| 89836 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
میں ایک کمپنی میں ٹیکنیکل کوآرڈینیٹر (Technical Coordinator) کی پوسٹ پر اپنی ذمہ داری سنبھالتا ہوں، لیکن بدقسمتی یہ ہے یہاں لوڈر بنا دیا گیا ہے، انجینئرنگ کرنے کے بعد مجھ سے یہاں لوڈر کا کام لیا جاتا ہے، جبکہ یہ شریعہ ایڈوائزر کے ساتھ کمپنی ہماری چل رہی ہے۔ میرے مینیجر نے حکم دیا آپ شیلڈ کمپنی جاؤ وہاں انورٹر لوڈنگ کرنے ہیں، میں نے پہلے کی طرح منع نہیں کیا بلکہ چلا گیا، واپسی میں میری بائیک خراب ہوئی جیسے کر کرا کے میں آفس واپس آگیا۔ پھرمینیجر نے حکم دیا آپ نے میزان بینک جانا ہے، 20kva یو پی ایس (UPS) ود (مع) بیٹری بینک تھرڈ فلور (3rd floor) سے لانا ہے، اگر اس کو کچھ ہو جاتا اس کا ذمہ دار بھی میں تھا، اتنا بھاری بغیر لیبر کے یو پی ایس وہ اٹھانا تھا میں چلا گیا۔ مینیجر کے منع کرنے کے باوجود کہ آپ بائیک سوزوکی میں نہیں رکھو گے، کیونکہ بائیک میں نے آفس کے باہر چین کور کھول کے ٹھیک کی اور میں چلا گیا۔ راستے میں بائیک کی کپلنگ ٹوٹ گئی جس پر چین چڑھائی جاتی ہے، میں نے پھر بائیک کو سوزوکی میں رکھ کر مکینک کے پاس گیا، وہاں اتاری اور میزان بینک چلا گیا جو کام مجھے دیا گیا تھا، وہ پورا کر کے واپس مکینک کی دکان آیا بائیک ٹھیک کروائی، اپنی پوزیشن پر پہنچا میزان بینک وہاں سے آؤٹ کیا اور گھر چلا گیا۔ پہلے تو یہ کمپنی کے کام میں بائیک خراب ہوئی، سیکنڈ (دوسرا) مزدوروں والا کام کرایا گیا، کیا یہ ٹھیک ہے شرعی اعتبار سے؟ آپ ٹیکنیکل کوآرڈینیٹر رکھو اس کو کچھ بتاؤ بھی نہیں، نہ پتہ چلنے دو، لوڈر بناؤ اور پھر وارننگ لیٹر دلواؤ کہ یہ جھوٹا ہے۔ براہِ مہربانی مجھے شرعی رہنمائی فرمائیں۔
وضاحت: کمپنی کے پاس سامان (بیٹری اور یو پی ایس) کی نقل و حمل کے لیے ایک سوزوکی موجود ہے۔ اس سوزوکی میں ذاتی بائیک لے جانے کی واضح ممانعت کے باوجود، ملازم نے مینیجر کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس نے کمپنی کے اوقات میں بائیک ٹھیک کروانے اور اپنا وقت بچانے کی خاطر اسے سوزوکی میں لوڈ کر کے مکینک تک پہنچایا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی اعتبار سے مینیجر اس بات کا پابند ہے کہ وہ ملازم سے اس کے طے شدہ منصب اور جے ڈی (Job Description) کے مطابق ہی کام لے۔ البتہ اگر کوئی کام مارکیٹ کے عام رواج (custom) کے مطابق اس ملازمت کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہو، تو اسے معاہدے میں صراحتاً ذکر نہ ہونے کے باوجود بھی لیا جا سکتا ہے۔ اگر کبھی کمپنی میں متعلقہ ٹیکنیکل کام دستیاب نہ ہو، تو وقتی کاموں میں اوقات کار کے دوران تعاون کرنا ضروری ہے، کیوں کہ یہ اوقات کمپنی کو بیچے جا چکے ہیں اور وقتی ضرورت سے ایسا کرنا فریقین کے مفاد میں ہے۔
اگر کام کا بوجھ بڑھ جائے یا نوعیت بدل جائے، تو اسے اوور ٹائم کے طور پر طے کیا جائے۔ تاہم، مینیجر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ملازم کو اس کے عہدے سے کم تر یا ایسے غیر متعلقہ کام پر مجبور کرے جس سے ملازم کا استحصال ہوتا ہو یا اس کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا لازم آتا ہو۔ ایسی صورتِ حال میں ملازم کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے کام سے انکار کر دے یا ملازمت چھوڑ دے۔
یو پی ایس اور بیٹری پر بغیر تعدی (غفلت یا غیر پیشہ ورانہ استعمال) کے ملازم کوممکنہ نقصان کا ضامن ٹھہرانا شرعاً ناجائز ہے۔
اپنی بائیک کے نقصان کا ضمان آپ ہی پر ہے کیونکہ آپ اسے اپنی مرضی سے استعمال کر رہے تھے۔
شرعا کمپنی کے اوقات کار میں نہ تو ذاتی کا م کرنا جائز ہے اور نہ ہی کمپنی کے سوزوکی میں بائیک لےکر جانا جائز ہے۔
اگر مینیجر کے پاس ملازم کی کوتاہی کا کوئی شرعی یا قانونی ثبوت نہیں ہے اور ملازم نے کام کی انجام دہی میں مناسب وقت لگایا ہو تو بلاوجہ ملازم کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اسے وارننگ دینا گناہ ہے،ایسے صورتحال میں وارننگ لیٹرواپس لےکر اس کا ازالہ کرے اور اپنے اس عمل پر ملازم سے بھی اور اللہ کے ہاں معافی مانگنی چاہیے۔
چونکہ عام طور پر ملازمت کے دوران اوقاتِ کار میں کچھ نہ کچھ کمی بیشی ویسے بھی ہوتی رہتی ہے؛ لہٰذا اس کے ازالے اور اپنی آمدنی کو مکمل طور پر حلال و طیب کرنے کے لیے ملازم کو چاہیے کہ وہ دیگر مفید کاموں میں تعاون کرے۔
حوالہ جات
القدوری(510):
قال العلامه ابو الحسین القدوری رحمہ اللہ: والأجير الخاص: هو الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل، أو لرعي الغنم … ومن استأجر عبدا للخدمة فليس له أن يسافر به، إلا أن يشترط عليه ذلك في العقد۔
البناية شرح الهداية (226/10)
قال العلامه العینی رحمہ اللہ: (ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة) ش: أي لا يصح عقد الإجارة حتى تكون المنافع معلومة م (والأجرة معلومة) ش: وهذان لا خلاف فيهما م: (لما روينا) ش: أشار به إلى قوله عليه السلام من استأجر أجيراً فليعلمه أجره فالحديث دل بعبارته على اشتراط إعلام الأجرة وبدلالته على اشتراط إعلام المنافع لأن اشتراط إعلامها لقطع المنازعة فالمنفعة تشاركها في المعنى م: (ولأن الجهالة في المعقود عليه، وفي بدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع) ش: لأن شرعية المعاوضات لقطع المنازعات والجهالة فيهما مفضية إليها.
المبسوط للسرخسي(109/11)
قال العلامه شمس الدین السرخسی رحمہ اللہ: وقال عمر رضى الله تعالى عنه العارية کاالوديعة لا يضمنها صاحبها إلا بالتعدي . وقال على رضى الله تعالى عنه لا ضمان على راع ولا على مؤتمن . والمعنى فيه أن المودع متبرع في حفظها لصاحبها والتبرع لا يوجب ضمانا على المتبرع للمتبرع عليه فكان هلاكها في يده كهلاكها في يد صاحبها وهو معنى قول الفقهاء رحمهم الله تعالى يد المودع كيد المودع ويستوي أن هلك بما يمكن التحرز عنه أو بما لا يمكن لأن الهلاك بما يمكن التحرز عنه بمعنى العيب في الحفظ ولكن صفة السلامة عن العيب إنما تصير مستحقا في المعاوضة دون التبرع والمودع متبرع.
الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی (317/6)
قال العلامه برھان الدیں المرغینانی رحمہ اللہ: قال (القدوری): ولا ضمان على الأجير الخاص فيما تلف في يده، ولا ما تَلِفَ من عمله، أما الأول (ما تلف في يده) ؛ فلأن العين أمانة في يده؛ لأنه قبض بإذنه، وهذا ظاهر (المستأجر) عنده، وكذا عندهما؛ لأن تضمين الأجير المشترك نوع استحسان عندهما؛ لصيانة أموال الناس وأجيرُ الوَحْدِ لا يقبل الأعمال، فتكون السلامة غالباً، فيؤخذ فيه بالقياس.
الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري(585/1)
قال العلامه ابوبکر الزبیدی رحمہ اللہ: قوله: (وَالإِجَارَةً تُفْسِدُهَا الشُّرُوطُ كَمَا تُفْسِدُ البيع) يعني الشروط التي لا يقتضيها العقد كما إذا شرط على الأجير الخاص ضمان ما تلف بفعله، أو بغير فعله، أو على الأجير المشترك ضمان ما تلف بغير فعله على قول أبي حنيفة رحمہ اللہ.
ظہوراحمد
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
22 رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


