03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آن لائن آرڈرلے کر مال فروخت کرنےکا شرعی حکم
89203خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

زید کاٹن کا کپڑا فروخت کرتا ہے جبکہ عمرو  اس کے سامنے والے دکان میں ویلویٹ کا کپڑا  فروخت کرتا ہے۔تو ایک دن زید کے دل  میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے کہ عمرو کے پاس موجود ویلویٹ کا کپڑا آن لائن فروخت کرے جس کی قیمت 1000 روپے فی گز ہے تو زید ویلویٹ کپڑے سے تصویر لے کر سوشل میڈیا پر شئیر کرتا ہے جس سے اس کو  ویلویٹ کپڑے کا آرڈر ملتا ہے اور زید وہ کپڑا عمرو سے لے کر کسٹمر کو  آگے 1200 میں ڈیلوری کردیتا ہے  تو کیا زید کےلیے یہ 200 روپے حلال ہے یا حرام؟

دوسری صورت یہ ہے کہ زید کو ایک آرڈر ملتا ہے جس میں کسٹمر کو 2 گز ویلویٹ کا کپڑا چاہیے ہوتا ہے اور 2 گز کاٹن کا کپڑا چاہیے ہوتا ہے تو زید 2 گز کا کپڑا اپنے پاس موجود مال میں سے دے دیتا ہے (جس کی قیمت 700 روپے بنتی ہے)،جبکہ 2 گز ویلویٹ (جس کی قیمت 2000 ہزار روپے بنتی ہے) عمرو سے لے کر کسٹمر کو آگے یہ چار گز کا کپڑا 4000 ہزار میں فروخت کردیتا ہے تو کیا زید کے لئے یہ 1300 روپے منافع حلال ہوگا یا حرام؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں زید ویلویٹ کپڑے کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے اپنے کسٹمر  سے صرف  آرڈر لے رہا ہے یعنی وعدہ بیع کررہا ہے۔ لہٰذا مذکورہ دونوں صورتوں میں آرڈر ملنے کے بعد زید عمرو سے ویلویٹ کا کپڑا خرید کرقبضہ کرے، پھر حسبِ معاہدہ آرڈر دینے والے شخص کو بھجوا دے۔ جب خریدار سامان وصول کرکے اسے قبول کرلے تو تعاطی کی بنیاد پر یہ معاملہ شرعاً درست ہو گااور اسی بنا پر دونوں صورتوں میں حاصل ہونے والا نفع بھی حلال ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (3/ 2):

وأما ركنه فنوعان : أحدهما ‌الإيجاب ‌والقبول ‌والثاني ‌التعاطي وهو الأخذ والإعطاء كذا في محيط السرخسي.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 278):

وذلك قد يكون بالقول، وقد يكون بالفعل فالأول ‌الإيجاب ‌والقبول. ‌والثاني ‌التعاطي اهـ.

فقه البيوع:   (96/1)

والذي يتحصل من كلام الفقهاء كما ذكرنا، أن عرض السلع ليس إيجاباً في عامة الأحوال، إلا إذا اتصل به تصريح من البائع يدل على أن عَرْضه يمثل الإيجاب، بحيث لا يريد لإنشاء البيع إلا القبول من المشتري، وبما أن هذا الشرط مفقود في عامةالعروض، فإنها لا تُعدّ إيجاباً، وإنما هي دعوة للشراء.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی    

11 /جمادی الآخرۃ/1447ھ    

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب