03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وضوء اور غسل کے بارے میں وسوسوں کا حکم
89408پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

8 سال پہلے جب میں 10 سال کی تھی، میرے گھر میں رنگ کروایا گیا تھا۔ اس دوران میں نے پینٹ کرنے والے اَنکل سے ہاتھ ملایا جس سے میرے ہاتھوں پر پینٹ لگ گیا۔ میری والد نے مجھے کہا کہ پینٹ کو اچھی طرح سے ہٹا دو، ورنہ پانی میری جلد تک نہیں پہنچ پائے گا، جس سے میرا وضو نامکمل رہ جائے گا۔ اس واقعے نے مجھے OCD کا شکار کر دیا، جس نے میری زندگی کو بہت متاثر کیا۔ اس سے نمٹنے کے لیے، میں دن بھر موزے پہننا شروع کر دیا تاکہ پاؤں پر فرش سے کوئی گندگی یا بیرئیرز نہ لگے۔ میں نے دوسروں سے ہاتھ ملانا بند کر دیا اور ہاتھوں میں دستانے پہنے۔ میں نے باہر کا کھانا کھانا چھوڑ دیا، فرض کر کے کہ ریستوران، فیکٹریاں اور بیکریاں اکثر صفائی کو نظرانداز کرتی ہیں، جس سے ان کے برتن یا کوک کے ہاتھوں سے رکاوٹیں منتقل ہو سکتی ہیں۔ میں باہر سے آنے والی ہر چیز کو چیک کرتی ہوں کہ کہیں اس پر کوئی بیرئیرز نہ ہو جو میرے جسم سے چپک جائے اور میرا وضو اور غسل نامکمل نہ رہ جائے۔ جب بھی کوئی گندی چیز میرے جسم کو چھوتی ہے، میں اسے 3-4 بار صابن سے دھوتی ہوں یا کئی دیر تک اس جگہ کو ٹارچ لائٹ سے چیک کرتی ہوں اور، ڈرتی ہوں کہ اگر کوئی بیرئیرز لگا رہ گیا تو میرا وضو اور غسل نامکمل نہ رہ جائے۔ سوالات: سوال 1: کیا رنگ، نیل پالش، موم جیسی 4/5 ٹھوس شے ہی وضو اور غسل میں پانی کو پہنچنے سے روکتی ہے یا زنگ دار چیزوں کو ہاتھ لگانے سے جو کالک لگ جاتی ہےیا بازار سے آنے والی سبزیوں اور پھلوں کو ہاتھ لگانے سے جو کالک یا مٹی لگ جاتی ہے یا کچھ اور چیزوں کی کالک یا مٹی جو پانی سے دھونے سے پوری طرح نہیں جاتی اور ہاتھ کی لکیروں میں ذرات کی شکل میں پھنس جاتی ہے جو ٹارچ لائٹ کے بغیر نظر بھی نہیں آتی، کیا انہیں ہٹائے بغیر وضو یا غسل نہیں ہوتا؟ سوال 2: مجھے کھانے کی پیکیجنگ پر چسپاں ٹیپ کے بارے میں پوچھنا ہے۔ کیا اس کا ریزیڈو وضو اور غسل میں رکاوٹ ہے؟ جو تھوڑا بہت ہاتھوں پر لگ جاتا ہے پیکیجنگ کھولتے وقت، اگر ہاں تو کیا اسے ہٹائے بغیر اگر کھانے کو ہاتھ لگائیں تو کیا وہ کھانے پر بھی لگ جائے گا؟ سوال 3: دانتوں میں جو کھانے کے ذرات پھنس جاتے ہیں جو کہ آسانی سے نہیں نکلتے، کیا انہیں غسل میں نکالنا ضروری ہے اور اگر کبھی دانتوں میں یا منہ کے اندر کوئی ٹھوس چیز پھنس یا چپک جائے تو غسل ہو جائے گا؟ سوال 4: وضو اور غسل کرنے سے پہلے بیرئیرز کی چیک کتنی باریکی سے کرنی چاہیے؟ کیا مجھے قریب سے چیک کرنی چاہئے یا صرف ایک بار پانی یا صابن سے دھونا کافی ہوگا وضو اور غسل کرتے وقت؟ سوال 5: کیا آپ مجھے وضو میں بیرئیرز اور غیر بیرئیرز کے درمیان فرق کرنے کا طریقہ بتا سکتے ہیں؟ کیا جب تک کوئی واضح ٹھوس چیز جسم پر یا کسی چیز پر لگی نہ ہو اسے بیرئیرز نہیں سمجھا جاتا؟ سوال 6: میں نے سنا ہے کہ اگر وضو یا غسل کے دوران ایک بال برابر جگہ بھی خشک رہ جائے تو وضو اور غسل نامکمل نہ رہ جاتا ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟ سوال 7: کیا ہمیں ہر چیز کو استعمال سے پہلے چیک کرنے کی ضرورت ہے یا کیا ہمیں جب تک سو فیصد یقین نہ ہو کسی بیرئیرز کے لگے ہونے کا ہم اس کے مکلف نہیں۔ اگر باہر سے آنے والی کوئی چیز یا ہوٹل وغیرہ کے کھانے سے کوئی بیرئیرز انجانے میں ہمارے جسم پر اگر رہ گئی اور ہمیں پتہ ہی نہ چلا تو کیا ہمارا غسل ہو جاتا ہے؟ سوال 8: اگر جسم کبھی آٹا، کلر یا کوئی ٹھوس چیز لگ بھی جائے تو اسے کس حد تک ہٹانا ضروری ہے؟ کیا اچھے طریقے سے صابن سے دھو لینا یا کلر کو تھنر وغیرہ سے اوپر اوپر سے صاف کرنا کافی ہے یا ٹارچ لائٹ وغیرہ سے اس کے مکمل زائل ہونا کا یقین ضروری ہے؟ سوال 9: جسم پر زخم ہونے کی صورت میں سینی پلاسٹ لگاتے ہیں تو کیا اس کا ریزیڈو ہٹانا ضروری ہے زخم ٹھیک ہونے کے بعد؟ میں نے یوٹیوب پر ایک مشہور مولانا صاحب سے سنا ہے کہ سینی پلاسٹ وغیرہ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے، اگر اس کا ریزیڈو ایک بال برابر جگہ پر بھی لگا رہ گیا تو وضو نہیں ہوتا۔ کیا یہ صحیح ہے؟ سوال 10: کیا سڑک یا فرش پر چلنے سے پاؤں پر لگنے والی گندگی اور کالک، جو پانی سے دھونا مشکل ہو، بیرئیرز شمار کی جاتی ہیں وضو اور غسل میں؟ سوال 11: مجھے باہر کے کھانے کے بارے میں بھی بتا دیں۔ میں نے انٹرنیٹ پر کچھ ویڈیوز دیکھی ہیں، ہوٹلوں اور کھانے کی فیکٹریوں کی، وہ لوگ بہت گندگی کے ساتھ کھانا بناتے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ کھانا بناتے وقت گندگی یا بیرئیرز کھانے کے ساتھ مل جائیں۔ سوال 12: کپڑوں پر جو چمک لگی ہوتی ہے یا شادی کے کارڈز پر لگی ہوتی ہے، اگر وہ جسم پر لگ جائے تو کیا وضو یا غسل ہو جاتا ہے؟ سوال 13: ناک کے اندر کا میل اور آنکھوں کے باہر جو میل جم جاتا ہے، اسے غسل میں ہٹانا ضروری ہے؟ اگر ہاں تو کس حد تک کوشش ضروری ہے؟ کیا عام طور پر 2 منٹ میں اچھی طرح صاف کرنا کافی ہے یا یہ ضروری ہے کہ بہت اچھی طرح سے اتمنان کیا جائے کہ ذرا سا بھی میل باقی نہ رہ جائے؟ سوال 14: اگر سر کے بالوں پر کوئی ایسی چیز لگ جائے جیسے تھوڑی بہت نیل پالش وغیرہ جو پانی پوچھنے میں رکاوٹ ہو، تو اسے کس حد تک ہٹانا ضروری ہوگا؟ کیا اچھے طریقے سے دھو کر ہٹانا کافی ہے یا باریکی سے چیک کرکے 100 فیصد یقین کرنا ضروری ہے کہ ذرہ برابر بھی باقی نہ رہ گئی ہو؟ براہ کرم ہر سوال کا تفصیلی جواب دیں اور کوئی ایسا طریقہ بتا سکتے ہیں جس سے میں لوگوں سے ہاتھ ملانے یا دیگر چیزوں کو بغیر کسی ڈر کے استعمال کر سکوں.یہ سوال کرنے اور مدد حاصل کرنے میں مجھے کئی سال لگ گئے ہیں اور ان سالوں میں میرا OCD پھیلتا گیا ہے .کوئی ایسا جواب دے دے جس سے میری زندگی ٹھیک جائے اور میں نارمل زندگی گزار سکوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جن چیزوں کی تہہ جسم یا ناخن پر جم جاتی ہے اور پانی اس کے نیچے تک نہیں پہنچتا، وضو یا غسل سے پہلے ان اشیاء کو صاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مکمل کوشش کے بعد بھی اگر وہ نہ ہٹے اور اس کا کچھ اثر رہ جائے، اور مزید ہٹانے کی کوشش سے جلد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو مزید صاف کرنا ضروری نہیں، وضو کرکے نماز پڑھنا جائز ہوگا۔نیل پالش کی تہہ بنتی ہے، لہٰذا بہتر ہے کہ وہ استعمال نہ کی جائے۔ باقی مہندی، عرق وغیرہ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

