| 89826 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کو تحریری طور پر لکھ کر بھیجا کہ: میں آپ کو اپنا حقِ مہر معاف کرتی ہوں، اس کے بدلے مجھے طلاق دے دیں۔شوہر کے پاس وہ تحریر پہنچ گئی، مگر شوہر نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بیوی نے شوہر کو میسج کیا کہ: آپ نے اب تک کوئی طلاق نہیں دی، اس لیے میں اپنے حقِ مہر کی معافی سے رجوع کرتی ہوں، اور اب اس میسج کے بعد آپ جو طلاق دیں گے وہ آپ کی طرف سے شمار ہوگی، میرا حقِ مہر معاف نہیں ہوگا۔اس میسج کے بعد شوہر نے اسی تحریر پر لکھ دیا کہ: میں اس فدیہ کو قبول کرتے ہوئے تیسری طلاق دیتا ہوں۔ یہ بھی واضح رہے کہ اس سے پہلے دو طلاقیں ہو چکی تھیں اور ان میں رجوع بھی ہو چکا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ:کیا عورت پر طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟ حقِ مہر کا کیا حکم ہوگا؟ براہِ کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں، گھریلو پریشانیاں درپیش ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر واقعی شوہر کے قبول کرنے سے پہلے ہی بیوی نے حقِ مہر کے بدلے طلاق کے مطالبے سے رجوع کر لیا تھا، تو وہ معاملہ ختم ہو گیا۔ اب شوہر نے حقِ مہر کے بدلے جو طلاق دی، وہ شوہر کی طرف سے ایجاب تھا، جسے بیوی نے قبول نہیں کیا، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی، پس بیوی بدستو ر مہر کا حقدار ہے ۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 228)
أما تعليقه بالقبول فلأن الباء للمعاوضة، وقدمنا أن في المعاوضات يتعلق الحكم بالقبول.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 442)
وفي الخانية قال " خالعتك " فقبلت يقع البائن، كذا إن لم تقبل لأن الطلاق يقع بقوله خالعتك. وفيها أيضا قال: خالعتك على كذا وسمى مالا معلوما لا يقع الطلاق ما لم تقبل، كما لو قال " طلقتك " على ألف اهـ أي لأنه معلق على القبول. وأما إذا لم يذكر المال فلا يكون معلقا على القبول معنى فيقع الطلاق وإن لم تقبل تأمل.
الفتاوى الهندية (1/ 498)
ويعتبر الخلع من جانبه تعليقا للطلاق بقبولها حتى لم يصح رجوعه عنه ولم يبطل بقيامه عن المجلس ويصح إذا كانت غائبة وإذا بلغها فلها الخيار في مجلسها ويصح تعليقه بالشرط والإضافة إلى الوقت كقولنا: إذا جاء غد أو إذا قدم فلان فقد خالعتك على ألف فالقبول إليها بعد مجيء الغد والقدوم وفي جانبها يعتبر تمليكا بعوض كالبيع حتى يصح رجوعها قبل قبوله ويبطل بقيامها عن المجلس ولا يتوقف حال الغيبة ولا يجوز التعليق بشرط والإضافة إلى وقت.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 152)
وأما الطلاق على مال فهو في أحكامه كالخلع؛ لأن كل واحد طلاق بعوض فيعتبر في أحدهما ما يعتبر في الآخر إلا أنهما يختلفان من وجه، وهو أن العوض إذا أبطل في الخلع بأن وقع الخلع على ما ليس بمال متقوم يبقى الطلاق بائنا، وفي الطلاق على مال إذا أبطل العوض بأن سميا ما ليس بمال متقوم فالطلاق يكون رجعيا؛ لأن الخلع كناية، والكنايات مبينات عندنا.
فقه البيوع للشيخ تقي العثماني (1/52)
الحالة الثالثة لسقوط الإيجاب: أن يرجع الموجب عن إيجابه قبل قبول المكتوب إليه وهذا على قول جمهور الفقهاء.
فقه البيوع للشيخ تقي العثماني(1/59)
ويظهر من هذه النصوص أن الفقهاء الحنفية اعتبروا العقد باتا إذا أعلن المكتوب إليه قبوله في مجلس بلوغ الكتاب، ولم يشترطوا لذالك علم الموجب بالقبول.
محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22/رجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب |


