| 89706 | نکاح کا بیان | نکاح صحیح اور فاسد کا بیان |
سوال
نو مسلم لڑکی سے شادی کرنا
میں ایک نیپالی لڑکی سے محبت کرتا ہوں اور وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے۔ اس تعلق کو تقریباً چودہ (14) ماہ ہو چکے ہیں۔ میں پاکستان سے ہوں اور وہ لڑکی نیپال سے ہے۔وہ پہلے ہندو تھی، لیکن اب الحمد للہ اسلام قبول کر چکی ہے اور کلمہ پڑھ چکی ہے۔ میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم یہ رہنمائی فرمائیں کہ شریعتِ مطہرہ کی نظر میں یہ معاملہ کیسا ہے؟نیز اگر میرے گھر والے یہ کہتے ہیں کہ وہ صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہوئی، تو صحیح طریقے سے مسلمان ہونے کا شرعی طریقہ بھی بیان فرما دیں۔اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ میرے والدین اس رشتے پر اعتراض کر رہے ہیں کہ اس کا پس منظر معلوم نہیں، اس کا خاندان کیسا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہندو تھی، معلوم نہیں پہلے کیا کچھ کرتی رہی ہو گی، اور اب مسلمان ہو کر بھی وہ ٹھیک نہیں لگتی۔تو ایسی صورت میں شریعت ہمیں کیا رہنمائی دیتی ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس لڑکی نے اسلام کا باقاعدہ مطالعہ کیا، پھر جب اس کا دل مطمئن ہوا تو اس نے خود کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا، استخارہ بھی کیا اوراس کا نتیجہ بہتر آیا۔میں نے اس بارے میں کئی علماء کرام سے بھی رہنمائی حاصل کی ہے اور سب نے یہی فرمایا کہ یہ بالکل درست ہے، بسم اللہ کریں۔لیکن اب میں چاہتا ہوں کہ آپ حضرات اس مسئلے پر تحریری فتویٰ عطا فرما دیں تاکہ اپنے والدین کو سمجھانے میں آسانی ہو۔براہِ کرم اس معاملے کو تفصیل کے ساتھ حل فرما دیں۔آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی بھی شخص کے مسلمان ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے سابقہ شرکیہ عقائدکو ترک کرے،دل سے ایمان مجمل پر عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ ہی واحد معبودِ برحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، نیز آپ ﷺ اللہ کی طرف سے جو دین، احکام اور شریعت لے کر آئے ہیں ان سب کو حق مانے، اور زبان سے کلمۂ توحید کا اقرار کرے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ لڑکی کے سامنے اسلام لانے کایہ مطلب بتادیاگیاہے اوروہ کلمہ پڑ ھ کر دل سے اس کی تصدیق بھی کرتی ہے تو شرعاً وہ مسلمان ہوچکی ہے۔ دلوں کے حالات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، ہم شرعاً ظاہر کے مکلف ہیں۔ اگر کچھ کمی محسوس ہوتوکسی عالم سے یہ تفصیلات سنواکرتجدیدایمان کرایاجائے۔باقی مفروضوں کی بنیاد پرشک کرنادرست نہ ہوگا۔
لہذاجب لڑکی اپنے اسلام لانے کااقرار کررہی ہے تولڑکا اور لڑکی کی باہمی رضامندی سے نکاح کرسکتےہیں۔ایسی صورت میں آپ كا لڑکی کے والدین کوبھی شادی میں شریک کرنامناسب ہوگا تاکہ ان کے سامنے اسلامی معاشرت کااچھاپہلوسامنے آئے۔آپ اپنے والدین کے تحفظات کاازالہ کریں توامیدہے کہ فیصلے میں آسانی ہوگی۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (1/ 12):
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان).
شرح العقيدة الطحاوية (1/ 7):
ولا ريب أنه يجب على كل أحد أن يؤمن بما جاء به الرسول إيمانا عاما مجملا، ولا ريب أن معرفة ما جاء به الرسول على التفصيل فرض على الكفاية.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 253):
وإسلامه أن يأتي بكلمة الشهادة، ويتبرأ عن الأديان كلها سوى الإسلام، وإن تبرأ عما انتقل إليه كفى كذا في المحيط.
شرح العقيدة الطحاوية (2/ 459):
(والإيمان: هو الإقرار باللسان، والتصديق بالجنان. وجميع ما صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من الشرع والبيان كله حق.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 9):
(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر... (كزوجت) نفسي أو بنتي.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 185):
قال: "ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين .
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 270):
ومنها أن يكون للزوجين ملة يقران عليها، فإن لم يكن بأن كان أحدهما مرتدا لا يجوز نكاحه أصلا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 270):
ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما، فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة،لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن}
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
20/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


