| 89825 | نماز کا بیان | نماز کےمفسدات و مکروھات کا بیان |
سوال
مجھے ودی کے بارے میں پوچھنا ہے کہ اس کے خارج ہونے سے غسل فرض ہوتا ہے یا صرف وضو کرنا کافی ہے؟ نیز اگر وضو کرنے کے بعد ودی شلوار پر لگ گئی تو کیا اس حالت میں پڑھی جانے والی نماز ادا ہو جائے گی اور اگر کسی شخص کی مستقل ودی خارج ہو رہی ہو تو ایسی صورت میں وہ کیا کرے کیوں کہ وہ جب بھی اپنا کپڑا پاک کرتا ہے تو پھر سے ودی خارج ہو جاتی ہے اور جو شخص اسی حالات میں بغیر پاکی اختیار کیے نماز پڑھتا رہا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے کیا اُسکی پہلی والی نمازیں قبول ہو ں گی یا ان نمازوں کو دوبارہ پڑھنا ہوگا؟ اب جو نمازیں اسی حالت میں پڑھی گئی تھی جو ہزار سے زیادہ تعداد میں ہے ان کی ادائیگی کی کیا ترتیب کرنی چاہیے۔
نکتۃ الغور :
- ودی کا کیا حکم ہے؟
- اگر ودی ایک بار دھو نے کے بعد دوبارہ فورا نکل آئے تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟
- اگر کسی شخص کی شلوار پر ودی لگی ہو، تو کیا ایسی حالت میں اس کی نماز ادا ہو جائے گی یا نہیں؟
- اس حالت میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر اس حالت میں ادا کی گئی نمازیں درست نہ ہوں اور ان کی تعداد ہزار سے زیادہ ہو، تو ان نمازوں کا قضاء کس طریقے سے کیا جائے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ودی کے نکلنے پر وضو لازم ہوگا، جبکہ شلوار پر لگی ہوئی ودی کو دھونا پڑے گا۔ اگر ودی دھوئے بغیر نماز پڑھی، اور جس جگہ پر ودی لگی ہوئی ہو وہ ایک درہم کی مقدار سے زیادہ ہو، تو نماز درست نہیں ہوگی اور نماز دوبارہ پڑھنا ہوگی۔ اگر ودی مسلسل خارج ہو رہی ہو، یعنی ابھی وضو کیا ہی تھا کہ دوبارہ ودی نکل آئی، تو اس صورت میں ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنا پڑے گا۔ جو نمازیں واجبُ الاعادہ تھیں اور وقت میں ادا نہیں کی گئیں، اب ان کی قضا کا طریقہ یہ ہے کہ اگر جتنی نمازیں رہ گئی ہیں ان کی تعداد معلوم ہو تو ترتیب کے ساتھ انہیں ادا کیا جائے۔ اور اگر تعداد یاد نہ ہو تو اندازہ لگا کر جتنی نمازیں ذمہ پر ہیں ان کی قضا شروع کریں۔ جب ظن غالب ہو جائے کہ تمام نمازیں پوری ہو گئی ہیں، تو یہی کافی ہے۔
حوالہ جات
شرح مختصر الكرخي (1/ 95):
وعلى هذا الودي: وهو الماء الأبيض الذي يخرج بعد البول فهو من توابع البول، فيوجب الوضوء.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (1/ 61):
أما الودي فإنه يكون بعد البول يغسل ذكره وأنثييه ويتوضأ ولا يغتسل.
كنز الدقائق (ص150):
وتتوضأ المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ لوقت كل فرض ويصلون به فرضا ونفلا.
المحيط البرهاني (1/ 192):
فالغليظة إذا كانت قدر الدرهم أو أقل فهي قليلة لا تمنع جواز الصلاة، وإن كانت أكثر من قدر الدرهم منعت جواز الصلاة.
اسفندیارخان بن عابد الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
22/ رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


