03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وکیل کا نذر کی رقم خود رکھنے کاحکم
89591وکیل بنانے کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میرا ایک دوست سعودی عربیہ میں کام کر رہا ہے ،اس نے مجھے تقریبا 11 ہزار روپے بھیجیےہے کہ یہ میں نے نذر  مانی ہے تو آپ یہاں مستحقین میں یہ تقسیم کر دے ۔تو میں بہت زیادہ ضرورت مند ہوں ، مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہےاور  میں صاحب نصاب بھی نہیں ہوں، تو کیا یہ پیسے میں خود اپنے لیے رکھ سکتا ہوں ،اپنے استعمال میں لا سکتا ہوں یا نہیں؟ کیونکہ  وہ مجھے مالدار سمجھتے ہیں حالانکہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔براہ ِ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں آپ کے دوست نے آپ کو اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کرنے  کا وکیل بنایا ہے اور وکیل کےلیے یہ جائز نہیں کہ وہ موکل کی طرف سے صدقہ کے لیے دی ہوئی رقم خود  رکھ لے۔لہذا آپ کے لیے جائز نہیں کہ یہ رقم اپنی استعمال میں لائیں ۔

حوالہ جات

رد المحتار ط: الحلبي (2/ 269):

وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال ربها : ضعها حيث شئت.

قال العلامة ابن عابدين: (قوله: لولده الفقير) وإذا كان ولدا صغيرا فلا بد من كونه فقيرا أيضا ؛لأن الصغير يعد غنيا بغنى أبيه، أفاده ط عن أبي السعود، وهذا حيث لم يأمره بالدفع إلى معين؛ إذ لو خالف ففيه قولان حكاهما في القنية. وذكر في البحر أن القواعد تشهد للقول بأنه لا يضمن لقولهم: لو نذر التصدق على فلان له أن يتصدق على غيره. اهـ  أقول (أي العلامة ابن عابدين): وفيه نظر ؛لأن تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير غير معتبر في النذر؛ لأن الداخل تحته ما هو قربة، وهو أصل التصدق دون التعيين، فيبطل، وتلزم القربة كما صرحوا به، وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان، فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره، فتأمل .

محمد جمال

دار الافتاء  جامعۃ الرشیدکراچی

8/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب