| 89863 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بخدمت حضرت مفتی صاحب مدظلہ العالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گزارش ہے کہ "ابراہیم محمد" نامی شخص کا انتقال ہو گیا ہے۔ مرحوم کے ورثہ کی تفصیل درج ذیل ہے، براہِ کرم شرعی تقسیمِ وراثت کے بارے میں رہنمائی فرمائیں: ورثہ کی تفصیل: والدین: مرحوم کے والدین کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہو چکا تھا۔ بھائی/بہن: مرحوم کا کوئی بھائی نہیں ہے۔ البتہ 2 حقیقی بہنیں موجود ہیں۔ ازدواجی حیثیت: مرحوم غیر شادی شدہ تھے (کوئی بیوہ یا اولاد نہیں ہے)۔ عصبہ کی تفصیل: مرحوم کے والد اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے، اس لیے مرحوم کا کوئی حقیقی چچا یا چچا زاد بھائی نہیں ہے۔ البتہ مرحوم کے والد کے چچا زاد بھائی موجود ہیں، جن میں سے 2 حقیقی اور 5 علاتی (باپ شریک) ہیں۔ درخواست: شرعی اصولوں کے مطابق یہ واضح فرما دیں کہ مال کی تقسیم کیسے ہوگی؟ کیا والد کے چچا زاد بھائی "عصبہ" کی حیثیت سے وارث بنیں گے؟ اور کیا حقیقی اور علاتی رشتہ داروں کا حکم ایک جیسا ہوگا یا ان میں ترجیح ہوگی؟ (جواب دے کر اجر حاصل کریں)۔ سائل: ادریس سلیمان سیدات کراچی
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے انتقال کے وقت جو جائیداد منقولہ و غیر منقولہ اورنقد رقم یا قابل وصول قرض وغیرہ چھوڑا ہے وہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر ان کے ذمے کسی کا واجب الاداء قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچے اس میں سے فیصدی اعتبار سے میت کی ہر ایک بہن کو 33.33% دیا جائے گا اور ميت كے والدکے حقیقی چچا زاد بھائی میں سے ہر ایک کو %11.11ملے گا۔ علاتی بھائی حقیقی بھائی کی وجہ سے محروم ہوں گے۔
حوالہ جات
القرآن : ( النساء : 176)
وهو يرثها ان لم يكن لها ولد. فان كانتا اثنتين فلهما الثلثان مما ترك.
السراجي فی المیراث (39):
أحوال الأخوات لأب وأم: وأما للأخوات لأب وأم فأحوال خمس: النصف للواحدة، والثلثان للاثنتین فصاعدة….. الخ
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 775):
(ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) (ثم جزء جده العم) لأبوين ثم لأب ثم ابنه لأبوين ثم لأب (وإن سفل ثم عم الأب ثم ابنه ثم عم الجد ثم ابنه)
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 774):
قوله: ويقدم الأقرب فالأقرب إلخ) أي الأقرب جهة ثم الأقرب درجة ثم الأقوى قرابة فاعتبار الترجيح أولا بالجهة عند الاجتماع، فيقدم جزؤه كالابن وابنه على أصله كالأب وأبيه ويقدم أصله على جزء أبيه كالإخوة لغير أم وأبنائهم، ويقدم جزء أبيه على جزء جده كالأعمام لغير أم وأبنائهم وبعد الترجيح بالجهة إذا تعدد أهل تلك الجهة اعتبر الترجيح بالقرابة، فيقدم الابن على ابنه والأب على أبيه والأخ على ابنه لقرب الدرجة، وبعد اتحاد الجهة والقرابة يعتبر الترجيح بالقوة، فيقدم الأخ الشقيق على الأخ لأب، وكذا أبناؤهم.
مجیب الرحمان بن محمد لائق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
06 /شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مجیب الرحمٰن بن محمد لائق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


