03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سی پی فنڈ(کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ) کے لیے AMC میں کنوننشنل اکاونٹ کھولنا
89937سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

مفتی صاحب حکومت نے سرکاری ملازمیں کےلئے پرانی پنشن سکیم کی بجائے اب نئی پنشن سکیم متعارف کروائی ہے جس کو سی پی فنڈ(کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ) کہاجاتا ہے۔ جس میں ملازم کو کسی ایسٹ منیجمنٹ کمپنی(AMC) میں اکاونٹ کھولنا ہوتا ہے جس میں ملازم کی بنیادی تنخواہ سے 10 فیصد اور حکومت کے فنڈ سے 12 فیصد کٹتے ہیں۔ یہ پیسہ اس AMCs میں انوسٹ ہوتا ہے جس سے ملازم کو ریٹارمنٹ کے بعد پنشن ملتی ہے۔ مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ یہ اکاونٹ دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ا۔ اسلامک شریعہ 2۔ کنونشنل .تو کیا کنونشنل اکاونٹ بنایا جاسکتا ہے ؟ کیا یہ حلال ہوگا ؟ حکومت کی طرف سے اجازت ہوتی ہے کہ کسی بھی کمپنی میں کسی قسم کا اکاونٹ بنایئں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سی پی اکاؤنٹ (Contributory Pension Account) درحقیقت ملازم ہی کی ملکیت ہوتا ہے اور اس کی قانونی حیثیت ایک عام بینک اکاؤنٹ جیسی ہے۔ جب ملازم کسی ایسٹ مینجمنٹ کمپنی (AMC) کا انتخاب کر کے اپنا یہ اکاؤنٹ حکومت کو فراہم کرتا ہے تاکہ اس میں سرمایہ کاری کرےجس سے ملازم کو پنشن ملے گا، تو شرعی طور پرحکومت وکیل اور ملازم مؤکل بن جاتا ہے۔ چونکہ سودی کمپنیوں کے ساتھ اکاؤنٹ کھولنا گناہ کے کام میں تعاون (اعانت علی المعصیۃ) تو بہرحال ہے، اس لحاظ سے درج ذیل تین صورتیں بنتی ہیں:

اختیاری سودی اکاؤنٹ: اگر ملازم اپنی مرضی سے سودی (Conventional) اکاؤنٹ کھولے اور اس کے اختیار سے حکومت رقم کی کٹوتی کرے، تو چونکہ یہ صریح سودی معاملہ ہے جس کی شرعی طور پر قطعاً گنجائش نہیں اور اس سے حاصل ہونے والا نفع ناجائز اور حرام ہوگا۔ البتہ ملازم اپنی اصل جمع شدہ رقم اور حکومت کی طرف سے ملنے والی اصل رقم (Principal Amount) واپس لے سکتی ہے۔

جبری سودی اکاؤنٹ:اگر ملازم نے (اختیار کے باوجود ) سودی (Conventional) اکاؤنٹ کھول رکھا ہو اور حکومت اس کے اختیار کے بغیر جبری کٹوتی کر کے رقم اس اکاؤنٹ میں منتقل کر دے(چونکہ رقم ملازم کے اکاؤنٹ میں آنے سے شرعاً ملازم کا قبضہ متحقق ہو جاتا ہے) ایسی صورت میں کل رقم پر ملنے والا نفع سود ہونے کی بنا پر حرام ہے، اور صرف اصل رقم (اپنی اور حکومتی گرانٹ) واپس لے سکتا ہے۔ مزید یہ کہ غیر سودی متبادل موجود ہونے کے باوجود سودی اے ایم سی (AMC) کے ساتھ اکاؤنٹ کھولنا سودی نظام کا حصہ بننے اور گناہ کے کام میں مدد (اعانت علی المعصیۃ) کے زمرے میں آتا ہے، جس کی وجہ سے ملازم گنہگار ہوگا۔

اسلامک شریعہ اکاؤنٹ: اگر ملازم کسی اسلامک شریعہ کمپلائنٹ کمپنی کے ساتھ اکاؤنٹ کھولے، تو اس صورت میں حاصل ہونے والا نفع مکمل طور پر حلال اور جائز ہوگا، خواہ حکومت رقم جبری طور پر کاٹے یا ملازم کی مرضی سے۔

چونکہ حکومت نے ملازمین کو غیر سودی (اسلامک) کمپنی کے انتخاب کا مکمل اختیار اور سہولت فراہم کی ہے، اس لیے آپ پر شرعی طور پر لازم ہے کہ صرف اسلامک شریعہ کمپلائنٹ اکاؤنٹ ہی کا انتخاب کریں۔ اس طرح آپ کا اصل سرمایہ اور اس پر ملنے والا نفع ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک رہے گا اور آپ کی آمدنی مکمل طور پر حلال ہوگی۔

حوالہ جات

صحيح البخاري – 52

حدثنا أبو نعيم ، حدثنا زكرياء ، عن عامر ، قال : سمعت النعمان بن بشير ، يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول : " الحلال بين والحرام بين ، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس ، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه ، ومن وقع في الشبهات كراع يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه ، ألا وإن لكل ملك حمى ، ألا إن حمى الله في أرضه محارمه ، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ، ألا وهي القلب".

بدائع الصنائع (188/8)

ورواه البيهقي في المعرفة عن فضالة بن عبيد، موقوفا بلفظ : «كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا ورواه في السنن الكبرى عن ابن مسعود وأبي بن كعب وعبد الله بن سلام وابن عباس - رضي الله عنهم - موقوفا عليهم اهـ. وفي مختصر "إغاثة اللهفان لابن القيم المسمى "بتبعيد الشيطان" منع رسول الله صلى الله عليه وسلم من القرض الذي يجر النفع وجعله ربا ومنع من قبول هدية المقترض إن لم يكن بينهما عادة جارية بذلك قبل القرض». ففي سنن ابن ماجه عن يحيى بن إسحاق الهنائي، قال: سألت أنس بن مالك والرجل منا يقرض أخاه المال فيهدي إليه، فقال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا أقرض أحدكم قرضا فأهدى إليه أو حمله على الدابة فلا يركبها ولا يقبله إلا أن يكون جرى بينه وبينه قبل ذلك»، وروى البخاري في تاريخه عن بريدة بن أبي يحيى الهنائي عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا أقرض أحدكم فلا يأخذ هدية»، وفي صحيح البخاري عن أبي بردة عن أبي موسى: قدمت المدينة، فلقيت عبد الله بن سلام فقال لي: «إنك بأرض الربا فيها فاسق فإذا كان لك على رجل حق فأهدي إليك حمل تبن أو شعير فلا تأخذه فإنه ربا، وجاء هذا المعنى عن ابن مسعود وابن عباس وابن عمر وغيرهم والمراد بالكراهة الكراهة التحريمية، كما يفيده تعليلهم بأنه ربا، وهي المرادة من الحرمة في قول من تكلم بحرمة المشروط فإن المكروه التحريمي قريب من الحرام.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166)

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه.

 البحر الرائق شرح کنز الدقائق (7/ 300)

(قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن ) يعني لا يملك الأجرة إلابواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك ،كما أشار إليه القدوري في مختصره. لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها.

 مختصر القدوری ص: 449

ومن شر الوكالة ان يكون الموكل ممن يملك التصرف ويلزمه الأحكام والوكيل ممن يعقل البيع ويقصده.

 فقہ البیوع (1030/2)

فتح حساب التوكيل أو الوديعة الثابتة: وحساب التوفير (Saving Account) حساب يعطي الحق لصاحب الحساب أن يحسب حدا معينا من المبالغ المودعۃ فيه، ويعطى البنك على ذلك فائدة ربویۃ بنسبة أدنى من النسبة التي تعطى لصاحب الوديعة الثابتة (Fixed Deposit) التي تودع فيھا الأموال الى مدة معينة وتعطي البنوك لأصحابها فائدة بنسبة أعلى. وكل واحد من الحسابين ربوی بحت، والإيداع في هذين الحسابين حرام شرعا،لكونه تعاقد بالربا.

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

7 شعبان المعظم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب