03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بطور قرض انویسٹمنٹ کرکے منافع لینے کا حکم
89828سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

میں ایک کمپنی کے ساتھ انویسٹمنٹ کرنا چاہتا ہوں۔ اس کمپنی کا کام ایمازون (Amazon) کے پلیٹ فارم پر ہے۔ یہ لوگ ایمازون پر آن لائن مختلف پروڈکٹس فروخت کرتے ہیں، اور یہ کاروبار مختلف ملکوں میں پھیلا ہوا ہے۔ ان پروڈکٹس میں عام طور پر کچن کی ضرورت کی اشیاء، گھریلو استعمال کی چیزیں، پالتو جانوروں کے کھلونے اور بچوں کے ڈائپر (Pampers) شامل ہیں۔

      اس کمپنی نے سرمایہ کاری کے لیے دو پول (Pools) بنائے ہوئے ہیں۔پہلا پول ان افراد کے لیے ہے جو 6000 ڈالر یا اس سے کم سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جو لوگ 6000 ڈالر یا اس سے کم سرمایہ دیتے ہیں، انہیں اس سرمایہ کے عوض ہر 45 دن بعد 2 فیصد سے 4 فیصد کے درمیان منافع دیا جاتا ہے۔اسی طرح دوسرا پول ان افراد کے لیے ہے جو 6000 ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس صورت میں انہیں ہر 45 دن بعد 4 فیصد سے ساڑھے 5 فیصد کے درمیان منافع دیا جاتا ہے۔ منافع میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، لیکن وہ اسی فیصدی حد کے اندر رہتا ہے۔کمپنی کے مطابق ان کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ مذکورہ پروڈکٹس مختلف سپلائرز سے ہول سیل کے حساب سے خریدتے ہیں، پھر انہیں ایمازون کے پلیٹ فارم پر لسٹ کر کے ریٹیل کسٹمرز کو فروخت کرتے ہیں۔ ان کا کاروبار تقریباً پانچ سے چھ ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اور ایمازون پر ان کے تقریباً سو کے قریب اکاؤنٹس ہیں، جو انہوں نے مختلف افراد کے ساتھ مل کر مینیج کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح کمپنی میں کام کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً 35 ہے، جو پورے کاروبار کو مینیج کرتے ہیں۔کمپنی کے بقول انہیں اوسطاً 12 سے 13 فیصد منافع حاصل ہوتا ہے، جس میں سے باقی اخراجات نکالنے اور مالک کا منافع الگ کرنے کے بعد سرمایہ کاری کرنے والوں کو اوپر بیان کردہ شرح کے مطابق منافع دیا جاتا ہے۔

      یہ کمپنی اپنے سرمایہ کاروں کے ساتھ جو معاہدہ کرتی ہے، وہ درج ذیل ہے:

یہ ایک قرض (Loan) کا معاہدہ ہے جو ایک Borrower (قرض لینے والا) اور Lender (قرض دینے والا) کے درمیان طے پاتا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد Amazon بزنس کی توسیع کے لیے سرمایہ فراہم کرنا ہے۔

اہم شرائط درج ذیل ہیں:

  1. قرض اور منافع: قرض دینے والا ایک مخصوص رقم (امریکی ڈالر میں) بطور قرض فراہم کرے گا۔ اگر رقم 5000 ڈالر سے زیادہ ہو تو منافع 4 فیصد سے 5.5 فیصد دیا جائے گا، اور اگر رقم 5000 ڈالر یا اس سے کم ہو تو منافع 2 فیصد سے 4 فیصد دیا جائے گا۔ منافع ہر 45 دن کے بعد ادا کیا جائے گا۔
  2. واپسی کا طریقہ: اگر قرض دینے والا معاہدہ ختم کرنا چاہے تو دو ماہ پہلے تحریری نوٹس دینا ہوگا۔ اس کے بعد اصل رقم اور حساب کے مطابق منافع واپس کیا جائے گا۔
  3. وفات کی صورت میں: قرض دینے والے کی وفات کی صورت میں اس کا قانونی وارث اس معاہدے میں شامل ہوگا۔
  4. سیکیورٹی چیک: قرض لینے والا قرض کی رقم کے برابر سیکیورٹی چیک دے گا، جو اصل رقم کی واپسی پر واپس کر دیا جائے گا۔
  5. مزید سرمایہ یا اضافہ: اگر مزید قرض دیا جائے تو نیا معاہدہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ ایک Annexure (ضمیمہ) شامل کیا جائے گا۔
  6. کنٹرول: قرض دینے والے کو کاروبار کے انتظام یا فیصلوں میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
  7. تنازعات کا حل: یہ معاہدہ پاکستان کے قانون کے تحت ہوگا، اور کسی بھی اختلاف کی صورت میں معاملہ لاہور میں ثالثی (Arbitration) کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
  8. رازداری: معاہدے کی شرائط، معلومات اور دستاویزات کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر نہیں کی جائیں گی۔
  9. ایپینڈکس A (مزید سرمایہ / نکاسی): اگر سرمایہ میں 5000 ڈالر کا اضافہ یا کمی ہو تو اسے ریکارڈ ٹیبل میں درج کیا جائے گا۔ ہر نئی سرمایہ کاری پر قرض لینے والا پاکستانی روپے (PKR) میں کراس چیک دے گا۔ نکاسی کی درخواست کے تین ماہ بعد ہی چیک کیش کرایا جا سکے گا، بصورتِ دیگر 30 فیصد سے 50 فیصد تک کٹوتی کی جائے گی۔

سادہ خلاصہ:یہ معاہدہ ایک بزنس انویسٹمنٹ کی صورت میں قرض کا معاہدہ ہے، جس کے تحت قرض دینے والے کو ہر 45 دن بعد مخصوص فیصد کے حساب سے منافع دیا جاتا ہے۔ معاہدہ ختم کرنے کے لیے دو ماہ کا نوٹس ضروری ہے۔ قرض دینے والے کو کاروبار میں کسی قسم کی مداخلت یا انتظامی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ تنازع کی صورت میں معاملہ پاکستان کے قانون کے مطابق لاہور میں ثالثی کے ذریعے حل کیا جائے گا۔اب سوال یہ ہے کہ:ایسی کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنا اور اس میں سرمایہ کاری کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق چونکہ اس کمپنی  کے ساتھ  معاملہ  بطور قرض ہوتاہے ، لہذا اس پر منافع لینا جائز نہیں، یہ خالص سود ہے  ۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 61)

لأن الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه.

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166)

وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه.

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 226)

كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.

محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

19/رجب/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب