| 89564 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
بیوی اور شوہر کی لڑائی میں اگر شوہر کہے دوہزار دو ورنہ تمھیں تین طلاق ہے اور بیوی ٹال مٹول کے بعد آخر کار بیگ سے نکال کر دینے ہی والی ہو کہ ہاتھ سے چھین کر شوہر لے۔ پھر کہے اگر بیوی نے یہ (دو ہزار) لیے یا میں نے دے دیے تو بھی تین طلاق۔ اس کے بعد بیوی لینے کی کوشش کرے مگر شوہر نہ دے ۔ پھر دوسرے دن شوہر انہی پیسوں میں مزید سو (100) روپے ملا کر بیوی کے آگے رکھے کہ اٹھالو، ہاتھ میں نہ دے لیکن بیوی نہ اٹھائے اور کہے یہ تو وہی ہیں ۔ پھر شوہر اپنے بٹوے سے اپنے دوہزار نکال کر دے کہ مجھے پتہ نہیں چلا چلو اب یہ دوہزار ایک سو، رکھ لو لیکن بیوی نہ لے اور کہے کہ بس بچوں کو دیں اور شوہر کہے ٹھیک ہے ان کو بازار سے کچھ لے کر دے دینا اور بیوی پیسے واپس بچوں کو دے۔ ہزار تمھارے ہزار تمھارے ۔ اور بچے لے لیں بعد میں بچے ماں کے پاس رکھوالیں۔ تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟
تنقیح:مستفتی سے فون پر رابطہ کرنے پر مستفتی نے مزید بتایا کہ ہمارے درمیان لڑائی چل رہی تھی،شوہر نے کہا تم نے بچوں کی نیند خراب کردی اب مجھے دوہزار دو، میں بچوں کو دوں گا ۔ انہوں نے یہ الفاظ کہے کہ '' مجھے دو ہزار دو اگر نہیں دیے تو تجھے تین طلاق''۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوئی ہیں کیونکہ جب شوہر نے پیسے بیوی کے سامنے رکھے تو شوہر کا دینا پایا گیا، گو بیوی کا لینا نہیں پایا گیا۔
لہذا میاں بیوی کا فورا جدا ہونا ضروری ہے، اس واقعہ کے بعد جتنا عرصہ ساتھ گزارا ہے اس پر نادم ہوکر اللہ تعالی سے استغفار کریں۔
حوالہ جات
سورۃ البقرۃ رقم الاٰیۃ:(230)
﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنۢ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴾
الھدایۃ :(1/244)
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق .
الفتاوی الھندیۃ:(1/420)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
فقہ البیوع :(1/417)
فأما النقود الرائحة اليوم، سواء أكانت في صورة عملة معدنية من غير الذهب والفضة، أم كانت فى صورة النقود الورقية، فإنها تعتبر من العدديات، فتجرى عليها أحكامها في تحقق القبض....
فقہ البیوع :(1/415)
أما العدديات، فالشافعية والمالكية يشترطون العد التمام القبض كما يشترطون الكيل في المكيلات، والوزن في الموزونات. أما الحنفية، فيكفي عندهم التخلية...
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
09/رجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


