| 89565 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
زید بیرون ملک مقیم ہیں ۔زید نے احمد کو زکوٰۃ کی رقم بھیجی اور کہا کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے ،اسے آپ جہاں مناسب سمجھیں مستحقین میں خرچ کر دیں۔اب صورتحال یہ ہے کہ احمد بذات خود مالی طور پراتنا مضبوط نہیں ہے، مگر وہ زکوٰۃ کا مستحق بھی نہیں ہے ۔ اب مسئلہ درپیش یہ ہے کہ احمد جہاں کام کرتا ہے وہ کمپنی احمد کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے بھیج رہی ہے سارے اخراجات ٹکٹ، ویزہ ہوٹل کمپنی ادا کر رہی ہے، جبکہ زادِ راہ کی ذمہ داری احمد کی ہے، آیا احمد یہ زکوٰۃ کی رقم اپنے سفر عمرہ میں زادِ راہ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکوۃ مستحقینِ زکوۃ کے علاوہ کسی کو نہیں دی جاسکتی ۔احمد کیونکہ مستحق زکوۃ نہیں ہے، لہذا اس کے لیے زکوۃ کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں ۔اگر یہ مستحق ہوتا تو پھر یہ دیکھنے کی ضرورت ہوتی کہ اسے کن الفاظ سے زکوۃ کی ادائیگی کا وکیل بنایا گیا ہے ۔موجودہ صورت مسئلہ میں بہر صورت اپنے اوپر زکوۃ کا استعمال جائز نہیں۔
حوالہ جات
(سورۃ التوبۃ :الرقم ،(60
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾
)بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(2/39
وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه وهو المصدق والملك للفقير يثبت من الله تعالى وصاحب المال نائب عن الله تعالى في التمليك والتسليم إلى الفقير والدليل على ذلك قوله تعالى: {ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات} [التوبة: 104]
)البحر الرائق شرح كنز الدقائق:(2/227
وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا اهـ.
إلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأشار المصنف إلى أنه لا يخرج بعزل ما وجب عن العهدة بل لا بد من الأداء إلى الفقير لما في الخانية لو أفرز من النصاب خمسة ثم ضاعت لا تسقط عنه الزكاة ولو مات بعد إفرازها كانت الخمسة ميراثا عنه.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


