03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکاۃ کی رقم میں کسی مستحق کو کپڑے دینا شرعا کیسا ہے؟
89525زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

السلام علیکم میں نئے کپڑے اور   شادی بیاہ وغیرہ کی  تقریبات میں پہنے جانے والے کپڑےسیل کرتی ہوں جو بلکل نئی حالت میں ہوتی ہیں اور بازار میں بکنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ میرا بھائی اور شوہر ہر ماہ کچھ رقم زکاۃ کی مد میں مجھے دیتے ہیں کہ زکاۃ کے مستحق بچیوں کی شادی ہو تو میں زکاۃ کی رقم سے کپڑے خرید کر انہیں ہدیہ کر دوں ۔کیا ایسا کرنا درست ہے ؟یہ سب کپڑے  میرے نہیں ہوتے بلکہ کچھ میرے ہوتے ہیں اور کچھ میں  دوسروں سے خرید کر دیتی ہوں، مزید یہ کہ بعض اوقات میرے پاس زکاۃ کی رقم کیش  کی صورت میں نہیں ہوتی  بلکہ اکاؤنٹ میں ہوتی ہے یا ابھی انہوں نے مجھے ادانہیں  کیے ہوتے، تو کیا ایسا کرنا درست ہے کہ میں ان کی طرف سے اپنی رقم سے خرید کر زکاۃ کے مستحق کو دے دوں اور جب وہ زکاۃ کی رقم ادا کر ے اس میں سے اپنی رقم وصول کر لوں ان کی اجازت سے یا کپڑے ادھار لے کے زکاۃ کے مستحق کو دے دوں اور جب وہ زکاۃ کی رقم ادا کرے میں ان کپڑوں کا بل ادا کر دوں اور کیا میں ان کی اجازت سے اپنے خود کے کپڑے اس مد میں دے سکتی ہوں ۔برائے مہربانی رہنمائی فرما دیجئے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسؤلہ صورت کی درجہ ذیل صورتیں بنتی ہیں:

  1. بھائی یا شوہر نے پیسے دے کر کہا کہ اس سے مستحق بچیوں کے لیے کپڑے خرید کردیں اور آپ  نے کسی اور سے کپڑے خرید کربچیوں کو دے دیے تو یہ صورت درست ہے، ان کی زکاۃ ادا ہوگئی۔لیکن اگر آپ نے اپنے  اسٹاک میں سے کپڑے انہیں دیے اور اس کی قیمت خود رکھ لی   تو یہ صورت درست نہیں ہے۔
  2. بھائی یا شوہر نے پیسے نہیں دیے ، بلکہ کہا کہ ہماری طرف سے بطور زکاۃ کے اتنی مالیت کے کپڑے مستحقین کو دے دینا، ہم رقم بعد میں ادا کر لیں گے۔اس صورت میں آپ کسی اور سے کپڑے خرید کر دیں یا اپنے اسٹاک سے دیں دونوں  صورتیں درست ہیں اور  زکاۃ ادا ہوجائے گی۔
  3. آپ اپنی طرف سے اپنے اسٹاک سے مستحقین بچیوں کو کپڑے دیں یا خرید کر دیں اور غرض یہ ہو کہ یہ بھائی  یا شوہر کی طرف سے زکاۃ کے مد میں ہیں ، جن کی قیمت میں بعد میں وصول کرلوں گی۔ جبکہ بھائی یا شوہر نے صراحت نہ کی ہو  کہ کتنی مالیت کی زکاۃ کےبرابر کپڑے مستحق بچیوں کو دینے ہیں ۔اس صورت میں   ان کی زکاۃ ادا نہیں ہوئی۔

پیسے اکاونٹ میں بھیجے ہوں یا نقد دیے ہوں،اس سے حکم میں فرق نہیں پڑتا    ۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني (2/ 292):

وفي «المنتقى» : رجل أمر رجلا أن يؤدي عنه زكاة ماله فأداه قال: يجوز عنه.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 269):

ولو خلط زكاة موكليه ضمن وكان متبرعا إلا إذا وكله الفقراء وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت، ولو تصدق بدراهم نفسه أجزأ إن كان على نية الرجوع وكانت دراهم الموكل قائمة (أو مقارنةبعزل ما وجب) كله أو بعضه.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 31):

الوكيل بالشراء لا يملك الشراء من نفسه؛ لأن الحقوق في باب الشراء ترجع إلى الوكيل، فيؤدي إلى الإحالة: وهو أن يكون الشخص الواحد في زمان واحد مسلما ومتسلما مطالبا ومطالبا؛ ولأنه متهم في الشراء من نفسه.ولو أمره الموكل بذلك لا يصح.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 180):

المال ‌الذي ‌تجب ‌فيه ‌الزكاة أدى زكاته من ‌خلاف ‌جنسه أدى قدر قيمة الواجب إجماعا.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (3/ 616):

شرح المادة 1488: ليس للوكيل بالشراء أن يشتري للموكل أربعة أنواع من الأموال :

ليس للوكيل بالشراء أن يشتري ماله لموكله، يعني لو اشترى الوكيل بالشراء مال نفسه لموكله لا يصح شراؤه ولو قال له : اشتر مال نفسك لي؛ لأن الشخص الواحد ليس له أن يتولى طرفي العقد.

فقہ البیوع :(441/1) _

ربما يقع تسليم النقود عن طريق التحويل المصرفي ( Bank Transfer ) وذلك بأن يكون لزيد رصيد في حسابه الجارى ( current Account ) لدى بنك ألف ، ولعمرو رصيد في حسابه الجارى ( current Account ) لدى بنك ب ، فيأمر زيد بنك ألف أن يحول مبلغاً إلى رصيد عمرو في بنك ب . فحينما يدخل المبلغ في رصيد عمرو في بنك ب ، يعتبر عمرو قابضاً لتلك النقود .

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 534):

)والمأمور بالإنفاق) على أهل   أو بناء (أو القضاء) لدين (أو الشراء أو التصدق عن) زكاة (إذا أمسك ما دفع إليه ونقد من ماله) ناويا الرجوع كذا قيد الخامسة في الأشباه (حال قيامه) (لم يكن متبرعا) بل يقع التقاص استحسانا (إذا لم يضف إلى غيره) فلو كانت وقت إنفاقه مستهلكة ولو بصرفها لدين نفسه أو أضاف العقد إلى دراهم نفسه ضمن وصار مشتريا لنفسه متبرعا بالإنفاق؛ لأن الدراهم تتعين في الوكالة نهاية وبزازية، نعم في المنتقى: لو أمره أن يقبض من مديونه ألفا ويتصدق فتصدق بألف ليرجع على المديون جاز استحسانا.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 176):

ويجوز التعجيل لأكثر من سنة لوجود السبب كذا في الهداية.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 269):

 الوكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم الموكل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم الموكل صح.

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

3/رجب المرجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب