| 89927 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
ہم مشترکہ گھر میں والدین اور چار بھائی رہتے ہیں ۔ ہمارے والد صاحب کی اپنی کمائی بہت اچھی ہے ۔تین بھائی مشترکہ طور پر باپ کا کاروبار چلا رہے ہیں جبکہ چوتھا بھائی بیوی بچوں سمیت ملک سے باہر رہتا ہے۔ والد صاحب نے بیرون ملک رہنے والے بھائی سے مطالبہ کیا کہ تمھارے پاس جتنا مال دولت ہے وہ مجھے بھیج دو،ورنہ تمھیں نہ گھر آنے کی اجازت ہوگی اور نہ میں تم سے تعلق رکھوں گا ، والد صاحب کے دعوی کے مطابق اس حدیث کی روشنی میں (أنت ومالك لأبيك) جب تک وہ زندہ ہیں سب بھائیوں کی کمائی ان کی ملکیت ہوگی ۔ چاہے بیٹے ان کے ساتھ رہائش پذیر ہوں یا الگ ۔ اس کے علاوہ ان کے کہنے کے مطابق ان کے مرنے کے بعد بھی اپنے اموال کو میرے اموال کے ساتھ ملا کر تقسیم کروگے تم میں سے جو بھی اپنا مال بقیہ اموال کے ساتھ نہیں ملائے گا اس کو میراث میں حصہ نہیں ملے گا ۔ میرا سوال یہ ہے کہ شریعت کی رو سے یہ سب کرنا جائز ہے یا نہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے۔ اگر والدین ضرورت مند ہوں تو ان کی مالی اعانت کرنا اور خدمت بجا لانا اولاد پر لازم ہے۔ والدین خود مالدار ہوں تو اولاد پر ان کا نفقہ لازم نہیں ۔ والد کے یہ کہنے سے کہ بیٹے کو میراث میں حصہ نہیں ملے گابیٹا وراثت سے محروم نہیں ہوگا،نہ ہی والد کو بیٹے کے ذاتی مال پر جبرا قبضہ کرنا جائز ہے۔البتہ اگر دوسرے بیٹے اپنی ساری کمائی والد کے پاس جمع کرواتے ہیں اور یہ بیٹا جمع نہیں کروارہا تو والد صاحب دیگر بیٹوں ،جو اپنی آمدن والد صاحب کے پاس جمع کرتے رہیں،کو ان کی کمائی کے بقدر مال اپنی زندگی میں ہبہ کرسکتا ہے۔ایسی صورت میں بیرون ملک بیٹے کو ہبہ میں برابر حصہ دینا ضروری نہ ہوگا۔
حوالہ جات
كتاب اللآثار للإمام محمد 766:
إذا كان محتاجاً أن يأكل من مال ابنه”'بالمعروف» فإن كان غنیا فأخذ منه شيئا فهو دين عليه؛ وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالی.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 30):
"وروي عن جابر بن عبد الله - رضي الله عنه - أن «رجلًا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه أبوه، فقال: يا رسول الله إن لي مالًا، وإن لي أبًا وله مال، وإن أبي يريد أن يأخذ مالي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنت ومالك لأبيك»، أضاف مال الابن إلى الأب؛ فاللام للتمليك، وظاهره يقتضي أن يكون للأب في مال ابنه حقيقة الملك، فإن لم تثبت الحقيقة فلاأقل من أن يثبت له حق التمليك عند الحاجة.
أعلاء السنن_321:11/
عن قیس بن أبی حازم جاء رجل إلی أبی بکر الصدیقؓ فقال: إن أبی یرید أن یأخذ مالی کله لحاجة، فقال لأبیه: إنما لك من ماله مایکفیك، فقال: یا خلیفة رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم ألیس قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم: أنت ومالك لأبیك؟ فقال نعم وإنما یعنی بذلك النفقة ارض بما رضی اللہ عزوجل رواہ الطبرانی فی الاوسط والبیهقی قلت: قولهﷺ ’’أنت ومالك لأبیك‘‘ معنه ما فی الحدیث عائشةؓ أی إذا احتاج الأب إلی ماله فله أن یأخذ منه بقدر الحاجة من غیر اسراف وھٰذا ھو مذھب الحنفیة فی الباب، وقد فسره بذلك ابوبکر رضی اللہ عنه وکفیٰ به مفسراً . واللہ تعالی اعلم.
المحيط البرهاني (3/ 577):
قال: ويجبر الرجل الموسر على نفقة أبيه وعلى نفقة أمه. وإذا كانا محتاجين لقوله تعالى: {ووصينا الإنسان بوالديه حسنا} . (العنكبوت: 8) فقد أوجب على الولد الإحسان لوالديه، ورأس الإحسان بوالديه إحيائهما، وذلك بالإنفاق عليهما، وقال عليه السلام: «إن أطيب ما يأكل الرجل من كسبه وإن ولده لمن (315ب1) كسبه، كلوا من كسب أولادكم إذا احتجتم إليه بالمعروف» ولأن للأب في مال الابن حق الملك، قال عليه السلام: «أنت ومالك لأبيك» وله كان له فيه حقيقة الملك كانت نفقته في ماله، فكذا إذا كان له حق الملك، إلا أنه إنما يجب عليه إنفاقهما إذا كان موسرا؛ لأن نفقة الأقارب صلة محضة.
تكملة حاشية ابن عابدين (8/ 116):
الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.
اسفندیارخان بن عابد الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
8/ شعبان المعظم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


