| 89452 | امانتا اور عاریة کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
میرے دادا نے میرے چچا کو سونا دیا تھا، ان کو اُس کا مالک نہیں بنایا تھا۔ پھر دادا نے ان سے سونا مانگا تو انہوں نے نہیں دیا ۔ پھر چچا نے دادا سے کہا کہ وہ سونا ہمارے پاس نہیں ہے۔ پھر انہوں نے دادا کو کہا کہ وہ سونا 4 تولہ تھا۔مفتی صاحب میرے چچا غلط بیانی کر رہے تھے ، سونا 4 تولہ نہیں تھا، اُس سے زیادہ تھا۔ پھر دادا نے چچا کو کہا کہ 4 تولہ سونے کے پیسے حصے سے کاٹے جائیں گے۔ مفتی صاحب! اگر دادا کی زندگی میں حصہ تقسیم ہوتا ہے یا بعد میں، تو چچا کے حصے سے 4 تولہ سونے کے کتنے پیسے کاٹنے چاہیے؟
وضاحت :سائل سے فون پر رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ سونا بطور امانت کے دیاتھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب آپ کے دادا نےسونا آپ کے چچا کے پاس بطور امانت رکھوایاتھا ،تو آپ کے چچا پر شرعا لازم تھا کہ مطالبہ کرنے پر وہ سونا واپس کرتے ،لیکن جب آپ کے دادا نے سونا طلب کیا ،اورآپ کے چچانے سونا واپس کرنے سے انکار کردیا(جس طرح کہ سوال میں مذکور ہے)تو اگراس انکار کے وقت آپ کے چچا کے پاس سونا واپس نہ کرنے کا کوئی شرعی عذر نہیں تھا،تو یہ سونااب حکم شرع کے اعتبار سے امانت سے نکل کر ضمانت میں داخل ہوگیا،لہذا اس کے بعد اگر وہ سونا ضائع ہوگیا ،خواہ آپ کے چچا کی کوتاہی یا اختیارسے ہو ،یا کسی آفت سماوی کی وجہ سے ہو،بہر صورت آپ کے چچا پر اس سونے کا ضمان واجب ہے۔
چونکہ یہ سونا ضائع ہوچکاہے، اس لیے آپ کے چچا پر لازم ہے کہ جس دن سونا ضائع ہوا، اس دن کی قیمت ادا کریں
اب اگر آپ کے دادااپنی حیات میںاپنی جائیداد کو اپنے متوقع ورثہ کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہوں ،تو اس سونے کی قیمت آپ کے چچا کے حصے سے منہا کردی جائے گی ۔
اگر تقسیم سے پہلے آپ کے دادا کا انتقال ہوجائے،تو امانت میںرکھے گئے سونے کی قیمت آپ کے چچا پر ورثہ کا دین ہے،لہذا وہ دین چچا سے وصول کرکے تمام ورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
حوالہ جات
و في الهندية(372/3):
لو قام واحد من أهل المجلس وترك كتابه أو متاعه فالباقون مودعون فيه، حتى لو تركوا وهلك ضمنوا لأن الكلّ حافظون.فإن قام واحد بعد واحد فالضّمان على آخرهم؛ لأنه تعين الآخر حافظاّ. كذا في محيط السرخسي.
وفي مختصر القدوري(131/1)دارالكتب العلمية:الوديعة أمانة في يد المودع إذا هلكت في يده لم يضمنها،،،إلى أن قال-رحمه الله تعالى-: فإن طلبها صاحبها فحبسها عنه وهو يقدر على تسليمها ضمنها،،،إلى أن قال: فإن طلبها صاحبها فجحده إياها ضمنها،فإن عاد إلى الاعتراف لم يبرأ من الضّمان.
و في الدر المختار شرح تنوير الأبصار(457/8):
(ولو منعه الوديعة ظلماً بعد طلبه) لردّ وديعته،فلو لحملها إليه لم يضمن ابن ملك. بنفسه ولو حكماً كوكيله،بخلاف رسوله ولو بعلامة منه على الظاهر (قادراً على تسليمها ضمن وإلا) بأن كان عاجزاً أو خاف على نفسه أو ماله بأن كان مدفوناً معها (لا يضمن).
و في الدر المختار(437/4):
فينتفع الرافع باللقطة لو فقيراً،وإلا تصدق بها على فقير و لو على أصله.
وفي رد المحتار على الدر المختار:وفي الخلاصة:له بيعها و إمساك ثمنها،ثم إذا جاء ربها ليس له نقض البيع لو بأمر القاضي، و إلا فلو قائمة له إبطاله.و إن هلكت،فإن شاء ضمّن البائع و عند ذلك ينفذ بيعه في ظاهر الرواية.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
29/6/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


