| 89972 | نماز کا بیان | اوقاتِ نمازکا بیان |
سوال
مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ رمضان المبارک میں مغرب کی اذان کے بعد جماعت 20 سے 25 منٹ بعد کھڑی ہوتی ہے۔ مسجد کمیٹی کے اس اقدام سے ان نمازی حضرات مسافروں کو جماعت کے لیے زحمت ہوتی ہے جنہیں آگے بھی سفر کرنا ہوتا ہے، تاکہ عشاء کی نماز تراویح تک اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔
اس بارے میں جواب عنایت فرمائیں کہ شریعت کی روشنی میں مسجد کمیٹی کا یہ اقدام کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نمازمغرب کے حوالے سے مستحب یہ ہے کہ اسے جلد ادا کیا جائے، بلا وجہ اس میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔تاہم رمضان میں افطار اور نمازیوں کی جماعت میں شمولیت کے پیش نظر قدرے تاخیر کی گنجائش ہے۔ چونکہ افطار کا عمل عموماً 10 سے 15 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، اس لیے اسی حد تک تاخیر قابل قبول ہے، اس سے زائد تاخیر کرنا مکروہ شمار ہوگی۔
حوالہ جات
فتح القدير :(1 / 227)
"( و ) يستحب ( تعجيل المغرب ) لأن تأخيرها مكروه لما فيه من التشبه باليهود،وقال عليه الصلاة والسلام { لا تزال أمتي بخير ما عجلوا المغرب وأخروا العشاء }…… ( قوله ويستحب تعجيل المغرب ) هو بأن لا يفصل بين الأذان والإقامة إلا بجلسة خفيفة أو سكتة على الخلاف الذي سيأتي : وتأخيرها لصلاة ركعتين مكروه."
رد المحتار:(1/369)
"(قوله: يكره تنزيها) أفاد أن المراد بالتعجيل أن لا يفصل بين الأذان والإقامة بغير جلسة أو سكتة على الخلاف. وأن ما في القنية من استثناء التأخير القليل محمول على ما دون الركعتين، وأن الزائد على القليل إلى اشتباك النجوم مكروه تنزيها، وما بعده تحريما إلا بعذر كما مر قال في شرح المنية: والذي اقتضته الأخبار كراهة التأخير إلى ظهور النجم وما قبله مسكوت عنه،فهو على الإباحة وإن كان المستحب التعجيل."
سید سمیع اللہ شاہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/شعبان المعظم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


