03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جنات کےاثرات سے محفوظ رہنے کے وظیفے
89521ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائلرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے (

سوال

ایک  گھر میں جنات کا سخت اثر تھا، وہاں رہنے والے لوگ ہمیشہ بیمار اور پریشان رہتے تھے۔ کھٹمل بھی غیر معمولی طور پر بہت زیادہ تھے اور قطاروں میں چلتے نظر آتے تھے۔ لوگوں نے اجنبی کسی کو دیکھنے کا بھی دعویٰ کیا۔ اسی اثر کی وجہ سے ان کے والد کی ذہنی حالت بگڑی، وہ بیمار ہوئے اور آخرکار وفات پا گئے۔واضح ہے کہ یہ جنات کا اثر تھا ، اب مجھے سمجھ نہیں آرہاہےکہ  کیاکرنا ہے ، ؟

تنقیح: سائل نے زبانی بتایا کہ  یہ میری ہمشیرہ کا معاملہ ہے ۔اور سوال سے میرا مقصد یہ ہےکہ  بہت لوگوں کے پاس اس کے خاتمہ کےلیے کام کرایا لیکن تھوڑا فرق تو پڑتاہے، مکمل شفا نہیں ہورہاہے۔ اب اس کی کیا وجوہات ہیں ،  اس کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بہت دفعہ  ان چیزوں میں شیطانی  وسوسہ اور وہم کا بڑا دخل  ہوتا ہے ، ، لہذا  وہم اور وسوسہ کی بناپر ان چیزوں کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے،بلکہ ایسی صورت میں درج ذیل شرعی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے، اس سے ان شاء اللہ  جنات آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے:

  1. سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی کی ذات اور ان کی صفات پر کامل ایمان اور یقین  رکھا جائے ، اللہ تعالی سے ڈرنے والوں کو مخلوق نہیں ڈراسکتی۔
  2. پنج وقتہ نمازوں کی پابندی  کے ساتھ اہتمام،  پاکی  کا  خصوصی اہتمام، اور تلاوت قرآن کریم  ، ذکر کی کثرت  کیا کریں۔
  3. گھر میں کم ازکم ایک مرتبہ مکمل سوره بقره معتدل آواز میں تلاوت کرنے کا اہتمام کریں۔
  4. حضرت شیخ الحدیث زکریا صاحب رحمہ اللہ کی جادو کے اثرات کے مقابلے کے لیے قرآن وحدیث کی دعاؤں کا مجموعہ " منزل" کو روزانہ پڑھنے کا اہتمام کریں۔
  5. درج ذیل اذکار صبح و شام پابندی سے یقین کے ساتھ پڑھ کر دونوں ہتھیلیوں پر پھونک مار کے  سر سے پیر  تک اپنے پورے جسم پر پھیر دیں : درود شریف ، سورہ فاتحۃ ، آیۃ الکرسی، سورہ الم نشرح ، سورہ کا فرون ، سورہ اخلاص ، سورہ فلق، سورہ ناس اور آخرمیں پھر درود شریف ۔
  6. کسی متبع سنت عامل  سے  تعویذ وغیرہ  بھی لیا جاسکتاہے ، البتہ یادرہے کہ اگر ناگزیر نہ ہو تو  تعویذ وغیرہ سے دور رہنا چاہیے۔ہمارے جامعۃ الرشید سے بھی تعویذ دیاجاتا ہے ، یہاں بھی  رابطہ کیاجاسکتا۔
  7. یہ کلمات کثرت سے پڑھاکریں : أعوذ بوجه الله العظيم، الذي ليس شيء أعظم منه،وبكلمات الله  التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر، وبأسماء الله الحسنى كلها ما علمت منها وما لم أعلم، من شر ما خلق وبرأ وذرأ.موطأ مالك ت عبد الباقي(2/ 951)

ہاں اگر جنات اور جادو کی  واضح علامات پائی جائیں، تو مذکورہ ہدایات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ  اگر کوئی عالم، متبع   سنت  عامل مل جائے ،تو اس سے علاج بھی  کراسکتے ہیں ۔ لیکن یادرہےکہ آج کل معتمدعلیہ، متبع سنت عامل کا ملنا  بہت مشکل ہوتاہے، بلکہ بہت سے  لوگ اس میں دھوکہ بازی کرتے ہیں۔

حوالہ جات

قال تعالى: {الَّذِينَ آَمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} [الأنعام: 8 ]

قال تعالى: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ} [الشورى: 30].

صحیح  مسلم(1/454)]

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم -: «من صلى الصبح فهو في ذمة الله، فلا يطلبنكم الله من ذمته بشيء فيدركه فيكبه في نار جهنم»

صحيح مسلم (4/ 1727)

عن أبي سعيد الخدري، أن ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا في سفر، فمروا بحي من أحياء العرب، فاستضافوهم فلم يضيفوهم، فقالوا لهم: هل فيكم راق؟ فإن سيد الحي لديغ أو مصاب، فقال رجل منهم: نعم، فأتاه فرقاه بفاتحة الكتاب، فبرأ الرجل، فأعطي قطيعا من غنم، فأبى أن يقبلها، وقال: حتى أذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، فقال: يا رسول الله والله ما رقيت إلا بفاتحة الكتاب فتبسم وقال: «وما أدراك أنها رقية؟» ثم قال: «خذوا منهم، واضربوا لي بسهم معكم»

صحيح البخاري (3/ 101)

................قال: دعني أعلمك كلمات ينفعك الله بها، قلت: ما هو؟ قال: إذا أويت إلى فراشك، فاقرأ آية الكرسي: {الله لا إله إلا هو الحي القيوم} [البقرة: 255]، حتى تختم الآية، فإنك لن يزال عليك من الله حافظ، ولا يقربنك شيطان حتى تصبح، فخليت سبيله، فأصبحت فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما فعل أسيرك البارحة»، قلت: يا رسول الله، زعم أنه يعلمني كلمات ينفعني الله بها، فخليت سبيله، قال: «ما هي»، قلت: قال لي: إذا أويت إلى فراشك فاقرأ آية الكرسي من أولها حتى تختم الآية: {الله لا إله إلا هو الحي القيوم} [البقرة: 255]، وقال لي: لن يزال عليك من الله حافظ، ولا يقربك شيطان حتى تصبح - وكانوا أحرص شيء على الخير - فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «أما إنه قد صدقك وهو كذوب، تعلم من تخاطب منذ ثلاث ليال يا أبا هريرة»، قال: لا، قال: «ذاك شيطان»

صحيح مسلم (1/ 553)

اقرءوا سورة البقرة، فإن أخذها بركة، وتركها حسرة، ولا تستطيعها البطلة». قال معاوية: بلغني أن البطلة: السحرة.

صحيح البخاري (6/ 188)

قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من قرأ بالآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه»

سنن الترمذي ت شاكر (5/ 567)

عن عبد الله بن خبيب قال: خرجنا في ليلة مطيرة وظلمة شديدة نطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي لنا، قال: فأدركته، فقال: «قل [ص:568]» فلم أقل شيئا، ثم قال: «قل»، فلم أقل شيئا، قال: «قل»، فقلت، ما أقول؟ قال: " قل: قل هو الله أحد، والمعوذتين حين تمسي وتصبح ثلاث مرات تكفيك من كل شيء ": هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه وأبو سعيد البراد هو: أسيد بن أبي أسيد.

صحيح البخاري (6/ 190)

عن عائشة: " أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أوى إلى فراشه كل ليلة جمع كفيه، ثم نفث فيهما فقرأ فيهما: قل هو الله أحد وقل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناس، ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده، يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده يفعل ذلك ثلاث مرات.

صحيح مسلم (4/ 1727)

عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كنا نرقي في الجاهلية فقلنا يا رسول الله كيف ترى في ذلك فقال: «اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك.

محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

3/رجب/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب