03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا غیر مسلم کو ابدی عذاب ہو گا ؟
89838ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

۱۔جب کافرکاکفر متناہی ہےتواس  کے لیے ابدی عذاب کیوں ہے؟  ۲۔آخر ایک خالق اپنی مخلوق کو کیسے ایسا عذاب دے سکتا ہے جس کا اختتام نہ ہو ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ اشکال نیا نہیں، بلکہ بہت زمانے سے چلتا آ رہا ہے ۔اس اشکال کے دو جوابات مشہور ہیں، جو درج ذیل ہیں:

۱۔ اللہ کے علم  ِمحیط میں تھا کہ اگراسے مزید زندگی بھی دی جائےتوبھی  یہ ابد الآباد (ہمیشہ ہمیشہ) اسی حالتِ کفرمیں رہے گا ،اس لیےاسےابد الآباد جہنم کاعذاب  ہوگا۔چناچہ  قرآنی آیت ﴿وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ﴾ میں   اسی طرف اشارہ ہے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ نیک اور بد میں فرق کیا جائے۔ اگر دونوں کے ساتھ ہی برابر والا سلوک کیا جائے تو یہ حکمت کے خلاف ہوگا۔ اس لیے کفر جیسے جرم  میں عذاب  نہ دینا عدل کے خلاف ہے ۔کافر چونکہ اپنی کفر کو حق اور درست سمجھتا ہے اس سے معافی یا مغفرت کا طلب گار نہیں ہوتا ،جس کی بنا پر عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اسے معاف نہ کیا جائے۔

۲۔ واضح رہے کہ اللہ تعالی حقیقی مالک ہیں ،اور حقیقی مالک  اپنی ملک میں جو  کرتاہےاس سے پوچھا نہیں جاسکتا ۔نیز اللہ تبارک وتعالی بالعموم رحمت کرتے ہیں ،جیسا کہ بخاری و مسلم کی  حدیث   ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺکے پاس کچھ قیدی لائے گئے،ان میں ایک عورت تھی( بچے کے بچھڑ جانے کی وجہ سے )جس کا سینہ دودھ سے بھر ا   ہوا تھا۔اسے قیدیوں میں جو بچہ ملتا اسے اپنے سینےسے چمٹالیتی اور  دودھ پلاتی۔ یہ  منظردیکھ کر "آپ ﷺنے فرمایا کہ:کیا تم گمان کر سکتے ہوکہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دےگی"؟ہم نے کہا بخدا !نہیں وہ تو نہیں ڈالے گی۔اس پر آپ ﷺنے فرمایا:"اللہ  اپنے بندوں پراس عورت کے اپنے بچے پر رحم کرنے سے بھی کہیں زیادہ مہربان ہے"اسی سلسلے میں بخاری کی ایک اور روایت میں ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اللہ تعالی نے اپنے پاس عرش کے اوپر لکھ دیا: بے شک میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔

نیز اللہ تعالی پوری کائنات اور مخلوقات  کے بلاشرکت غیرِ مالک حقیقی ہیں ۔ اور مالک کا  ملکیت میں تصرف ظلم نہیں ہوتا،لہذا یہ سوچناہی بے عقلی کی بات ہےکہ جوتصرف اللہ تعالی کریں اس میں کہیں ظلم کا امکان ہے۔تاہم  اللہ تعالی بالعموم رحمت کامعاملہ کرتے ہیں ۔اللہ تعالی صرف  متمرد، اور سرکش کو  ہی  عذاب دیں گے،اور دائمی عذاب  عدلِ  الہی کے مطابق ہے  ۔

حوالہ جات

(صحيح البخاري، صحيح مسلم5653، 2754)

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه:قدم على النبي صلى الله عليه وسلم سبي، فإذا امرأة من السبي قد تحلب ثديها تسقي، إذا وجدت صبيا في السبي أخذته، فألصقته ببطنها وأرضعته، فقال لنا النبي صلى الله عليه وسلم: (أترون هذه طارحة ولدها في النار). قلنا: لا، وهي تقدر على أن لا تطرحه، فقال: (لله أرحم بعباده من هذه بولدها).

تفسير الطبري جامع البيان:21/487

{من عمل صالحا فلنفسه ومن أساء فعليها ‌وما ‌ربك ‌بظلام ‌للعبيد ‌‌(46) }يقول تعالى ذكره: من عمل بطاعة الله في هذه الدنيا، فائتمر لأمره، وانتهى عما نهاه عنه (فلنفسه) ۔۔۔(ومن أساء فعليها) يقول: ومن عمل بمعاصي الله فيها، فعلى نفسه جنى،۔۔۔۔۔. (‌وما ‌ربك ‌بظلام ‌للعبيد) يقول تعالى ذكره: وما ربك يا محمد بحامل عقوبة ذنب مذنب على غير مكتسبه، بل لا يعاقب أحدا إلا على جرمه الذي اكتسبه في الدنيا، أو على سبب استحقه به منه.

(النبراس شرح شرح العقائد النسفیۃ :495)

لأن قضية الحكمة التفرقة بين المسيء والمحسن۔۔۔۔۔۔۔۲۔ وأيضا: الكافر يعتقده حقا ولا يطلب له عفو أو مغفرة، فلم يكن العفو عنه حكمة [٤] وأيضًا: هو اعتقاد الأبد فيوجب جزاء الأبد، هذا بخلاف سائر الذنوب .                                                

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

22/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب