03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جنسی عدمِ تسکین کی بنیاد پر مطالبہِ طلاق کی شرعی حیثیت
89904نکاح کا بیانکئی بیویوں میں برابری کا بیان

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب! میں ایک بیوی ہوں، میری عمر 32 سال ہے اور میرے شوہر کی عمر 42 سال ہے۔ ہماری شادی کو 13 سال ہو چکے ہیں۔ الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تین صحت مند اور خوبصورت بچیوں سے نوازا ہے، جن کی عمریں بالترتیب 12 سال، 10 سال اور 6 سال ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ شادی کے آغاز سے ہی جب ہم ہمبستری کرتے تو مجھے کچھ خاص اطمینان نہ ہوتا، لیکن مجھے کچھ سمجھ نہ آتی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ شاید اسی لیے میں ہمبستری میں کم دلچسپی لینے لگی اور شوہر کے اصرار کے باوجود ہمبستری کرنے میں زیادہ دنوں کا وقفہ ڈالنے لگی۔ میرا شوہر شروع سے ہی مجھے کہتا کہ مجھے ہر دو دن بعد جنسی تعلق قائم کرنے دو، لیکن میں اسے روکتی رہی؛ اس کی شدید خواہش کے باوجود بار بار میں اسے انکار کرتی رہی۔ شادی کے ایک سال بعد ہماری بڑی بچی پیدا ہوئی، اس کے دو سال بعد دوسری بچی پیدا ہوئی۔ پھر میں نے شوہر کو وقفے کا کہا اور پھر ہماری تیسری بچی پانچ سال کے وقفے سے پیدا ہوئی۔

چونکہ ہمیں لڑکے کی خواہش تھی، لیکن باوجود دم درود کے میرا شوہر لڑکا پیدا نہ کر سکا اور ہمبستری میں بھی مجھے مطمئن نہ کر سکا۔ کیونکہ اس کے نفس کے چھوٹے سائز (تقریباً صرف 4 انچ) کی وجہ سے اور بہت جلدی ڈسچارج ہو جانے کی وجہ سے میری ضرورت پوری نہیں ہوتی تھی۔ جب کبھی بھی میرے شوہر نے ہمبستری کی تو میں ویسے کی ویسے ہی نامکمل رہی، یعنی نہ میری ضرورت پوری ہوئی آج تک اور نہ ہی میں کبھی ڈسچارج ہوئی۔ اس صورتحال میں میرے دل میں بہت برے برے خیالات آتے ہیں کہ میں کسی غیر مرد سے اپنی ضرورت پوری کروں یا کسی دیوار کو سر مار کر مر جاؤں یا اسے مار دوں۔ اس لیے پچھلے ایک سال سے میں نے شوہر کو ہمبستری کرنے سے منع کر دیا ہے۔ کبھی ہو جائے جو 40، 50 دنوں بعد یا اس سے بھی زیادہ دنوں بعد کر لیں تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ بھی نہیں۔

اب میں نے شوہر سے فوری طلاق کا مطالبہ بھی کر دیا ہے، لیکن میرا شوہر بار بار ایک ہی بات کرتا ہے کہ مسئلہ چھوٹے سائز کا نہیں، مسئلہ صرف جلدی فارغ ہونے کا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے موقع دو میں علاج کرواتا ہوں، جلدی ڈسچارج ہو جانے والا معاملہ ٹھیک ہو جائے گا اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، لیکن میں اب اس سے تنگ آ چکی ہوں۔

ساری صورتحال بیان کرنے کے بعد میرا سوال ہے کہ کیا میں کسی غیر مرد سے اپنی ضرورت پوری کر سکتی ہوں؟ کیا اسلام مجھے اس بات کی اجازت دیتا ہے؟ یا کیا میں اس سے طلاق لے لوں؟ کیونکہ اللہ نے مجھے بھی زندگی دی ہے، مجھے اپنی زندگی جینے کا پورا حق ہے؛ میں اسی طرح گھٹ گھٹ کر مر جاؤں کیا؟ دینِ اسلام اس بارے میں کیا حکم دیتا ہے؟ میری رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللّٰہ خیرا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دینِ اسلام میں کسی بھی صورت میں مرد یا عورت کے لیے کسی غیر محرم سے جنسی تعلق قائم کرنا یا ناجائز طریقے سے اپنی تسکین کرنا قطعی طور پر حرام اور کبیرہ گناہ ہے؛ کیونکہ یہ بدترین عمل (زنا) اللہ کے غضب، لعنت اور سخت ترین اخروی سزا کا موجب بنتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے انسانی ضرورت کی تسکین کا واحد حلال اور جائز ذریعہ میاں بیوی کے مقدس رشتے کو قرار دیا ہے، لہٰذا دل میں برے خیالات آنے پر کثرت سے "استغفار" اور "لاحول ولا قوۃ إلا باللہ" کا ورد کیا کریں اور ان شیطانی وساوس کو نظر انداز کریں۔

چونکہ میاں بیوی کے رشتے میں جنسی تعلق ایک دوسرے کا شرعی اور ضروری حق ہے، اس لیے بلاوجہ شوہر کو ہمبستری سے روکنا ناجائز اور گناہ ہے، جو معاشرے میں کئی دیگر برائیوں کا سبب بنتا ہے- اسی لیے احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت کے لیے سخت وعید آئی ہے۔ مزید یہ کہ ہمبستری کے دوران مکمل سکون اور فراغت (Orgasmic Climax) حاصل نہ ہونے کی کئی نفسیاتی اور جسمانی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں ذہنی تناؤ، جسمانی ہارمونل تبدیلیاں، شوہر کی طرف عدم التفات اور ہمبستری سے قبل مناسب ملاعبت (Foreplay) کی کمی وغیرہ شامل ہے۔ لہٰذا عورت کے لیے لازم ہے کہ شوہر کے لیے مناسب بناؤ سنگھار کرے اور اس کی طرف پوری توجہ دے تاکہ دونوں کو دلی سکون حاصل ہو۔ اگر پھر بھی ضرورت محسوس ہو تو کسی ماہرِ امراضِ نسواں (Gynecologist) سے مشورہ کیا جائے۔ تاہم ایسی صورتحال میں جنسی عدمِ تسکین کوشوہر کا قصور سمجھ کر فوری طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس کے کئی اسباب ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ کا تعلق بیوی اور ماحول سے بھی ہوتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال کاموں میں طلاق سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل ہے۔

تاہم شوہر پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی تسکین کے ساتھ ساتھ بیوی کی ضرورت اور اطمینان کا مکمل خیال رکھے۔ اگرچہ شرعی طور پر مہینے میں ایک مرتبہ ہمبستری سے بیوی کا واجب حق ادا ہو جاتا ہے لیکن حسنِ معاشرت کا تقاضا یہی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی جسمانی و نفسیاتی تسکین کا بھرپور لحاظ رکھیں، اور ہمبستری کے دوران صرف دخول پر اکتفا کرنے کے بجائے "ملاعبت" (Foreplay) کو مناسب وقت دیں، تاکہ فریقین کی طبیعت مکمل طور پر آمادہ اور مطمئن ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے اگر شوہر اپنے ہاتھ کے ذریعے بھی بیوی کو فارغ (Discharge) کرتا ہے تو یہ شرعاً حرام نہیں ہے۔ مزید شوہر کو چاہیے کہ وہ کسی ماہرِ جنسیات (Sexologist) یا ماہرِ نفسیات سےبھی رجوع کرے۔

ان تمام تدابیر کے ساتھ ساتھ اپنے اوقات میں "رجوع الی اللہ" کی کیفیت پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے حالات کی درستی اور سکونِ قلب کی دعا مانگتی رہیں۔

حوالہ جات

صحيح البخاري – 3237

حدثنا مسدد  ، حدثنا أبو عوانة  ، عن الأعمش  ، عن أبي حازم  ، عن أبي هريرة  رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح "  تابعه شعبة  ، وأبو حمزة  ، وابن داود  ، وأبو معاوية  ، عن الأعمش  .

جامع الترمذي – 1160

حدثنا هناد  ، حدثنا ملازم بن عمرو  ، قال : حدثني عبد الله بن بدر  ، عن قيس بن طلق  ، عن أبيه طلق بن علي  ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته ، وإن كانت على التنور "  . قال أبو عيسى : هذا حديث حسن غريب .

الدر المختار (201/1)

ويَسْقط حقها بمرَّة ويجب ديانة أحياناً ولا يبلغ مدة الإيلاء إلا برضاها، ويؤمر المتعبد بصحبتها أحياناً، وقدره الطحاوي بيوم وليلة من كل أربع لحرة وسبع لأمة. ولو ،تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها والرأي في تعيين المقدار للقاضي بما يظن طاقتها.

 رد المحتار: (428/4)

وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: ٣٤] أي لا تطلبوا الفراق.

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

6 شعبان المعظم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب