| 89491 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میرا نام گھر والوں نے "توحید" رکھا ہے۔ کیا یہ نام رکھنا جائز ہے؟ اب اگر گھر والوں نے رکھ دیا ہے تو کیا حکم ہوگا؟ میرے تمام کاغذات پر یہی "توحید" نام ہے، اور مشہور بھی یہی ہے۔ لیکن چند علماء کرام نے مجھے کہا کہ آپ اپنے نام کے متعلق شرعی رہنمائی حاصل کرلیں کہ توحید اللہ کی صفت ہے اور اللہ کے ساتھ خاص ہے۔ لہذا اگر کوئی گنجائش نکل سکتی ہے تو بتا دیں، ورنہ میں اپنا تبدیل کرلیتا ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
توحید نام رکھنا جائز ہے، اور یہ ایک اچھا نام ہے، جس کا معنی ہے: اللہ کے اپنی ذات اور تمام صفات میں ایک ہونے پر ایمان لانا۔ یہ انسان کی صفت ہے، اللہ تعالی کی صفت نہیں ہے۔
حوالہ جات
تحفة المودود بأحكام المولود: (ص:125،ط: دار البیان)
"ومما يمنع تسمية الإنسان به أسماء الرب تبارك وتعالى فلا يجوز التسمية بالأحد والصمد ولا بالخالق ولا بالرازق وكذلك سائر الأسماء المختصة بالرب تبارك وتعالى ولا تجوز تسمية الملوك بالقاهر والظاهر كما لا يجوز تسميتهم بالجبار والمتكبر والأول والآخر والباطن وعلام الغيوب... وأما الأسماء التي تطلق عليه وعلى غيره كالسميع والبصير والرؤوف والرحيم فيجوز أن يخبر بمعانيها عن المخلوق ولا يجوز أن يتسمى بها على الإطلاق بحيث يطلق عليه كما يطلق على الرب تعالى."
القاموس الوحید:(ص :1821،ط :ادارہ اسلامیات لاہور)
"التَّوحِیدُ : اللہ کے اپنی ذات اور تمام صفات میں ایک ہونے پر ایمان"
سید سمیع اللہ شاہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
02/رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


