03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
’’یہ میری طرف سے آزاد ہے‘‘کہنے پرطلاق کا حکم
89472طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری بہن اور ان کےشوہر کے درمیان خرچے کی وجہ سےجھگڑا ہوا تو اس کےشوہر نے کہا: اس کو دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے، یہ میری طرف سے آزاد ہے۔  دوسری مرتبہ یہی الفاظ دہرانے لگا تو دوسرے بندے نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اس سے کہاکہ ایسے الفاظ نہیں بولتے ۔ جب ہمیں پتا چلا تو ہم ان کےگھر پہنچے تو اس نے ہمارے ساتھ بھی بدتمیزی کی اور یہی الفاظ دو مرتبہ دہرائے کہ: یہ میری طرف سے آزاد ہے، اس کولے جاؤ۔

اس واقعہ کو پانچ سال ہوگئے ہیں، اس دوران اس نے دوسری شادی بھی کرلی ہے۔ اب وہ کہہ رہا ہے کہ میرا طلاق کا مطلب نہیں تھا  لہذا میں نے طلاق نہیں دی۔ قرآن وسنت کی روشنی میں مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔

تنقیح:سائل سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ان پانچ سالوں میں سائل کی بہن شوہر سے جدااپنےمیکےمیں رہ رہی تھی اورقریبی پڑھےلکھےرشتہ دارسمجھتےتھےکہ طلاق ہوگئی جبکہ گاؤں دیہات کے دیگررشتہ دار جیسے والدین اس جدائی کوناراضگی سمجھتے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکرکی گئی تفصیل کے مطابق جب شوہر نے پہلی مرتبہ جھگڑے کےدوران یہ الفاظ کہےکہ’’یہ میری طرف سےآزادہے‘‘،تواس وقت ایک طلاقِ بائنہ واقع ہوگئی کیونکہ جھگڑےکےدوران ہمارےعرف میں یہ الفاظ طلاق کے لیے ہی استعمال ہوتے ہیں،نہ کہ سبّ وشتم کےلیے،نیزشوہر کا کلام دہراتے ہوئے ’’ اس کولے جاؤ‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرنابھی اس پر دلالت کرتاہےکہ سبّ وشتم کامعنی مقصودنہیں تھا ،لہذاوقوعِ طلاق کےلیے قرینہ مقام و سیاق ہی کافی ہوگااور شوہر کی نیت کااعتبارنہیں کیاجائےگا۔

البتہ پہلی مرتبہ کےالفاظ سے طلاقِ بائنہ واقع ہونےکےبعددوسری اورتیسری مرتبہ دہرائےگئےالفاظ(یہ میری طرف سے آزاد ہے، اس کولے جاؤ)سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی لہذااگرفریقین گواہوں کی موجودگی میں نئےمہرکےساتھ باہمی رضامندی سےدوبارہ نکاح کرناچاہیں تو کرسکتےہیں لیکن دوبارہ نکاح کےبعدشوہرکےپاس صرف دوطلاقوں کاحق باقی ہوگا۔

حوالہ جات

حاشية الشرنبلالي على درر الحكام شرح غرر الأحكام: (1/ 368)

(قوله: إما صالح للجواب فقط كاعتدي إلى اختاري) جعل منه في المواهب: سرحتك، فارقتك، أنت حرة، وهبتك لأهلك، الحقي بأهلك۔

درر الحكام شرح غرر الأحكام :(1/ 369)

(وفي) حال (الغضب يقع) الطلاق (بالصالح له) أي للجواب (فقط بلا نية) ؛ لأنه يصلح للطلاق الذي يدل عليه الغضب ولا يصلح للرد والشتم۔

الاختيار لتعليل المختار :(3/ 133)

وفي حالة الغضب يصدق إلا فيما يصلح جوابا لا غير، لأنه يصلح للطلاق الذي يدل عليه الغضب فيجعل طلاقا۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار :(ص: 214)

 ونحو اعتدي ،واستبرئي رحمك،أنت واحدة، أنت حرة، اختاري، أمرك بيدك، سرحتك، فارقتك، لا يحتمل السب والرد(وفي الغضب) توقف (الاولان) إن نوى وقع وإلا لا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) :(3/ 301)

(قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 308)

  (قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 438)

(قوله: أنت علي حرام ألف مرةتقع واحدة) كذا في الذخيرة والبزازية. ووجهه أنه عبارة عن تكرير هذا اللفظ ألف مرة وهو لو كرره لا يقع إلا الأول لأن البائن لا يلحق البائن۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187)

فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية.

فیصل حیات بن خان بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

28/جمادی الثانیہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب