی صورت جوسؤال میں لکھی ہے کہ بلیڈ وغیرہ پر تسمیہ لکھ دی جائے۔ یہ صورت درحقیقت پڑھنے سے متعلق نہیں بلکہ لکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
لیکن چاروں صورتیں شرعا غیر معتبر ہیں ، البتہ ان میں سے بعض صورتوں کی چونکہ بعض حضرات نے گنجائش دی ہے،لیکن جمہور کے نزدیک وہ صورت بھی درست نہیں، اس لئے ہم ذیل میں ان چاروں صورتوں کی شرعی حیثیت پر الگ الگ گفتگو کرتے ہیں :
اجتماعی تسمیہ کی پہلی اور چوتھی صورتوں کی شرعی حیثیت:
ان چاروں صورتوں میں سے پہلی صورت اور چوتھی صورت کا شرعا غیر معتبر ہونا تو بالکل واضح ہے، کیوں کہ صحت ذبح کے لئے عمل ذبح انجام دینے والے انسان کی طرف سے اور وہ بھی ذبح کے وقت اللہ کے نام کا "ذکریعنی زبان سے ادئیگی" واجب ہے ، اور ریکارڈنگ چلانے یا بلیڈ پر لکھنے کی صورت میں ظاہر ہے کہ یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں۔
اجتماعی تسمیہ کی دوسری صورت اور اس کی شرعی حیثیت:
جہاں تک دوسری صورت کا تعلق ہے تو اول تو اگر اس طرح ہر ہر مرغی پر تسمیہ پڑھنے کے لئے مشین کے پاس کسی آدمی کو کھڑا
کر دیا جائے تو جیسے اوپر ذکر ہوا کہ مشینی چھری سے ذبح کی صورت میں مشین کی تیزی کی وجہ سے ہر ہر مرغی پر تسمیہ پڑھنا ممکن نہیں ہوتا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس طریقے کے مطابق ہر ہر مرغی پر الگ تسمیہ نہیں پڑھا جائے گا۔
ثانیا اگر اس بات سے قطع نظر کر لیا جائے تو بھی یہ صورت شرعا اس لیے معتبر نہیں کہ شرعا تسمیہ ذابح کے لئے پڑھنا شرط ہے، اور مروجہ طریقے کے مطابق جب ذبح کا عمل مشین سے ہوتا ہے تو اس طریقے کے مطابق مشین کے پاس کھڑے ہو کر تسمیہ پڑھنے والا شخص ذبح کے عمل سے لا تعلق ہوتا ہے۔ لہذا اس کے تسمیہ پڑھنے کا شرعا اعتبار نہیں ہو سکتا۔
اجتماعی تسمیہ کی تیسری صورت اور اس کی شرعی حیثیت:
جہاں تک تیسری صورت کا تعلق ہے کہ مشین چلاتے وقت یک بارگی بسم اللہ پڑھ لی جائے تو اس کی اگرچہ بعض عرب علماء نے گنجائش دی ہے ، لیکن جمہور اہل علم اس کے جواز کے قائل نہیں۔
جمہور کے موقف کی دلیل:
جمہور کے اس موقف کی دلیل یہ ہے کہ مشینی چھری سے ذبح کے عمل میں ایک سے زائد مرغیاں یکے بعد دیگرے ذبح ہوتی ہیں ، گو یا ذبح کی کئی کاروائیاں ہوتی ہیں، مگر ان کا روائیوں میں پہلی مرغی کے ذبح کی کاروائی سے تو بٹن دبانے والے کے عمل کا تعلق بنتاہے، لیکن اس کے بعد ۔ جب دو بارہ بجلی کی قوت سے مشینی چھری مرغی کا گلا کاٹنے کے لیے ذبح کی دوسری کا روائی کرتی ہے تو یہ ذبح کا دوسر اعمل محض بجلی کی قوت سے انجام پاتا ہے جس سے بٹن دبانے والے کے عمل کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اگر بالفرض تعلق مان بھی لیں تو بھی جب کوئی ذبح کرنے والا متعاقبا(پے درپے) کئی جانوروں کو ذبح کرے تو ہر ہر جانور پر الگ الگ تسمیہ ضروری ہوتاہے، پہلے جانور پر پڑھا ہوا تسمیہ بعد میں ذبح ہونے والے جانوروں کے ذبح کے لئے کافی نہیں ہوتا۔
الفتاوى الهندية (42/ 191):
ولو أضجع شاة وأخذ السكين وسمى ، ثم تركها وذبح شاة أخرى وترك التسمية عامدا عليها ، لا تحل ، كذا في الخلاصة .ولو أضجع شاة ليذبحها وأخذ السكين وسمى ، ثم ألقى تلك السكين وأخذ أخرى وذبح بها حلت ، وإن أخذ سهما وسمى ثم وضع ذلك السهم وأخذ آخر ورمى لم يحل بتلك التسمية ، كذا في جواهر الأخلاطي .۔۔۔۔ولو أضجع إحدى الشاتين على الأخرى تكفي تسمية واحدة إذا ذبحهما بإمرار واحد ، ولو جمع العصافير في يده فذبح وسمى ، وذبح آخر على أثره ولم يسم لم يحل الثاني ، ولو أمر السكين على الكل جاز بتسمية واحدة ، كذا في خزانة المفتين . والله أعلم .
مروجہ مشینی ذبیحہ کی جائز متبادل صورتیں:
مذکورہ بالا بحث کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ درج بالا قابل اعتراض امور کی وجہ سے مشینی ذبیحہ کا مروجہ طریقہ مسلمانوں بالخصوص جمہور امت کے راجح موقف کے مطابق قابل قبول نہیں، البتہ اگر اس مروجہ طریق کار میں دو معمولی ترمیمات
کر دی جائیں تو مشینی ذبح کی گنجائش ہو سکتی ہے۔
ایک ترمیم یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ مشینی چھری کو نکال کر اس کی جگہ مسلمان یا مذہبی کتابی ذابح کھڑے کر دیئے جائیں اور وہ ہر جانور پر بسملہ پڑھیں اور دوسری ترمیم یہ کہ جانور کو ذبح سے پہلے بے ہوش کرنے کے عمل کو بالکلیہ ختم کر دیا جائے ، یا اس کے لئے صرف ایسے طریقے کو اختیار کیا جائے جس پر عمل کرنے کی صورت میں جانور کی زندگی یقینی ہو اور اس کے ذبح سے پہلے مر جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہو ۔
یہ دونوں ترمیمات اتنی آسان ہیں کہ ان کو اختیار کرنے میں بظاہر کوئی مشکل نہیں، چنانچہ دنیا میں کئی جگہ ان کو اختیار بھی کیا گیا ہے، نیز اس طریقے سے شرعی تقاضے پورے ہو جاتے ہیں، اس لئے دنیا کے ہر ملک میں مسلمانوں کو اس تجویز پرعمل کرنا اوراس کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
مشینی ذبیحہ کا ایک اور متبادل بھی ہو سکتا ہے، جس کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ جانور ذبح کرنےکیلئے ہر ہر جانور پر الگ تسمیہ کی شرط اس وقت ہے، جب کہ کوئی شخص یکے بعد دیگرے ایک ایک مرغی کو ذبح کرے، لیکن اگر ایسانہ ہو بلکہ ذبح کرنے کا آلہ ایسا بڑا ہو کہ ذابح اس کے ذریعہ سے ایک ہی دفعہ میں کئی مرغیاں ذبح کر سکتا ہو تو ایسی صورت میں ایک ہی بار میں ذبح ہونے والی سب مرغیوں پر ایک ہی تسمیہ کافی ہوگا۔ اس گنجائش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر ایسا بڑا آلہ پروڈیوس کر لیا جائے ، جس کو ذابح مینول طور پر ہاتھ کی قوت سے یا بجلی کا کرنٹ چھوڑنے سے استعمال کرے، تو یہ بھی اجتماعی تسمیہ کے مسئلہ کو حل کرنے کا ایک ممکنہ متبادل بن سکتا ہے۔ چنانچہ احسن الفتاوی میں منقول حضرت مفتی محمد شفیع کے ایک فتوی سے اس حل کے جواز اور اس کے سوال سے اس کے امکان بلکہ بعض جگہوں میں زیر عمل ہونے کی تائید ہوتی ہے، مگر اس سوال میں جانور کو گدی کی طرف سے کاٹنے کا ذکر ہے، اس لئے مفتی صاحب رحمہ اللہ نے اس طریقے کو نا جائز بتا کر اس طرح سے ذبح کئے ہوئے جانور کی حلت کا فتوی دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بجائے گدی کے گلے کی طرف اس طرح کئی جانوروں کو ایک بسم اللہ کے ساتھ ایک دفعہ میں ذبح کیا جائے تو ذبیحہ حلال ہونے کے ساتھ وہ عمل بھی جائز ہوگا۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۵ رجب۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