آپ OCD کا علاج کرائیں، اور عملی زندگی میں وسوسوں پر عمل سے گریز کریں۔ دین واضح بھی ہے اور آسان بھی، زیادہ غور کرنے اور مفروضے قائم کرنے سے وساوس پیدا ہوتے ہیں۔ نیز وسوسوں سے بچنے کے لیے رجوع الی اللہ کا اہتمام کریں، اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے دعا مانگیں اور جب بھی وسوسے آئیں تو "أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" اور "لا حول ولا قوۃ إلا باللہ" پڑھنے کا اہتمام کریں۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 4):

في فتاوى ما وراء النهر إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جازوسئل الدبوسي عمن عجن فأصاب يده عجين فيبس وتوضأ قال: يجزيه إذا كان قليلا. ....ولو طالت أظفاره حتى خرجت عن رءوس الأصابع وجب غسلها قولا واحدا. كذا في فتح القدير.وفي الجامع الصغير سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ قال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لا يستطاع الامتناع عنه إلا بحرج والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلا عن الجامع الأصغر.والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلا عن الوجيز.

المفاتيح في شرح المصابيح(1/ 155):

ترك الشيء، يعني فليقل: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، وليترك التفكُّر والشروع في هذه الوسوسة، وإن لم يقدر أن يزيل ‌التفكر في هذه الوسوسة بالتعوذ فليَقُمْ عن مجلسه ذلك، وليشتغل بشيءٍ آخر، من تلاوة القرآن والحكايات وغير ذلك.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(1/ 150):

(قوله: شك في بعض وضوئه) أي شك في ترك عضو من أعضائه (قوله: وإلا لا) أي وإن لم يكن

في خلاله بل كان بعد الفراغ منه وإن كان أول ما عرض له الشك أو كان الشك عادة له؛ وإن كان في خلاله فلا يعيد شيئا قطعا للوسوسة منه كما في التتارخانية وغيرها.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

24/جمادی الآخرۃ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب