| 89350 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
میں جیجو نیشنل یونیورسٹی میں طالبِ علم ہوں اور ایک لیب میں کام کرتا ہوں۔ لیب کا آفیشل ٹائم صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک ہے۔ اگر میں وقفے کے علاوہ کسی ذاتی کام کے لیے ایک دو گھنٹے لیب سے باہر جاؤں اور بعد میں وہ وقت پورا کر دوں۔مثال کے طور پر میں 9 بجے لیب آؤں، 12 بجے تک کام کروں پھر 12 سے 1 بجے تک وقفہ ہو، اس کے بعد میں ایک گھنٹہ ذاتی کام کے لیے باہر جاؤں اور 6 بجے کی بجائے 7 بجے تک کام کر کے وقت پورا کر لوں ،اگرچہ لیب کا آفیشل وقت 9 سے 6 ہے، لیکن پروفیسر نے اجازت دی ہے کہ آپ 24 گھنٹوں میں کسی بھی وقت یہ مقررہ گھنٹے پورے کر سکتے ہیں۔
تو کیا یہ صورت درست ہے یا مجھے لازماً آفیشل ٹائم ہی فالو کرنا ہوگا؟
اسی طرح اگر پروفیسر نے مجھے کوئی کام سونپا اور میں وہ کام 9 سے 12تک مکمل کر کے گھر چلا جاؤں تو کیا یہ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر انتظامیہ یا پروفیسر کی جانب سے اجازت ہو کہ آپ 24 گھنٹوں میں کسی بھی وقت لیب میں اپنے مقررہ گھنٹے پورے کر سکتے ہیں تو اس صورت میں لیب کے آفیشل ٹائم کے دوران وقفے سے ہٹ کر وقتی طور پر ذاتی کام کے لیے باہر جانا اور بعد میں اس وقت کو مکمل کر لینا جائز ہے۔بشرطیکہ ادارے کی جانب سے پروفیسر کو اس کا اختیار ہو کہ وہ اپنے ملازمین کو یہ گنجائش دے سکتے ہو۔
دوسری صورت میں اگر چہ آپ وقت ِمقرر سے پہلے کام مکمل کرلیں ،تاہم انتظامیہ یا پروفیسر کی اجازت نہ ہونے کے باعث وقت سے پہلے آپ کا گھر جانا درست نہیں ۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص81):
(المادة 422) : الأجير على قسمين: القسم الأول هو الأجير الخاص الذي استؤجر على أن يعمل للمستأجر فقط كالخادم الموظف.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 137):
قال رحمه الله (والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) أي الأجير الخاص يستحق الأجرة بتسليم نفسه للعمل عمل أو لم يعمل.
الموسوعة الفقهية الكويتية (1/ 290):
وليس للأجير الخاص أن يعمل لغير مستأجره إلا بإذنه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 70):
(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي: وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا ،فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ،ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة. وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(6/ 70):
قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
19 /جمادی الآخرۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


