03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالت سے یک طرفہ فسخِ نکاح کی ڈگری لینے کی اٹھارہ صورتیں اور طریقہٴ کار (اہم)
89190طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

سوال یہ ہے کہ عورت کے لیے کن صورتوں میں عدالت سےفسخ نکاح / خلع کی ڈگری لیناجائزہے؟ جبکہ  پاکستانی عدالت کوقانون کی رُو سے  مذاہبِ اربعہ میں سے کسی بھی مذہب کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت نے طلاق کا معاملہ شوہر کے ہاتھ میں رکھا ہےاور جائز کاموں میں سے طلاق کو سب سے ناپسندیدہ فعل قرار دیا ہے، اس لیے اگر میاں بیوی کے درمیان واقعتاً نباہ نہ ہوتا ہو اور علیحدگی کے بغیر کوئی چارہٴ کار نہ ہو  تو اولا عورت کو چاہیے کہ  پہلے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اگر شوہر طلاق دینے پر رضامند نہ ہو تو اس کو مہر معاف کر کے خلع  دینےپر راضی کرے اور اگر شوہر خلع پر بھی رضامند نہ ہو اور عورت کے لیے اس کے ساتھ رہنا انتہائی حرج اور تکلیف کا باعث ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں عورت عدالت سے رجوع کرکے اپنا نکاح فسخ کروا  سکتی ہے، مجبوری کی وہ صورتیں جن میں شریعت نے عورت کو نکاح فسخ کرانے کے سلسلہ میں عدالت کی طرف رجوع کی اجازت دی ہے وہ مختصراً  درج ذیل ہیں، البتہ یہاں ان اسباب کی تمام شرائط اورمکمل  تفصیل ذکر نہیں کی گئی، لہذا فسخ کی کوئی صورت پیش آنے کی صورت میں کسی مستند دارالافتاء سےتفصیل معلوم کر کے اس کے مطابق فسخ نکاحِ کروایا جا سکتا ہے:

1.شوہر کا مفقود ہونا:

اگر کسی خاتون کا شوہر کسی جگہ گم اور لاپتہ ہو جائے اور معلومات لینے اور تلاش کے باوجود اس کی کوئی اطلاع نہ ملے تو عورت گمشدگی کے چار سال گزرنے کے بعد عدالت کے ذریعہ فسخِ نکاح کرا سکتی ہے، یہ مالکیہ کا مسلک ہے اور پاکستانی قانون میں بھی مالکی مسلک کے مطابق چار سال کی مدت لکھی گئی ہے اور یہ چار سال عدالت میں دعوی دائر کرنے سے پہلے کی مدت ہے اور پاکستانی آئین کی رُو سے عدالت کسی بھی مسلک کے مطابق فیصلہ کر دے تو وہ فیصلہ شرعاً نافذ ہوتا ہے۔

البتہ یہ حکم اس وقت ہے جب عورت کے پاس نان ونفقہ کا انتظام موجود ہو، اگر عورت کے پاس نان

ونفقہ کا انتظام نہ ہواور عورت کے لیے کسی سے قرض وغیرہ لے کر بھی گزربسر کرنا مشکل ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں مالکیہ کے مسلک کے مطابق چار سال کی مدت کا انتظار کیے بغیربھی نان ونفقہ نہ ہونے کی بنیاد پر عورت قاضی سے فسخِ نکاح کروا سکتی ہے، بشرطیکہ عدالتی کاروائی سے قبل کم از کم ایک ماہ گزر چکا ہو، اسی طرح اگر شوہرنہ ہونے کی وجہ سے عورت کو زنا میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں کم از کم ایک سال تک انتظار کرنے کے بعدعورت عدالت سے نکاح فسخ کروا سکتی ہے، جیسا کہ حیلہٴ ناجزہ میں مالکیہ کے مفتی علامہ الفا ہاشم کے حوالے سےاس  کی تصریح کی گئی ہے اورعدم نفقہ اور خوف زنا کی ان دونوں صورتوں میں عورت عدتِ وفات کی بجائے عدت طلاق گزارے گی۔( فتوی دارالعلوم کراچی:15/293)

التاج والإكليل لمختصر خليل (5/ 495) الناشر: دار الكتب العلمية:

(ولزوجة المفقود الرفع للقاضي والوالي ووالي الماء وإلا فلجماعة المسلمين فتؤجل أربع سنين إن دامت نفقتها) ابن عرفة: المفقود من انقطع خبره غير ممكن الكشف عنه.

منح الجليل شرح مختصر خليل (4/ 318) دار الفكر – بيروت:

(فيؤجّل) بضم التحتية وفتح الهمز والجيم، المفقود الحر (أربع سنين إن دامت نفقتها) أي زوجة المفقود من ماله ولو غير مدخول بها ولم تدعه للدخول بها قبل غيبته حيث طلبتها الآن واشتراط الدعاء له في وجوب إنفاق الزوج في الحاضر فقط ويكفي في وجوبها في مال الغائب أن لا تظهر الامتناع منه فإن لم تدم نفقتها من ماله فلها التطليق لعدم النفقة بلا تأجيل وكذا إن خشيت على نفسها الزنا فيزاد على دوام نفقتها عدم خشيتها الزنا.

منح الجليل شرح مختصر خليل (4/ 406) دار الفكر – بيروت:

(ثم) بعد التلوم وعدم وجدان النفقة والكسوة (طلق) بضم فكسر مثقلا عليه ويجري فيه قوله فهل يطلق الحاكم أو يأمرها به ثم يحكم قولان إن كان حاضرا بل (وإن) كان (غائبا) ...........يعني أن الغائب البعيد الغيبة وليس له مال أو له مال لا يمكنها الوصول إليه إلا بمشقة حكمه حكم العاجز الحاضر. ابن عرفة قوله إلا بمشقة خلاف ظاهر أقوالهم إنه لا يحكم عليه بطلاقها إلا إذا لم يكن له مال.

حاشية الدسوقي مع الشرح الكبير(2/ 479) الناشر: دار الفكر:

(فيؤجل الحر أربع سنين إن دامت نفقتها) من ماله وإلا طلّق عليه لعدم النفقة.

 الحلية الناجزة للحليلة العاجزة(ص:124):

وهذا(التطليق) بعد التلوم بنحو شهر أوباجتهاده عند المالكية (يعني في صورة عدم النفقة) وإن كان لخوفها الزنا وتضررها بعدم الوطئ والعنانة وجود النفقة والغنافبعد صبرهاسنةسنة فأكثرعند جل المالكية اه .

2.شوہر کا غائب ہونا:

شوہر کی موجودگی کا توعلم ہو، مگر وہ عرصہ دراز سے گھرسے باہر ہو اور عورت کے حقوق ادا نہ کرتا ہو، جیسے کسی جرم کی پاداش میں عمر قید ہونا (تنسیخِ نکاح سے متعلق پاکستانی ایکٹ 1939ء میں سات سال کی قید کا ذکر ہے[1]) یاکسی کام کے سلسلہ میں بیرون ملک چلے جانا اور کئی سال تک بغیر کسی عذرِ شرعی کے واپس نہ آنا وغیرہ، جہاں تک واپس نہ آنے کی مدت کا تعلق ہے تو اگر شوہر بیوی کی رضامندی کے ساتھ گیا ہے تو جب تک عورت اس سے واپسی کا مطالبہ نہ کرے اس وقت تک غیابت کو فسخِ نکاح کا سبب قرار نہیں دیا جائے گا، کیونکہ یہاں عورت خود اپنا حق چھوڑنے پر راضی ہے، البتہ اگر عورت واپسی کا تقاضا کرے تو ایسی صورت کا حکم فقہ مالکی سے لیا جا سکتا ہے اوراس میں غیابت کی مدت ایک سال اور فقہ حنبلی میں چھ ماہ مذکور ہے، خصوصاً جب عورت کے پاس نان ونفقہ کا انتظام نہ ہو یا اس کو گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ عدالت سےتنسیخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے، جیسا کہ کفایت المفتی (110/6) فتاوی مفتی محمود(119/7) اور خیر الفتاوی  (154/5) میں عمر قید والے شخص کی بیوی کو عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری لینے کی اجازت دی گئی ہے، باقی حنفی قاضی فسخِ نکاح کےلیے غائب ہونے کی مدت عورت کی صورتِ حال کا جائزہ لے کر اپنی رائے کے مطابق بڑھابھی سکتا ہے۔

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (9/ 7069) دار الفكر، سوريَّة ، دمشق:

أما المالكية  فأجازوا طلب التفريق للغيبة سنة فأكثر، سواء أكانت بعذر أم بدون عذر، كما تقدم. فإذا كانت مدةا لحبس سنة فأكثر جاز لزوجته طلب التفريق، ويفرق القاضي بينهما، بدون كتابة إلى الزوج أو إنظار. وتكون الفرقة طلاقاً بائناً.

ونص القانون المصري لسنة 1929ء على حق المرأة في طلب التفريق بعد مضي سنة من حبس زوجها الذي صدر في حقه عقوبة حبس مدة ثلاث سنين فأكثر، والطلاق بائن، كما هو رأي المالكية.

المغني لابن قدامة (7/ 305) الناشر: مكتبة القاهرة:

[فصل كم يغيب الرجل عن زوجته؟]:فصل: وإن سافر عن امرأته لعذر وحاجة، سقط حقها من القسم والوطء، وإن طال سفره، ولذلك لا يصح نكاح المفقود إذا ترك لامرأته نفقة. وإن لم يكن له عذر مانع من الرجوع، فإن أحمد ذهب إلى توقيته بستة أشهر، فإنه قيل له: كم يغيب الرجل عنزوجته؟ قال: ستة أشهر، يكتب إليه، فإن أبى أن يرجع، فرق الحاكم بينهما. وإنما صار إلى تقديره بهذا الحديث عمر رواه أبو حفص، بإسناده عن زيد بن أسلم قال: بينما عمر بن الخطاب يحرس المدينة، فمر بامرأة في بيتها وهي تقول:

       تطاول هذا الليل وأسود جانبه. ... وطال علي أن لا خليل ألاعبه

            والله لولا خشية الله وحده ..... ...لحرك من هذا السرير جوانبه

فسأل عنها عمر فقيل له: هذه فلانة، زوجها غائب في سبيل الله. فأرسل إليها امرأة تكون معها، وبعث إلى زوجها فأقفله، ثم دخل على حفصة، فقال: يا بنية، كم تصبر المرأة عن زوجها؟ فقالت: سبحان الله، مثلك يسأل مثلي عن هذا، فقال: لولا أني أريد النظر للمسلمين ما سألتك. قالت: خمسة أشهر. ستة أشهر. فوقت للناس في مغازيهم ستة أشهر؛ يسيرون شهرا، ويقيمون أربعة، ويسيرون شهرا راجعين.

الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي (2/ 482) دار الفكر،بيروت:

(و) بقيت (زوجة الأسير و) زوجة (مفقود أرض الشرك) (للتعمير) إن دامت نفقتهما وإلا فلهما التطليق كما لو خشيتا الزنا (وهو) أي التعمير أي مدته (سبعون) سنة من يوم ولد وتسميها العرب دقاقة الأعناق.

3. شوہر کا نان ونفقہ نہ دینا:

شوہر عورت کو اس کے بنیادی حقوق جیسے نان ونفقہ وغیرہ ادا نہ کرتا ہو ، اگرچہ عورت نفقہ پر قادر ہو تو بھی عورت کو عدالت سےنکاح فسخ کروانےکا اختیار ہو گا، کیونکہ رخصتی کے بعد نان ونفقہ دینا عورت کا بنیادی حق ہے، جس کی عدم ِوصولی کی صورت میں مالکیہ کے مسلک کے مطابق عدالت کے ذریعہ عورت علیحدگی کا اختیار رکھتی ہے، بشرطیکہ عورت شرعی گواہوں سے ثابت کر دے کہ شوہر اس کو نان ونفقہ نہیں دے رہا۔یہ گواہی اگرچہ نفی پر قائم ہو گی، مگر علامہ طرابلسی رحمہ اللہ نے معین الحکام میں اور علامہ شمس الحق افغانی صاحب رحمہ اللہ نے معین القضاة میں بعض ایسی صورتیں بھی ذکر فرمائی ہیں جن میں نفی پر بھی گواہی قبول ہوتی ہے، ان میں سے ایک صورت یہ بھی ذکر کی گئی ہے کہ جس چیز پر گواہی دی جاری ہو وہ ظنِ غالب سے ثابت ہو، جیسے کسی شخص کا غریب ہونا وغیرہ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 590) دار الفكر-بيروت:

 اعلم أن مشايخنا استحسنوا أن ينصب القاضي الحنفي نائبا ممن مذهبه التفريق بينهما إذا كان الزوج حاضرا وأبى عن الطلاق؛ لأن دفع الحاجة الدائمة لا يتيسر بالاستدانة، إذ الظاهر أنها لا تجد من يقرضها وغنى الزوج مآلا أمر متوهم، فالتفريق ضروري إذا طلبته، وإن كان غائبا لا يفرق؛ لأن عجزه غير معلوم حال غيبته، وإن قضي بالتفريق لا ينفذ قضاؤه؛ لأنه ليس في مجتهد فيه؛ لأن العجز لم يثبت. اھ.

الكافي في فقه أهل المدينة (2/ 603) الناشر: مكتبة الرياض الحديثة، الرياض:

وإذا طال المسافر الغيبة عامدا للضرر أمر بالقدوم على امرأته فإن أبى فرق الحاكم بينهما لأن العلة عدم الوطء فسواء وجد ذلك بيمين أو بغير يمين كما يطلق على المولي وعلى المعسر بالنفقة.

العزيز شرح الوجيز المعروف بالشرح الكبير (10/ 57) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:

قال الغزالي: الطرف الثالث في وقت الفسخ ولها المطالبة صبيحة كل يوم بالنفقة، ولكن المعسر هل يمهل ثلاثة أيام ليتحقق عجزه؟ فيه قولان أحدهما: لا يمهل ولكن لا يفسخ في أول النهار بل آخر النهار، أو بعد انقضاء يوم وليلة ليستقر الحق، نعم لو كان يعتاد الإتيان بالطعام ليلا فلها الفسخ، ولو قال صبيحة النهار: أنا اليوم عاجز فيحتمل أن يقال: لا يفسخ في الحال إلى انقضاء اليوم والقول الثاني: أنه يمهل ثلاثة أيام، وهو الأحسن، ولها الفسخ صبيحة الرابع إن لم يسلم النفقة، فإن سلم للرابع لم يكن لها الفسخ للماضي، وإن سلم للثالث صبيحة الثالث وعاد إلى العجز في الرابع يستأنف المدة على وجه، ويبنى على المدة السابقة على وجه فيصير يوما آخر، وإن رضيت بعد انقضاء المدة فلها الفسخ بعد ذلك كزوجة المولي لا كزوجة العنين، وقولها: "رضيت بإعساره أبدا" وعد لا يجب الوفاء به.

قال الرافعي: قد تقدم أن النفقة تجب صبيحة كل يوم، وإنما تسلم كلما طلع الفجر، فإذا عجز عن تسليمها، فينجز الفسخ أو تمهل ثلاثة أيام فيه قولان:

أحدهما: أنها لا تمهل؛ لأن السبب الإعسار، وقد حصل، ولأنه فسخ؛ لتعذر الرسول إلى الغرض، فأشبه فسخ البيع بإفلاس المشتري بالثمن، وينسب هذا إلى القديم. وأصحهما: أنه تمهل ثلاثة أيام؛ ليتحقق عجزه، فإن الإنسان قد يتعسر عليه وجه الإنفاق؛ لعوارض ثم نزول، وهذه مدة قريبة لا يصعب تزجّيتها باستقراض وغيره، وقيد بعضهم التصوير بما إذا استمهل الزوج.

معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام (ص: 114) دار الفكر،بيروت:

في القضاء بشهادة النفي:

قال القرافي: اشتهر على ألسنة الفقهاء أن الشهادة على النفي غير مقبولة، وفيه تفصيل، فإن النفي قد يكون معلوما بالضرورة، أو بالظن الغالب الناشئ عن الفحص، وقد يعرى عنهما. فهذه ثلاثة أقسام:

القسم الأول: تجوز الشهادة به اتفاقا، كما لو شهد أنه ليس في هذه البقعة التي بين يديه فرس ونحوه، فإنه يقطع بذلك، وكذلك يجوز أن يشهد أن زيدا لم يقتل عمرا بالأمس؛ لأنه كان عنده في البيت لم يفارقه، وأنه لم يسافر لأنه رآه في البلد، فهذه شهادة صحيحة بالنفي. القسم  الثاني: تجوز الشهادة به: أعني بالنفي مستندا إلى الظن الغالب، وذلك في صور منها التفليس، فإن الحاصل فيه إنما هو الظن الغالب؛ لأنه يجوز عقلا حصول المال للمفلس وهو يكتمه.

4. شوہر کا حقوقِ زوجیت ادا نہ کرنا:

  اگرشوہرعورت کے حقوقِ زوجیت ادا نہ کرتا ہو تو اولاً اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

 پہلی صورت:

 شادی کے بعد ایک مرتبہ بھی حقوقِ زوجیت ادا نہ کیے ہوں تو ایسی صورت میں شوہر نامرد ہونےیا ضدوعناد کی وجہ سے حقوقِ زوجیت ادا نہ کرتا ہو تو سب فقہائے کرام رحمہم اللہ کے نزدیک عورت عدالت سے رجوع کر کے فسخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے۔ البتہ عنین ہونے کی صورت میں شرط یہ ہے کہ  عورت کو نکاح سے پہلے اس کا علم نہ ہو ،اگر اس کو نکاح سے پہلے اس کے عنین ہونے کا علم ہواور اس کے باوجود وہ  ایسےشخص کے ساتھ نکاح کرلے  تو ایسی صورت میں اس کو علیحدگی کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہو گا، البتہ اگر نکاح ہو جانے کے بعد عورت کو شوہر کے عنین ہونے کا علم ہو اور وہ اس کے ساتھ رہنے پر رضامندی کا اظہار کرے تو ایسی صورت میں اگرچہ حنفیہ کے نزدیک عورت کا فسخِ نکاح کا حق ساقط ہو جاتا ہے، لیکن مالکیہ کے نزدیک رضامندی سے اس کا حق ساقط نہیں ہو گا، بلکہ اس کو قاضی کے ذریعہ نکاح فسخ کروانے کا حق حاصل ہو گا، لہذا اگر عدالت ایسی صورت میں فسخِ نکاح کا فیصلہ کر دے تو مالکیہ کے مذہب کے مطابق اس فیصلے کو معتبر قرار دیا جا سکتا ہے۔

باقی عدالت سے رجوع کی صورت میں عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شوہر کو علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دے، جس کی تفصیل کتبِ فقہ میں مذکور ہے۔اوراگر شوہر تندرست ہو اور محض ضدوعناد کی وجہ سے حقوق ادا نہ کر رہا ہو تو ایسی صورت میں عدالت شوہر کو مہلت دیے بغیرضرر کے تحقق کی بنیاد پر اس کا نکاح فسخ کرسکتی ہے۔

المعونة على مذهب عالم المدينة (ص: 779) المؤلف: أبو محمد عبد الوهاب بن علي المالكي (المتوفى: 422هـ) المكتبة التجارية، مصطفى أحمد الباز - مكة المكرمة:

فصل: [7 - إذا طلق عليه بالعنة]:

إذا طلق عليه بالعنة ثم تزوجته بعد ذلك عالمة بعنته، فلها أن ترفعه وتضرب له الأجل ثانية ولا يقطع خيارها علمها بذلك بخلاف الخصي والمجبوب لأن الاعتراض مرض من الأمراض يرجى زواله، فإذا تزوجته أمكن أن يكون قد زال مرضه عنه، فلم يوجب ذلك رضاها به لا محالة، والجب والخصاء أمر ثابت غير زائل فلا يقدم عليه إلا مع الرضا به.

شرح الزرقاني على مختصر خليل وحاشية البناني (3/ 427) دار الكتب العلمية، بيروت:

(ولها فراقه بعد الرضا) ومفهوم ما في الرواية من قولها إلى أجل آخر الخ. في شرح ابن رحال ما نصه والظاهر من كلامهم أن هذا غير شرط وكذا إذا قالت رضيت بالمقام معه اه.

الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي (2/ 283) الناشر: دار الفكر،بيروت:

(قولان ولها) أي لزوجة المعترض إن رضيت بعد الأجل بالمقام معه لأجل آخر كما روي عن ابن القاسم (فراقه بعد الرضا) بالإقامة معه (بلا) ضرب (أجل) ثان ولا رفع لحاكم؛ لأنه قد ضرب أولا ومفهوم ما في الرواية من قولها إلى أجل آخر أنها لو قالت بعد السنة رضيت بالمقام معه أبدا أنها ليس لها فراقه وهو كذلك ويفيده قول المصنف أول الفصل أو لم

يرض (و) لها (الصداق بعدها) أي السنة كاملا؛ لأنها مكنت من نفسها وطال مقامها معه وتلذذ بها.

حاشية الصاوي على الشرح الصغير (2/ 474) الناشر: دار المعارف:

قوله: [أي لزوجة المعترض الفراق] : حاصله أنها إذا رضيت بعد مضي السنة  التي ضربت لها بالإقامة مدة لتتروى وتنظر في أمرها، أو رضيت رضا مطلقا من غير تحديد بمدة، ثم رجعت عن ذلك الرضا فلها ذلك، ولا تحتاج إلى ضرب أجل ثان، لأن الأجل قد ضرب أولا، بخلاف ما لو رضيت ابتداء بالإقامة معه لتتروى في أمرها بلا ضرب أجل، ثم قامت فلا بد من ضرب الأجل وهذا كله في زوجة المعترض كما علمت.

منح الجليل شرح مختصر خليل (3/ 392) الناشر: دار الفكر – بيروت:

(ولها) أي زوجة المعترض بعد رضاها بالمقام معه بعد تمام الأجل وتخييرها (فراقه) أي المعترض بطلاقها منه (بعد الرضا) منها بإقامتها معه لأجل آخر رواه أبو زيد عن ابن القاسم.

دوسری صورت:

شوہرچند مرتبہ  ہمبستری کرنے کےبعدحقوقِ زوجیت ادا نہ کرے تو اس کی پھر دو صورتیں ہیں:

صورت نمبر1: ایک دو مرتبہ حقوقِ زوجیت ادا کرنے کے بعد شوہر نامرد ہو جائےتوایسی صورت میں اگرچہ حنفیہ کے راجح  مذہب کے مطابق  عورت کو علیحدگی کا اختیارحاصل  نہیں ہےاوراس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ ایک مرتبہ ہمبستری کے بعد عورت کے لیے ہمبستری کا حق صرف دیانتاً باقی رہتا ہے، قضاء باقی نہیں رہتا، لیکن علامہ کاسانی، علامہ ابنِ نجیم اور علامہ ابنِ عابدین شامی رحمہ اللہ نے بعض حنفیہ کا یہ موقف بھی نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ جماع کے بعد بھی عورت کا قضاءً اور دیانتاً حقِ مباشرت باقی رہتا ہے اور قضاءً حق باقی رہنے کی صورت میں خاوند اگر یہ حق ادا نہ کرے تو عورت کو حقِ تفریق حاصل ہو گا۔

ہمارے اکابر میں سے بھی بعض حضرات نے ایسی صورت میں حقوقِ زوجیت ادا نہ کرنے  پر زنا کے قوی اندیشہ کی بناءپرعورت کو فسخِ نکاح کی اجازت دی ہے، اگرچہ وہ بعض مرتبہ حقِ زوجیت ادا کر چکا ہو، چنانچہ حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ نامرد شوہر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

اگر شوہر نےایک دفعہ بھی ہمبستری کر لی ہے تو زوجہ کوبوجہ عنین ہونے فسخِ نکاح کا حق حاصل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔البتہ اگر عورت کو سخت مجبوری ہو، یعنی کوئی اس کے مصارف کا کفیل نہ ہو اور نہ یہ خود اپنی عصمت کو محفوظ رکھ کر کوئی صورت کسبِ معاش کی اختیار کر سکتی ہے یا اگرچہ مصارف کا انتظام ہو سکتا ہے، مگر زنا کا قوی اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں عورت حاکم مسلم کے پاس دعوی پیش کرے۔ حاکم شرعی طریقہ سے پوری تحقیق کرے، اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو گیا تو حاکم شوہر کو بلاکر حکم دے گا کہ بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دیدو، ورنہ میں نکاح فسخ کر دوں گا، اگر خاوند کوئی صورت قبول نہ کرے تو حاکم نکاح فسخ کر دے گا اور عدت کے بعد دوسرا نکاح جائز ہو گا، واضح رہے کہ شرعی طریق سے شرعی شہادت کے ساتھ واقعہ کی تحقیق ضروری ہے۔ (فتاوی مفتی محمود :37/7)

دارالعلوم دیوبند کے فتاوی  میں ہر ایسے مرض کو موجبِ فسخ قرار دیا گیا ہے جو مانعِ جماع ہو،چنانچہ مفتی عزیزالرحمن صاحب ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

"ہر وہ مرض جو مانعِ جماع ہو موجبِ تفریق ہوسکتا ہے۔"(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:10/232)

نیزمالکیہ میں سےعلامہ علی العدوی رحمۃ اللہ علیہ نےاپنی مشہورکتاب’’حاشیۃ العدوی‘‘ میں اورعلامہ احمدبن غنیم النفراوی رحمۃ اللہ علیہ  نے’’الفواکہ الدوانی‘‘میں اس بات کی تصریح کی ہےکہ اصل حکم تویہی ہےکہ جب تک عورت کواپنےنفس پر اطمینان ہواورگناہ میں مبتلی ہونےکا اندیشہ نہ ہوتواُس وقت تک وہ شوہر کے ساتھ رہے، لیکن اگر عورت کو اس حالت میں گناہ میں واقع ہونےکاقوی اندیشہ ہو توایسی صورت میں اُس کے لئےفُرقت حاصل کرنےکی گنجائش ہے۔

اس کے علاوہ امام مالك رحمۃ اللہ علیہ نےالمدونہ میں سعید بن المسیب رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہےکہ اگرکسی شخص نےاپنی بیوی سےہمبستری کرلی اوراس کےبعدوہ معترَض (یہ مالکیہ کی اصطلاح میں ایسے شخص کو کہتے ہیں جو تندرستی کے بعد عنین ہو جائے) ہوجائےتواس صورت میں بھی اُسےایک سال کی مہلت دی جائےگی،اگراس نےاس مدت کےاندراپنی بیوی سےہمبستری کرلی توٹھیک ، ورنہ ان دونوں کےدرمیان تفریق کردی جائےگی، یہاں بھی اگر عورت اس کے ساتھ رہنے پر رضامندی کا اظہار کر چکی ہو تو بھی مالکیہ کے مسلک کے مطابق اس کا حق فسخِ نکاح ختم نہیں ہو گا اور ایسی صورت میں بھی وہ عدالت سے چارہ جوئی کر کے اپنا نکاح ختم کروا سکتی ہے، جیسا عبارات پیچھے گزر چکی ہیں۔

البهجة في شرح التحفة (1 / 505) دار الكتب العلمية – لبنان، بيروت:

 قوله: إلااعْتراضاكان بعْدَ ما دَخَلْ:

 ( إلا ) حرف استثناء ( اعتراضاً ) منصوب على الاستثناء والأقرب أنه على نزع الخافض ، إذ المعنى ويرد الزوج بكل عيب إلا بعيب الاعتراض ( كان ) تامة بمعنى وجد وحدث وفاعله ضمير الاعتراض ( بعد ) يتعلق بكان ( ما ) مصدرية ( دخل ) صلتها أي بعد دخوله ( والوطء ) بالجر عطف على المصدر المؤول ( منه ) يتعلق بحصل ( هبه ) فعل أمر وضميره مفعوله الأول ( مرة ) تمييز ( حصل ) في محل نصب على أنه مفعول ثان لهب، والتقدير إلا اعتراضاً حدث بعد دخوله وبعد وطئه هب أن الوطء حصل منه مرة واحدة فلا ردّ به

وهي مصيبة نزلت بها ، وهذا إذا لم يتسبب في إدخاله على نفسه كشربه دواء ليقطع به لذة النساء أو شربه لعلاج علة وهو عالم أو شاك أنه يذهب منه ذلك أو قطع ذكره عمداً أو لعلة نزلت به فإن لها الخيار باتفاق كما في ضيح ، ومثل الاعتراض الجب والخصاء والكبر المانع من الوطء حيث لم يدخل ذلك على نفسه؛ لأنه لم يقصد الإضرار بها ، فلو قال : إلا كجب الخ . لشمل ذلك ونزلت مسألة وهي أن رجلاً كان يطأ زوجته وطأ معتاداً ثم إنه عرض له ما منعه الإيلاج بحيث إذا أراده سبقه الماء وزال إنعاظه فأفتيت فيها بما في النظم واختلف فيمن أراد استحداداً فترامت يده فقيل لها القيام، وقيل: لا قيام لها لأنه لم يتعمد. وظاهر كلامهم رجحانه.

حاشية العدوي على شرح كفاية الطالب الرباني) 2 / (92 دار الفكر - بيروت:

[ قوله : ويؤجل المعترض سنة ] أي إذا لم يسبق منه وطء لها كان الاعتراض سابقا على العقد أو متأخرا عنه ، فإن سبق منه وطء لها ثم اعترض فتلك مصيبة نزلت بها وكذا خصاء أو جب أو كبر أدرة أو هرم حدث بعد الوطء حيث لم يتسبب في ذلك ، وإلا فلها الخيار ، وأما لو تزوجته فوجدته كبير الأدرة فإن منعت الوطء فلها الخيار ، وإلا فلا ، ومحل كونها لا رد لها بالحادث من جب ونحوه بعد الوطء حيث لم تخش على نفسها الزنا ، وإلا فلها التطليق؛ لأن للمرأة التطليق بالضرر الثابت، ولو بقرائن الأحوال ، وقوله سنة أي سنة بعد الصحة من يوم الحكم فلا يؤجل ، وهو بالمرض ، ولا عبرة بالمرض الطارئ بعد ضرب الأجل استغرق جميع السنة أو بعضها ، وهذا إذا ترافعا للحاكم ، وأما إذا لم يترافعا وتراضيا على ذلك فمن يوم التراضي كما قاله بهرام .

 [ قوله : وعليه اقتصر صاحب المختصر ] وهو المعول عليه أي يؤجل نصف سنة بعد الصحة من يوم الحكم كان ذا شائبة أو لا ، إلا أن العلة التي ذكروها للتأجيل ، وهي إمرار الفصول الأربعة إذ ربما أثر الدواء في فصل موجودة في العبد.

الفواكه الدواني ( 2 / 39)الناشر: دار الفكر، بيروت:

ثم شرع في الكلام على بعض ما يختص بالرجل بقوله : ( ويؤجل المعترض سنة ) بعد الصحة من يوم الحكم وإن مرض والعبد نصفها ۔والمعنى : أن الزوج إذا وجدته المرأة معترضا وهو المسمى عند العامة مربوطا أي له آلة لكن لا تنتشر عند الوطء إما بسحر أو مرض ، فإنه يضرب له أجل يتحيل فيه على إزالة اعتراضه وقدره سنة إن كان الزوج حرا ، ونصفها إن كان عبدا ، وابتداء تلك المدة من يوم قيام الزوجة إن كان الزوج صحيحا ، فإن قامت وهو مريض فابتداؤها بعد الصحة والحكم ، ولا ينظر إلى طريان المرض بعد ذلك.( فإن وطئ ) الزوج في تلك المدة وصدقته المرأة على ذلك أو لم تصدقه ولكن حلف على الوطء في السنة سقط خيارها بمنزلة ما إذا حصل له الاعتراض بعد وطئها (وإلا ) بأن انقضت السنة للحر والنصف للعبد ولم يطأ مع تصديقها له ، أو لم يحلف على الوطء مع إنكارها ( فرق بينها ) بطلقة بائنة .( إن شاءت ) الزوجة الفراق لأنه من حقه.

( تنبيهات ) الأول : كلام المصنف في المعترض الذي لم يتقدم منه وطء قبل اعتراضه كما قدمناه ، ولا فرق حينئذ بين كون اعتراضه سابقا على العقد أو متأخرا عنه ، وأما لو وطئها سليما ثم حصل له الاعتراض بعد وطئه فلا خيار للمرأة؛ لأنها مصيبة نزلت بها ، كحصول أدرة له مانعة له من الوطء وهو المعروف عند العامة بالقيليط ، أو حصل له هرم بعد الوطء فلا خيار للمرأة، اللهم إلا أن تخشى على نفسها الزنا فلها التطليق، لأن للمرأة التطليق بالضرر الثابت ولو بقرائن الأحوال.

المدونة الكبرى لمالك الأصبحي ( 2 / 185):

مالك عن ابن شهاب عن ابن المسيب أنه قال إذا دخل الرجل بامرأته فاعترض عنها فإنه يضرب له أجل سنة فإن استطاع أن يمسها وإلا فرق بينهما. ابن وهب قال موسى بن علي قال ابن شهاب إن القضاة يقضون في الذي لا يستطيع امرأته بتربص سنة يبتغي فيها لنفسه فإن ألم في ذلك بأهله فهي امرأته، وإن مضت سنة ولم يمسها فرق بينه وبينها وتقضي القضاة بذلك من حين تناكره امرأته أو يناكره أهلها، قال ابن شهاب: وإن كانت تحته امرأته فولدت له ثم اعترض عنها فلم يستطع لها فلم أسمع بأحد فرق بين رجل وبين امرأته بعد أن يمسها فهذا الأمر عندنا.

صورت نمبر2: اگر شوہر چند مرتبہ ہمبستری کرنے کے بعد عمداً بغیر کسی مرض کے عورت کے حقوقِ زوجیت ادا کرنا چھوڑ دے تو اس صورت میں فسخِ نکاح کے حوالے سے حنفیہ کی کتب میں تو کوئی تصریح نہیں ملی، البتہ مالکیہ اور حنابلہ کے ہاں ایسی عورت کوتنسیخِ نکاح کی اجازت دی گئی ہے اورآج کل کے فحاشی عریانی کے ماحول میں عرصہٴ دراز تک حقوقِ زوجیت ادا نہ کرنا ایک عورت کے لیے بہت بڑی آزمائش ہےاوراس کے لیے ضرر کا باعث ہے، اس لیے وہ  اپنی ذات سے ضرر کو دفع کرنے کے لیے مالکیہ اور حنابلہ کے مسلک کے مطابق عدالت سے نکاح فسخ کروانےکا حق رکھتی ہے، خصوصاً جب اس کو گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو، اسی لیے مجموعہ قوانینِ اسلامی[2]میں ترکِ جماع کو بھی اسبابِ فسخ نکاح میں شمار کیا گیا ہے:

"ترکِ مجامعت اور بیوی کو معلقہ بنا کر رکھنا بھی تفریق کے اسباب میں سے ایک سبب ہے"

(مجموعہ قوانین اسلامی، الہند، شوہر کا حق ِزوجیت ادا نہ کرنا، دفعہ73صفحہ192)

مولانا ثمیر الدین صاحب قاسمی مدظلہم نے بھی اس کو اسبابِ فسخ نکاح میں شامل کیا ہے، چنانچہ وہ اسبابِ فسخ پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

شوہر نان ونفقہ دے رہا ہے، مگر حقوقِ زوجیت ادا نہیں کرتا تو اس سے بھی عورت تفریق لے سکتی ہے، کیونکہ اسی لیے تو نکاح کیا ہے، کھانا پینا تو کسی بھی طرح حاصل کر سکتی ہے، حقوقِ زوجیت کہاں سے حاصل کرے گی؟ اس لیے اگر شوہر حقِ زوجیت ادا نہیں کرتا تو قاضی کے یہاں سے تفریق لے سکتی ہے۔  (اسبابِ فسخِ نکاح:29،مکتبہ ثمیر، انگلینڈ

اس کی تائید علامہ كاسانی رحمہ اللہ  کی عبارت سے بھی ہوتی ہے، کیونکہ انہوں نے لکھا ہے کہ اگر ظہار کرنے والا شخص کفارہ ادا نہ کرے تو قاضی اس کو کفارہ ادا کرنے پر مجبور کرے گا، تاکہ عورت کا حقِ واجب ادا کیا جا سکے اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  اگر عورت باکرہ ہو تو اس کا حق سب حنفیہ کے نزدیک قضاء واجب ہے اور اگر ثیبہ ہو، یعنی ایک مرتبہ اس کا حقِ مباشرت ادا کر چکا ہو تو بھی ہمارے بعض حضرات کے نزدیک عورت کا قضاءً حق باقی رہتا ہے، جس کی بدائع الصنائع اور البحرالرائق وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے  اور جس فعل پر کسی واجب کی ادائیگی موقوف ہو تو اس  فعل کی ادائیگی بھی واجب ہوتی ہے، لہذا ایسی صورت میں حنفیہ کے نزدیک بھی فسخِ نکاح کا حق ملنا چاہیے۔ 

نیز عورت کے لیے شرعاً حقِ مباشرت کے واجب اور ثابت ہونے کی ایک وجہ یہ بھی کہ اگر کوئی شخص ایلاء کرلے یعنی اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت نہ کرنے پر قسم اٹھا لے تو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگر اس نے چار ماہ سے قبل اس کا حقِ زوجیت ادا کر دیا تو اس پر کفارہ ٴقسم واجب ہو گا اور اگر اس نے اس دوران جماع نہ کیا تو اس کی بیوی کو خود بخود طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی، اس سے معلوم ہوا کہ چار ماہ کے دوران کم از کم ایک مرتبہ جماع کرنا عورت کا شرعی حق ہے۔

باقی جہاں تک عمدا جماع نہ کرنے کی مدت کا تعلق ہے تو مالکی مذہب میں چار ماہ اور حنابلہ کے ہاں چھ ماہ کی عبارات بھی ملتی ہیں، جبکہ تنسیخِ نکاح سے متعلق پاکستانی قانون میں تین سال کی قید لگائی گئی ہے[3]، لہذا اگر شوہر بغیر کسی شرعی وجہ کے کافی عرصہ (اس مدت کا فیصلہ قاضی  عورت کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اپنی رائے کے مطابق کر سکتا ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ یہ مدت چار ماہ سے کم نہ ہو، کیونکہ چار ماہ سے کم مدت تک جماع نہ کرنے کی صورت میں کسی کے نزدیک بھی فسخِ نکاح جائز نہیں) تک حقوقِ زوجیت ادا نہ کرے اور عورت کے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر کا تعنّت ثابت ہونے کی وجہ سے عورت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے اور مالکیہ اور حنابلہ کے مسلک کے مطابق یہ فیصلہ درست ہو گا،  کیونکہ پاکستانی عدالت کا فیصلہ مذاہبِ اربعہ میں سے کسی بھی مذہب کے مطابق ہو تو وہ فیصلہ شرعا درست ہوتا ہے۔

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 105) دار الكتاب الإسلامي:

قلت وقد رأيت في البدائع ما يقرب ما استبعده وذلك حيث قال في بيان سبب الكفارة وقال بعضهم كل واحد منهما أي: من الظهار والعود شرط وسبب الوجوب أمر ثالث وهو كون الكفارة طريقا متعينا لإيفاء الواجب وكونه قادرا على الإيفاء؛ لأن إيفاء حقها في الوطء واجب ويجب عليه في الحكم إن كانت بكرا أو ثيبا ولم يطأها مرة وإن كانت ثيبا وقد وطئها مرة لا يجب فيما بينه وبين الله تعالى أيضا لإيفاء حقها وعند بعض أصحابنا يجب في الحكم أيضا حتى يجبر عليه ولا يمكنه إيفاء الواجب إلا برفع الحرمة ولا ترتفع الحرمة إلا بالكفارة فتلزمه ضرورة إيفاء الواجب اهـ.

والظاهر أن قوله لا يجب فيما بينه وبين الله تعالى صوابه يجب وأن لا زائدة من قلم الناسخ لما قالوا من أنه يجب عليه ديانة أن يقصدها بالوطء أحيانا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 203) دار الفكر-بيروت:

 أما لو أصابها مرة واحدة لم يتعرض له؛ لأنه علم أنه غير عنين وقت العقد، بل يأمره بالزيادة أحيانا لوجوبها عليه إلا لعذر ومرض أو عنة عارضة أو نحو ذلك وسيأتي في باب الظهار أن على القاضي إلزام المظاهر بالتكفير دفعا للضرر عنها بحبس أو ضرب إلى أن يكفر أو يطلق وهذا ربما يؤيد القول المار بأنه تجب الزيادة عليه في الحكم فتأمل.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 246) الناشر: دار الفكر،بيروت:

وللمرأة أن تطالبه بالوطء وعليها أن تمنعه من الاستمتاع بها حتى يكفر، وعلى القاضي أن يجبره على التكفير دفعا للضرر عنها بحبس، فإن أبى ضربه ولا يضرب في الديني، ولو قال قد كفرت صدق ما لم يعرف بالكذب وألفاظه صريح وكناية وستأتي.

المبسوط للسرخسي (7/ 20) الناشر: دار المعرفة – بيروت:

ثبوت حكم الإيلاء بقصده الإضرار والتعنت بمنع حقها بالجماع، وقد زال ذلك حين أوفاها حقها، وهو الفيء المذكور في قوله تعالى {فإن فاءوا فإن الله غفور رحيم} [البقرة: 226] لأن الفيء عبارة عن الرجوع يقال: فاء الظل إذا رجع وقد رجع عما قصد من الإضرار حين جامعها.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 331) الناشر: دار الكتب العلمية:

وللزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك، وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 202) دار الفكر-بيروت:

وفي البدائع: لها أن تطالبه بالوطء لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب عليه ويجبر عليه في الحكم مرة والزيادة تجب ديانة لا في الحكم عند بعض أصحابنا وعند بعضهم تجب عليه في الحكم. اھ.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 469) دار الفكر-بيروت:

(وللمرأة أن تطالبه بالوطء) لتعلق حقها به (وعليها أن تمنعه من الاستمتاع حتى يكفر وعلى القاضي إلزامه به) بالتكفير دفعا للضرر عنها بحبس، أو ضرب إلى أن يكفر، أو يطلق.

قال ابن عابدين: (قوله: وعلى القاضي إلزامه به) اعترض بأنه لا فائدة للإجبار على التكفير إلا الوطء، والوطء لا يقضى به عليه إلا مرة واحدة في العمر كما مر في القسم،

وهذا لو صار عنينا بعدما وطئها مرة لا يؤجل قال الحموي: وفرض المسألة فيما إذا لم يطأها قبل الظهار أبدا بعيد. وقد يقال فائدة الإجبار على التكفير رفع المعصية اهـ أي إن الظهار معصية حاملة له على الامتناع من حقها الواجب عليه ديانة فيأمره برفعها لتحل له كما يأمر المولي من امرأته بقربانها في المدة أو يفرق بينهما، فإن لم يقربها بانت منه لدفع الضرر عنها (قوله: بحبس، أو ضرب) أي بحبسه أولا، فإن أبى ضربه كما في البحر.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 236) دار الكتب العلمية،بيروت:

 وسبب الوجوب أمر ثالث هو كون الكفارة طريقا متعينا لإيفاء الواجب، وكونه قادرا على الإيفاء؛ لأن إيفاء حقها في الوطء واجب ويجب عليه في الحكم إن كانت بكرا أو ثيبا ولم يطأها مرة وإن كانت ثيبا وقد وطئها مرة لا تجب فيما بينه وبين الله تعالى اتصال ذلك أيضا لإيفاء حقها، وعند بعض أصحابنا يجب في الحكم أيضا حتى يجبر عليه ولا يمكنه إيفاء الواجب إلا برفع الحرمة ولا ترتفع الحرمة إلا بالكفارة فتلزمه الكفارة ضرورة إيفاء الواجب على الأصل المعهود أن إيجاب الشيء إيجاب له.

مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 151، باب: حق المرأة على زوجها وفي كم تشتاق) المكتب الإسلامي، بيروت:

 عن ابن جريج قال: أخبرني من أصدق، أن عمروهو يطوف سمع امرأة، وهي تقول:

تطاول هذا الليل واخضل جانبه ... وأرقني إذ لا خليل ألاعبه

فلولا حذار الله لا شيء مثله ... لزعزع من هذا السرير جوانبه

فقال عمر: «فما لك؟» قالت: أغربت زوجي منذ أربعة أشهر، وقد اشتقت إليه. فقال: «أردت سوءا؟» قالت: معاذ الله قال: «فاملكي على نفسك فإنما هو البريد إليه» فبعث إليه، ثم دخل على حفصة فقال: «إني سائلك عن أمر قد أهمني فأفرجيه عني، كم تشتاق المرأة إلى زوجها؟» فخفضت رأسها فاستحيت. فقال: «فإن الله لا يستحيي من الحق»، فأشارت ثلاثة أشهر وإلا فأربعة. فكتب عمر «ألا تحبس [ص:152] الجيوش فوق أربعة أشهر»

التاج والإكليل لمختصر خليل (5/ 265) دار الكتب العلمية،بیروت:

قال مالك: من يريد العبادة أو ترك الجماع لغير ضرر ولا علة قال له إما وطئت أو طلقت.

التهذيب في اختصار المدوّنة (2/ 225) دار البحوث للدراسات الإسلامية:

ومن سرمد العبادة وترك الوطء، لم ينه عن تبتله، وقيل له: إما وطئت أو فارقت إن خاصمته، وكذلك إن ترك الجماع لغير ضرر ولا علة، إلا أن ترضى المرأة بالمقام على ذلك.

المغني لابن قدامة (7/ 305) الناشر: مكتبة القاهرة:

وسئل أحمد كم للرجل أن يغيب عن أهله؟ قال: يروى ستة أشهر. وقد يغيب الرجل أكثر من ذلك لأمر لا بد له، فإن غاب أكثر من ذلك لغير عذر، فقال بعض أصحابنا: يراسله الحاكم فإن أبى

أن يقدم، فسخ نكاحه. ومن قال: لا يفسخ نكاحه إذا ترك الوطء وهو حاضر، فهاهنا أولى. وفي جميع ذلك، لا يجوز الفسخ عند من يراه إلا بحكم حاكم؛ لأنه مختلف فيه.

مسائل الإمام أحمد برواية ابنه عبد الله (ص: 363) المكتب الإسلامي،بيروت:

قلت لابي: فأيش تَقول أنت: قال أما أنا أقول إذا مَضَت أربعة اشهر وَقد حلف إلا يَغْشَاهَا أكثر من أربعة أشهر فَجَاءَت تطالبه بعد مُضِيّ الأربعة وقف لَهَا فإمّا أن يَفِي وإما أن يُطلق.

عيون المسائل للسمرقندي الحنفي (ص: 91) الناشر: مطبعة أسعد، بغداد:

تزوجت العنين عالمة:

فإن تزوج امرأة أخرى وهي عالمة بما كان من ذلك فرافعته على القاضي؛ فإنه يؤجل حولاً ويخيرها لأن الرجل قد يصل إلى المرأة ولا يصل على الأخرى. قال الْفقيْه: أبوالليث: وهذا خلاف رواية كتاب النكاح لأنه يقول هناك لو أن رجلاً تزوج امرأة والمرأة لم تعلم أن الزوج مجبوب أو عنين فلا خيار لها.

5. شوہر کا خصی یا مجبوب ہونا:

اگر شوہر خصی (جس کے خصیے ختم کر دیے گئے ہوں، جس کی وجہ سے وہ ہمبستری پر قادر نہ ہو) ہو یا مجبوب (جس کا آلہ ٴتناسل کٹ چکا ہو) ہو تو اس کی بیوی کو بھی شوہر سے طلاق یا خلع لینے کا حق ہے، اگر شوہر ان میں سے کسی پر راضی نہ ہو تو عورت عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 273) دار احياء التراث العربي – بيروت:

وإن كان مجبوبا فرق بينهما في الحال إن طلبت) لأنه لا فائدة في التأجيل (والخصي يؤجل كما يؤجل العنين) لأن وطأه مرجو(وإذا أجل العنين سنة وقال قد جامعتها وأنكرت نظر إليها النساء. فإن قلن: هي بكر خيرت) لأن شهادتهن تأيدت بمؤيد وهي البكارة (وإن قلن: هي ثيب حلف الزوج، فإن نكل خيرت) لتأيدها بالنكول.

6. شوہر کا ظلم وتشدد کرنا:

 شوہرکے عورت كواس طرح مارنے کی عادت ہوکہ اس کی وجہ سے عورت کے جسم پر نشان پڑ جاتے ہوں تو عورت اس سے جان چھڑانے کے لیے عدالت سے نکاح فسخ کروا سکتی ہے، البتہ اگر شوہر کی مارنے کی عادت نہ ہو تو شاذونادر معمولی مارنے سے عورت کوعدالت سے فسخِ نکاح کا اختیار نہ ہو گا۔

حاشية الصاوي على الشرح الصغير (2/ 535) الناشر: دار المعارف:

[فصل في بيان أحكام الطلاق وأركانه وما يتعلق بذلك] [حكم الطلاق]

وافتتحه بقوله - صلى الله عليه وسلم -: «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» ) . وهو يفيد أن الطلاق - وإن كان حلالا - إلا أن الأولى عدم ارتكابه لما فيه من قطع الألفة إلا لعارض

كما أفاده بقوله: (وقد يندب) لعارض كما لو كانت بذية اللسان يخاف منها الوقوع في الحرام لو استمرت عنده، كأن يضربها ضربا مبرحا، أو يسبها ويسب والديها، أو كانت قليلة الحياء تتبرج إلى الرجال، وأكثرهن يسب أم الزوج إذا كانت عند ابنها وغير ذلك.

مواهب الجليل في شرح مختصر خليل (4/ 17) الناشر: دار الفكر،بیروت:

(ولها التطليق بالضرر) ش: قال ابن فرحون في شرح ابن الحاجب: من الضرر قطع كلامه عنها وتحويل وجهه في الفراش عنها وإيثار امرأة عليها وضربها ضربا مؤلما وليس من الضرر منعها من الحمام والنزاهة وتأديبها على ترك الصلاة ولا فعل التسري، انتهى.

وقد تقدم الاختلاف فيمن يوقع هذا الطلاق هل الحاكم أو الزوجة في فصل العيوب؟ وكذلك إن أوقع أكثر من واحدة، والله أعلم. وسيأتي عند قول المصنف في باب الخلع ورد المال بشهادة سماع على الضرر الكلام على شهادة السماع بالضرر".

7. شوہر کا خلاف ِشرع کام پر مجبور کرنا:

اگرشوہر عورت کو کسی خلاف شرع کام کرنے پر مجبور کرے،  جیسےلواطت کرنا یا حالتِ حیض میں صحبت

کرنا وغیرہ اورروکنےکے باوجود وہ ایسے کبیرہ گناه سےباز نہ آتا ہو اور عورت کو اس پر مجبور کرے  تو اس کی بیوی عدالت سے نکاح فسخ کروا سکتی ہے۔

الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي (2/ 345) الناشر: دار الفكر:

(ولها) أي للزوجة (التطليق) على الزوج (بالضرر) وهو ما لا يجوز شرعا كهجرها بلا موجب شرعي وضربها كذلك وسبها وسب أبيها، نحو يا بنت الكلب يا بنت الكافر يا بنت الملعون كما يقع كثيرا من رعاع الناس ويؤدب على ذلك زيادة على التطليق كما هو ظاهر وكوطئها في دبرها لا بمنعها من حمام وفرجة وتأديبها على ترك صلاة أو تسر أو تزوج عليها ومتى شهدت بينة بأصل الضرر فلها اختيار الفراق (ولو لم تشهد البينة بتكرره) أي الضرر أي ولها اختيار البقاء معه ويزجره الحاكم ولو سفيهة أو صغيرة ولا كلام لوليها في ذلك فقوله آنفا وبتعديه زجره الحاكم فيما إذا اختارت البقاء معه ويجري هنا هل يطلق الحاكم أو يأمرها به ثم يحكم قولان (وعليهما) أي الحكمين وجوبا (الإصلاح) بين الزوجين بكل وجه أمكن. ".

8. شوہرکامجنون  اور پاگل ہو جانا:

اگرشوہر کا دماغی توازن خطرناک حد تک خراب ہو جائے تو اس کی بیوی کو عدالت سے نکاح فسخ کرانے کا اختیار ہو گا، اسی طرح ایسا شخص جس کو کبھی کبھارجنون لاحق ہوتا ہو وہ بھی اس حکم میں شامل ہے، بشرطیکہ عورت کا اس کے ساتھ رہنا مشکل ہو، ایسے شخص کو فقہائے کرام رحمہم اللہ "من یجن ویفیق" سے تعبیر کرتے ہیں، ایسا شخص جنون کی حالت میں مجنون کے حکم میں ہوتا ہے اور اس حالت میں اس کے سب معاملات کالعدم شمار ہوتے ہیں، البتہ تندرستی کی حالت میں تندرست شخص کے حکم میں ہونے کی وجہ سے اس کے سب معاملات درست شمار تے ہیں۔

نیز امام کرخی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق  ایسے شوہرکانکاح فسخ کرنے کے لیے ان کو علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دینا بھی ضروری  نہیں،علامہ کاسانی رحمہ اللہ نے بدائع الصنائع میں اسی قول کو صحیح قرار دیا ہے اور اسی کو علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے البحرالرائق میں نقل کیا ہے، لہذا  اگر عدالت علاج کی مہلت دیے بغیر نکاح فسخ کر دے اور اس سے پہلے جنون  اور عتہ (معتوہ ہونا) کی حالت کو ایک سال گزر چکا ہویا نہ گزرا ہوبہرصورت فسخِ نکاح کا فیصلہ درست ہو گا، جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں امام محمدرحمہ اللہ کا قول الحاوی القدسی کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا گیا ہے اور حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ نے اسی قول پر عمل کرتےہوئے ایک سوال کے جواب میں بغير کسی مہلت دينے کے حاکم کو نکاح فسخ کرنے کی گنجائش دی ہے، دیکھیے عبارت:

"اہل السنت والجماعہ حنفی مذہب کے موافق بھی مجنون کی بیوی اپنا نکاح فسخ کرا سكتی ہے اور اب جبکہ جنون کو دس بارہ سال کا عرصہ ہو گیا ہے، بغیر کسی مہلت کے کوئی حاکم (مسلم) نکاح فسخ کر سکتا ہے۔"

 )كفايت المفتی:ج:8ص:395، ط:دارالاشاعت كراچی)

مرگی کی بیماری میں مبتلا شخص کا حکم یہ ہے کہ اگر صرف مرگی کے دورے پڑتے ہوں اور دورہ کے دوران آدمی عورت کو کوئی نقصان نہ پہنچاتا ہو اور عورت کے دیگر حقوق بھی ادا کیے جا رہے ہوں تو اس صورت میں عورت کو فسخِ نکاح کا حق حاصل نہیں ہو گا، البتہ اگر مرگی کا دورہ پڑنے کے دوران عورت کو کسی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں عورت فسخِ نکاح کا فیصلہ لے سکتی ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 325) الناشر: دار الكتب العلمية:

وإن كان الزوج كبيرا مجنونا، فوجدته عنينا قالوا: إنه لا يؤجل كذا ذكر الكرخي؛ لأن التأجيل للتفريق عند عدم الدخول، وفرقة العنين طلاق، والمجنون لا يملك الطلاق.

وذكر القاضي في شرحه مختصر الطحاوي أنه ينتظر حولا، ولا ينتظر إلى إفاقته بخلاف الصبي؛ لأن الصغر مانع من الوصول، فيستأنى إلى أن يزول الصغر، ثم يؤجل سنة. فأما الجنون، فلا يمنع الوصول؛ لأن المجنون يجامع، فيؤجل للحال، والصحيح ما ذكره الكرخي أنه لا يؤجل أصلا لما ذكرنا.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 133) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

قال في البدائع وإن كان الزوج كبيرا مجنونا فوجدته عنينا قالوا إنه لا يؤجل كذا ذكر الكرخي؛ لأن التأجيل للتفريق عند عدم الدخول وفرقة العنين طلاق والمجنون لا يملك الطلاق وذكر القاضي في شرح مختصر الطحاوي أنه ينتظر حولا ولا ينتظر إلى إفاقته بخلاف الصبي؛ لأن الصغر مانع من الوصول فيتأتى إلى أن يزول الصغر ثم يؤجل سنة فأما الجنون فلا يمنع الوصول؛ لأن المجنون يجامع فيولج للحال والصحيح ما ذكره الكرخي إنه لا يؤجل أصلا لما ذكرنا اه.

بدائع الصنائع (4/ 55): الناشر: دار الكتب العلمية:

المجنون الذي يجن في حال ويفيق في حال فما يوجد منه في حال إفاقته فهو فيه بمنزلة سائر العقلاء وما يوجد منه في حال جنونه فهو بمنزلة المجنون المطبق اعتبارا للحقيقة.

حاشية ابن عابدين (3/ 244)ایچ ایم سعید:

والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر ولا ينافيه تعريف الدهش بذهاب العقل فإن الجنون فنون ولذا فسره في البحر باختلال العقل وأدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش ...............فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

9. شوہرکارخصتی سے انکار کرنا یا غیرمعمولی تاخیرکرنا:

 نکاح ہوجانے کے بعداگرکسی وجہ سے شوہر رخصتی سے انکار کر ے یا بلا عذر غیر معمولیتاخیر کرے، جبکہ عورت کے پاس نان و نفقہ کا انتظام نہ ہو یا نفقہ کا انتظام تو ہو، مگر حقوقِ زوجیت نہ ادا ہونے کی وجہ سے عورت کو گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو اس صورت میں بھی ضرر لاحق ہونے کی بنیاد پر عورت عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے۔(ماخذہ بتصرف: فتاوی عثمانی:469/2)

10. شوہرکومہلک متعدی مرض کا لاحق ہونا:

اگر شوہر کو کوئی مہلک متعدی مرض ہو جائے، جس سے عورت کو بھی مرض لاحق ہونے کا اندیشہ ہو، جیسے ایڈز وغیرہ، تو ایسی صورت میں بھی بعض علمائے کرام کے نزدیک عورت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے، کیونکہ جذام (یہ متعدی مرض ہے) اور برص کی بیماری لاحق ہونے کی صورت میں فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کا اختلاف ہے، حضرت امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللہ کے نزدیک اگرچہ اس صورت میں عورت کو فسخِ نکاح کا اختیار نہیں، لیکن امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بیوی کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل ہو گا اور علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو راجح قرار دیا ہے، لہذا جب برص اور جذام کی بیماری میں خیار فسخ حاصل ہے تو ایڈز جیسیمہلک بیماری میںبھی فسخِ نکاح کا اختیار حاصل ہونا چاہیے،خصوصاً جبکہ پاکستانی قانون میں بھی دو سال سے متعدی مہلک بیماری میں مبتلا ہونے کی صورت میں خیار فسخ دیا گیا ہے۔[4]

 )ماخذہ بتصرف: مجموعہٴ قوانین اسلام از فقہ اکیڈمی، الہند:2/624(

باقی اس میں مہلت دیے بغیر بھی قاضی نکاح فسخ کر سکتا ہے، کیونکہ کتبِ فقہ میں ایسی صورت میں مہلت دینے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

شرح مختصر الطحاوي للجصاص (4/ 374) دار البشائر الإسلامية:

وأما إذا كان ذلك بالرجل: فلا خيار لها أيضا، إلا فيما يمنع الوطء، مثل العنة، والجب في قول أبي حنيفة وأبي يوسف. وقال محمد: إذا كان به داء لا يمكنها المقام معه، مثل الجذام ونحوه: خيرت.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 250) دار الفكر،بيروت:

وأما خيار العيب فلا يثبت لأحدهما في الآخر إذا وجد معيبا ببرص أو جذام أو رتق أو قرن أو عفل أو جنون أو مرض فالج أو غيره أيا كان عند أبي حنيفة وأبي يوسف سوى عيب الجب والعنة فيه على ما يأتي في بابه خلافا للشافعي في العيوب الخمسة القرن والرتق والجنون والجذام والبرص. ولمحمد في الثلاثة الأخيرة إذا كانت بحيث لا تطيق المقام معه حيث يثبت لها خيار الفسخ. لنا ما روي «عنه - صلى الله عليه وسلم - أنه قال للتي تزوجها فوجد بكشحها بياضا الحقي بأهلك» وهذا من كنايات الطلاق، بل لا يبعد عده من صرائحه في عرف العرب بالاستقراء فعرف أنه لا فسخ عن عيب وحجتنا أيضا قول ابن مسعود: لا ترد الحرة عن عيب.

وعن علي قال: إذا وجد بامرأته شيئا من هذه العيوب فالنكاح لازم له إن شاء طلق وإن شاء أمسك. والمسألة مختلفة بين الصحابة - رضي الله عنهم -، فعن عمر أنه أثبت الخيار، وحمله على خيار الطلاق بعيد فإن ذلك ثابت لا يحتاج إلى نقل إثبات عمر إياه، وقول محمد أرجح فيما يظهر، فإن ما ذكرنا من طريق التخلص بالطلاق وما أفادته هذه الدلائل إنما هو في تخلص الرجل، فأما المرأة فلا تقدر عليه وهي محتاجة إلى التخلص ومأمورة بالفرار قال - صلى الله عليه وسلم - «فر من المجذوم فرارك من الأسد»

11. لڑکے کا لڑکی والوں کوکسی خاص وصف کا دھوکہ دےکر نکاح کرنا:

اگر لڑکا کسی خاص وصف مثلا: ڈاکٹر ہونے یا بڑے عہدے پر فائز ہونے کادعوی یا کسی بڑے خاندان یا قوم کی طرف نسبت کر کے نکاح کر لے اور پھر معلوم ہو کہ یہ وصف لڑکے کے اندر موجود نہیں ہے، اسی طرح اگرلڑکے کی طرف سےیہ کہہ کر نکاح کیا گیا تھا کہ لڑکا کسی غلط عادت یا کسی خطرناک بیماری میں مبتلا نہیں ہے ،جبکہ بعد میں اس کے نشہ یا جواکے عادی ہونے یا کسی خطرناک بیماری جیسے یرقان وغیرہ میں مبتلا ہونے کا علم ہوا تو ان سب صورتوں میں اگر لڑکے کاغیر کفو ہوناثابت ہو جائے تو سب اولیاء کے لیے حق ِفسخ ثابت ہو گا اور اگر کفو ثابت ہوتو صرف عورت کو حقِ فسخ حاصل ہو گا، جیسا کہ علامہ ابن الہمام اور دیگر فقہائے کرام رحمہم اللہ نے صراحت کی ہےاور اس کی وجہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے تغریر یعنی دھوکہ دہی کا تحقق لکھی ہے۔

مصنف عبد الرزاق الصنعاني (6/ 154) المكتب الإسلامي - بيروت

10330 - عن الثوري قال: " لو أن رجلا أتى قوما، فقال: إني عربي، فتزوج إليهم  فوجدوه مولى كان لهم أن يردوا نكاحه، وإن قال: أنا مولى فوجدوه نبطيا رد النكاح.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 295) الناشر: دار الفكر،بيروت:

انتسب إلى غير نسبه لامرأة فتزوجته ثم ظهر خلاف ذلك، فإن لم يكافئها به كقرشية انتسب لها إلى قريش ثم ظهر أنه عربي غير قرشي فلها الخيار، ولو رضيت كان للأولياء التفريق وإن كافأها به كعربية ليست قرشية انتسب لها إلى قريش فظهر أنه عربي غير قرشي فلا حق للأولياء، ولها هي الخيار عندنا إن شاءت فارقته خلافا لزفر. ولنا أنه شرط لنفسها في النكاح زيادة منفعة وهو أن يكون ابنها صالحا للخلافة، فإذا لم تنل كان لها الخيار، كشراء العبد على أنه كاتب فظهر خلافه. وأيضا الاستفراش ذل في جانبها فقد ترضى به ممن هو أفضل منها لا من مثلها، فإذا ظهر خلافه فقد غرها وتبين عدم رضاها بالعقد فيثبت لها الخيار.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 501) دار الفكر-بيروت:

عن الظهيرية: لو انتسب الزوج لها نسبا غير نسبه فإن ظهر دونه وهو ليس بكفء فحق الفسخ ثابت للكل، وإن كان كفؤا فحق الفسخ لها دون الأولياء، وإن كان ما ظهر فوق ما أخبر فلا فسخ لأحد. وعن الثاني أن لها الفسخ لأنها عسى تعجز عن المقام معه وتمامه هناك، لكن ظهر لي الآن أن ثبوت حق الفسخ لها للتغرير لا لعدم الكفاءة بدليل أنه لو ظهر كفؤا يثبت لها حق الفسخ لأنه غرها، ولا يثبت للأولياء لأن التغرير لم يحصل لهم، وحقهم في الكفاءة، وهي موجودة، وعليه فلا يلزم من ثبوت الخيار لها في هذه المسائل ظهوره غير كفء والله سبحانه أعلم.

12. شوہر کا دائرہ اسلام سے نکل جانا:

اگر شوہر دائرہٴ اسلام سے نکل جائے، خواہ کوئی اور مذہب جیسے عیسائیت اور یہودیت اختیار کرلے یا  اپنے آپ كو اسلام کی طرف نسبت کرتے ہوئے ہی ایسے کفریہ عقائد اختیار کرلے جو اسلام کے صریح اصولوں کے خلاف ہوں، جیسے قادیانی،آغاخانی یا بوہری فرقہ وغیرہ کے عقائد اختیار کرلینا تو ان دونوں صورتوں میں نکاح ختم ہو جاتا ہے اور ان دونوں پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا واجب ہو جاتا ہے،  لہذا ایسی صورت میں بھی اگر بالفرض شوہر عورت کو اپنے ساتھ رہنے پر مجبور کرے تو عورت عدالت سے چارہ جوئی کر سکتی ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 136) الناشر: دار الكتب العلمية:

 ومنها الفرقة إذا ارتد أحد الزوجين، ثم إن كانت الردة من المرأة كانت فرقة بغير طلاق بالاتفاق، وإن كانت من الرجل ففيه خلاف مذكور في كتاب النكاح، ولا ترتفع هذه الفرقة بالإسلام.

13.زوجین کے درمیان حرمتِ مصاہرت کا ثابت ہونا:

زوجين کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجائے، جیسے شوہر کا ساس کو یا سسر کا بہو کو بغیرکسی کپڑا وغیرہ کے حائل ہونے کے شہوت سے چھو لینا وغیرہ تو ایسی صورت میں نکاح فورا ختم ہو جاتا ہے، اس کے بعد ان دونوں کااکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں ہوتا، لہذا اگر شوہر اسی حالت میں عورت کو اپنے ساتھ رہنے پر مجبور کرے تو وہ عدالت سے رجوع کر کے ایسے شخص سے اپنی جان چھڑاسکتی ہے۔

14. تین طلاق یا طلاقِ بائن کا واقع ہو جانا:

شوہر عورت کو تین طلاقیں دینے کے بعد اپنے ساتھ رہنے پر مجبور کرے ، جیسے اہلِ حدیث حضرات ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کرتے ہیں تو ایسی صورت میں بھی عورت عدالت سے قانونی چارہ جوئی کر کے اس سے اپنی جان چھڑا سکتی  ہے،طلاقِ بائن کا بھی یہی حکم ہے،  کیونکہ ان دونوں صورتوں میں شرعاً نکاح ختم ہو جاتا ہے۔

15. لڑکی کا بغیرولی کی اجازت کےغیر کفومیں نکاح کرنا:

اگر عاقلہ بالغہ لڑکیغیر کفو (لڑکے کا دینداری، حسبِ نسب، پیشہ اور بعض ائمہ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک مالداری میں بھی لڑکی کے ہم پلہ ہونا) میں کسی لڑکے کے ساتھ نکاح کر لے  تو  متاخرین حنفیہ کے نزدیک مفتی بہ قول کے مطابق یہ نکاح منعقد نہ ہو گا اور امام ابو حنفیہ رحمہ اللہ سے مروی نادر الروایہ بھی یہی ہے، البتہ حنفیہ کی ظاہر الروایہ کے مطابق یہ نکاح منعقد ہوجاتا ہے،[5] بہر دو صورت اگر اولیاء اس نکاح پر راضی نہ ہوں اور لڑکا لڑکی کو چھوڑنے پر راضی نہ ہو  تو ایسی صورت میں  ان کا لڑکے سے جان چھڑانے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا جائز ہے۔

فائدہ: لڑکی کے غیر کفو میں نکاح کرنے کی صورت میں چونکہ  ظاہرالروایہ اور نادر الروایہ میں الگ الگ دو قول موجود ہیں، متقدمین حنفیہ نے ظاہر الروایہ کو لیا ہے، جبکہ متاخرین حضرات نے نادرالروایہ کے مطابق فتوی کی تصریح کی ہے، حضراتِ اکابر رحمہم اللہ نے بھی موقع کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ہر قول پر فتاوی جاری کیے ہیں، چنانچہ مفتی  رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اور مفتی عزیز الرحمن صاحب دیوبندی رحمہ اللہ کے ظاہر الروایۃ  کے موافق بھی فتاویٰ موجود ہیں کہ ایسا نکاح منعقد ہے، البتہ غیر کفو میں ہونے کی وجہ سے اولیاء کو  اولاد ہونے سے پہلے تک اعتراض کا حق حاصل ہے۔ دیگربہت سے حضرات نےنادر الروایہ کے مطابق  فتاوی جاری کیے ہیں۔  لہذا موجودہ زمانے میں بھی  ماہر اہل افتاء موقع کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے کسی بھی قول کے مطابق فتوی دے سکتے ہیں، خاص طور پر اگر اولاد ہو چکی ہو تو ایسی صورت میں متاخرین کے قول کے مطابق نکاح کو غیرمنعقد اور باطل قرار دینے کی بجائے ظاہر الروایہ کے مطابق نکاح کے انعقاد کا فتوی دینا زیادہ مناسب ہے، تاکہ میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات شرعا حلال ہوں اور اس کے نتیجے میں اولاد بھی ثابت النسب شمار کی جا سکے۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 24) دار الكتب العلمية، بيروت:

 المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة رحمه الله، وهو قول أبي يوسف رحمه الله آخرا، وقول محمد رحمه الله آخرا أيضا لما يأتي بيانه بعد هذا إن شاء الله، حتى إن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار وله إيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض.

)بدائع الصنائع  2/ 249( الناشر: دار الكتب العلمية:

ومن ترك حق نفسه في عقد له قبل غيره لم يوجب ذلك فساده على أنه إن كان للولي فيه ضرب حق لكن أثره في المنع من اللزوم إذا زوجت نفسها من غير كفء لا في المنع من النفاذ والجواز؛ لأن في حق الأولياء في النكاح من حيث صيانتهم عما يلحقهم من الشين والعار بنسبة عدا الكفء إليهم بالصهرية فإن زوجت نفسها من كفء فقد حصلت الصيانة فزال المانع من اللزوم فيلزم، وإن تزوجت من غير كفء "وإن تزوجت من غير كفء ففي النفاذ إن كان ضرر بالأولياء وفي عدم النفاذ ضرر بها بإبطال أهليتها، والأصل في الضررين إذا اجتمعا أن يدفعا ما أمكن، وههنا أمكن دفعهما بأن نقول بنفاذ النكاح دفعاً للضرر عنها".

الفتاوى الهندية (1/ 292) دار الفكر، بيروت:

المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخرا وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط، كذا في فتاوى قاضي خان في فصل شرائط النكاح.

16. لڑکی کا بغیرولی کی اجازت کےمہرِمثل سےکم پر نکاح کرنا:

اگرلڑکی اولیاء کی اجازت کے بغیر کفو (ہم پلہ)میں نکاح کرے، مگر مہرِ مثل سے کم حق مہر مقرر کرے اور مطالبہ کے باوجودلڑکا مہر مثل ادا کرنے پر تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں  نکاح ختم کرانے کے لیے عورت کےاولیاء کا عدالت سے رجو ع کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ نکاح   اگرچہ حنفیہ کے نزدیک درست ہوا،کیونکہ حنفیہ کے متون میں یہ مسئلہ منقول ہے اور اس میں حنفی فقہائے کرام کا اختلاف بھی منقول نہیں، لہذا لڑکی کے اولیاء کو مہرمثل مکمل نہ ادا کرنے کی صورت میں نکاح فسخ کروانے کا حق حاصل ہے اورائمہ ثلاثہ رحمہم اللہ کےنزدیک ولی کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سےسرے سے نکاح منعقد نہیں ہوا اور پاکستان کی عدالت کسی بھی مذہب کے مطابق فیصلہ کردے تو وہ جائز ہوتا ہے، لہذا اس صورت میں اگر عدالت ائمہ ٴثلاثہ رحمہم اللہ کے مسلک کے مطابق اس نکاح کو کالعدم قرار دیدے یا حنفیہ کے مسلک کے مطابق اس نکاح کو فسخ کر دے تو یہ فیصلہ درست اور نافذ العمل ہو گا۔

البتہ یہ بات یاد رہے کہ اگرچہ شریعت نے ایسی صورت میں اولیاء کو نکاح فسخ کروانے کا حق دیا ہے، مگر مہرمثل کا کم ہونا ایک مالی مسئلہ ہے، ایسی صورت میں اگر لڑکا لڑکی کا کفو اور ہم پلہ ہو، بیوی کے حقوق بھی مکمل طور پر ادا کر رہا ہواور لڑکی بھی اس کے ساتھ رہنے پر رضامند ہو تو صرف مال کی کمی کی وجہ سےاولیاء کو  نکاح فسخ نہیں کروانا چاہیے، خصوصاً جبکہ ہمارے معاشرے میں کفو پائے جانے کے بعد مہرمثل کی کمی کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، کیونکہ آدمی کی شخصیت(Personality/Status)  اس کے لڑکی کا کفو ہونے سے واضح ہو جاتی ہے تو کفو (ہم پلہ) کی موجودگی میں دیگر چھوٹے چھوٹے مسائل کو صرفِ نظر کرنا چاہیے، خصوصا اگر عورت کی اولاد ہو چکی ہو تو پھر ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 196) دار احياء التراث العربي – بيروت:

قال: " وإذا تزوجت المرأة ونقصت عن مهر مثلها فللأولياء الاعتراض عليها " عند أبي حنيفة رحمه الله " حتى يتم لها مهر مثلها أو يفارقها "

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 302) الناشر: دار الفكر،بيروت:

(قوله وإذا تزوجت المرأة ونقصت عن مهر مثلها فللأولياء الاعتراض عند أبي حنيفة حتى يتم لها مهر مثلها أو يفارقها) فالثابت إلزام أحد الأمرين وهو فرع قيام مكنة كل منهما؛ فعن هذا ما في فتاوى النسفي: لو لم يعلموا بذلك حتى ماتت ليس لهم أن يطالبوه بتكميل مهر المثل؛ لأن الثابت لهم ليس إلا أن يفسخ أو يكمل.

17. باپ يادادا كا دنیوی غرض کی بنیاد پر نابالغ بچی کی مصلحت کو نطر انداز کرکے نکاح کرنا:

اگر باپ یا دادا لوگوں میں سوء خیار(بچوں پراختیارِنکاح کو ان کے مفاد کو پسِ پشت ڈال کراپنے ذاتی مفادکےلیے استعمال کرنا) میں معروف ہوں اور وہ کسی دنیوی غرض اور طمع کی بنیاد پر بچی کی مصلحت کو نظر انداز کر کے کسی شخص سے نکاح کر دیں تو یہ نکاح سرے سے منعقد نہیں ہو گا، جیسے قتل وغیرہ کے مسائل میں اولیاء مقتول میں سے کسی کے ساتھ لڑکی کا نکاح کر دینا، جبکہ لڑکا لڑکی کا کفو نہ ہو تو ایسی صورت میں لڑکی کا عدالت کی طرف رجوع کیے بغیردوسری جگہ نکاح کرنا درست ہے، کیونکہ البحر الرائق وغیرہ میں تصریح کے مطابق اکثر حنفیہ کے نزدیک شرعاًیہ نکاح باطل ہے، لہذا ایسی صورت میں اگر لڑکی کو لڑکے کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جائے تو وہ عدالت سے قانونی چارہ جوئی کر سکتی ہے۔

منحة الخالق على  البحر الرائق (3/ 144) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

وفي شرح المجمع لابن ملك حتى لو عرف من الأب سوء الاختيار لسفهه أو لطمعه لا يجوز عقده اتفاقا.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 145) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

فظاهر كلامهم أن الأب إذا كان معروفا بسوء الاختيار لم يصح عقده بأقل من مهر المثل ولا بأكثر في الصغير بغبن فاحش ولا من غير الكفء فيهما سواء كان عدم الكفاءة بسبب الفسق أو لا حتى لو زوج بنته من فقير أو محترف حرفة دنيئة ولم يكن كفؤا فالعقد باطل فقصر المحقق ابن الهمام كلامهم على الفاسد مما لا ينبغي، وذكر أصحاب الفتاوى أن الأب إذا زوج بنته الصغيرة ممن ينكر أنه يشرب المسكر فإذا هو مدمن له وقالت بعدما كبرت لا أرضى بالنكاح إن لم يكن يعرفه الأب بشربه وكان غلبة أهل بيته صالحين فالنكاح باطل اتفاقا؛ لأنه إنما زوج على ظن أنه كفء اهـ.

وهو يفيد أن الأب لو عرفه بشربه فالنكاح نافذ ولا شك أن هذا منه سوء اختيار بيقين لكن لم يلزم من تحققه كون الأب معروفا للناس به فقد يتصف به في نفس الأمر ولا يشتهر به فلا منافاة بين ما ذكروه كما لا يخفى، وفرق بين علمه وعدمه في الذخيرة بأنه إذا كان عالما بأنه ليس بكفء علم أنه تأمل غاية التأمل وعرف هذا العقد مصلحة في حقها أما هاهنا ظنه كفؤا فالظاهر أنه لا يتأمل. اهـ.

وقد وقع في أكثر الفتاوى في هذه المسألة أن النكاح باطل فظاهره أنه لم ينعقد وفي الظهيرية يفرق بينهما ولم يقل إنه باطل وهو الحق ولذا قال في الذخيرة في قولهم فالنكاح باطل أي يبطل.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 66) دار الفكر-بيروت:

وفي شرح المجمع حتى لو عرف من الأب سوء الاختيار لسفهه أو لطمعه لا يجوز عقده إجماعا. اهـ. (قوله وإن عرف لا يصح النكاح) استشكل ذلك في فتح القدير بما في النوازل: لو زوج بنته الصغيرة ممن ينكر أنه يشرب المسكر، فإذا هو مدمن له وقالت لا أرضى بالنكاح أي ما بعد ما كبرت إن لم يكن يعرفه الأب بشربه وكان غلبة أهل بيته صالحين فالنكاح باطل لأنه إنما زوج على الظن أنه كفء اهـ قال إذ يقتضي أنه لو عرف الأب بشربه فالنكاح نافذ مع أن من زوج بنته الصغيرة القابلة للتخلق بالخير والشر ممن يعلم أنه شريب فاسق فسوء اختياره ظاهر. ثم أجاب بأنه لا يلزم من تحقق سوء اختياره بذلك أن يكون معروفا به فلا يلزم بطلان النكاح عنه تحقق سوء الاختيار مع أنه لم يتحقق للناس كونه معروفا بمثل ذلك. اهـ.

والحاصل: أن المانع هو كون الأب مشهورا بسوء الاختيار قبل العقد فإذا لم يكن مشهورا بذلك ثم زوج بنته من فاسق صح وإن تحقق بذلك أنه سيئ الاختيار واشتهر به عند الناس، فلو زوج بنتا أخرى من فاسق لم يصح الثاني لأنه كان مشهورا بسوء الاختيار قبله.

الدرالمختار مع ردالمحتار (ج:3،ص:66,67) دار الفكر-بيروت:

قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:(ولزم النكاح ولو بغبن فاحش) بنقص مهرها وزيادة مهره (أو) زوجها (بغير كفء إن كان الولي) المزوج بنفسه بغبن (أبا أو جدا) وكذا المولى وابن المجنونة (لم يعرف منهما سوء الاختيار) مجانة وفسقا (وإن عرف لا) يصح النكاح اتفاقا وكذا لو كان سكران فزوجها من فاسق، أو شرير، أو فقير، أو ذي حرفة دنية لظهور سوء اختياره، فلا تعارضه شفقته المظنونة، بحر.قال ابن عابدین في الحاشیۃ: وفي شرح المجمع حتى لو عرف من الأب سوء الاختيار لسفهه أو لطمعه ،لا يجوز عقده إجماعا.

18. باپ اور داداکے علاوہ  کسی ولی کا نابالغ بچی کا نکاح کرنا:

باپ دادا کے علاوہ اگر کوئی ولی بچی کا نکاح کسی لڑکے ساتھ کر دے تو اگرچہ حنفیہ کے نزدیک ایسی صورت میں نکاح منعقد ہو جائے گا، البتہ بالغ ہونے کے بعد لڑکی کو خیارِ بلوغ حاصل ہو گا کہ اگر چاہے تو اس نکاح کو باقی رکھے اور اگر چاہے تو اس کو عدالت کے ذریعہ ختم کروالے، لیکن حنفیہ کے نزدیک اس میں شرط یہ ہے کہ جس مجلس میں لڑکی بالغ ہوئی ہو اسی مجلس میں کہے کہ میں اس نکاح کو ختم کرتی ہوں اور اپنی اس گفتگو پر گواہ بھی بنا لے اور پھر عدالت سے رجوع کر کے اس نکاح کو فسخ کروالے۔

لیکن اگر بالفرض لڑکی کو اس مسئلے کا علم نہ ہو یا نیند وغیرہ کی حالت میں بالغ ہونے پر اسی مجلس میں فسخِ نکاح  کی صراحت اور اس پر گواہ  نہ بنا سکے  تو اگر ایسی صورت میں کوئی معتبر وجہ موجود ہو مثلا: لڑكا لڑكی كا كفو نہ ہوتو بامرمجبوری مالکیہ اور حنابلہ کے مسلک کے مطابق بھی عدالتی فیصلے کو درست اور نافذ قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ نابالغ بچی کے نکاح کے مسئلہ میں مالکیہ کا مسلک یہ ہے کہ باپ کے علاوہ بچی کے نکاح کا کسی کو حق حاصل نہیں، لہذا اگر باپ کے علاوہ کسی نے اس کا نکاح کروا دیا تو شرعاً یہ نکاح منعقد نہیں ہو گا، اسی طرح حنابلہ کا بھی راجح مسلک یہ ہے کہ نو سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے باپ کے علاوه بچی کے نکاح کا كسی كو حق حاصل نہیں۔

     لہذا باپ کے علاوہ کسی کے صغیرہ بچی کا نکاح کرنے کی صورت میں اگر ضرورت کے وقت عدالت سے رجوع کیا جائے اور عدالت ثبوت کے بعد اس نکاح کو ختم قرار دیدے تو مالکیہ اور حنابلہ (اگر نکاح کے وقت بچی کی عمر نو سال سے کم ہو) یہ فیصلہ درست ہو گا اورلڑکی عدت گزارے بغیر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔کیونکہ پاکستانی عدالت  کا فیصلہ کسی بھی مذہب کے مطابق درست ہو تو وہ معتبر اور نافذ ہو گا۔

عقد الجواهر الثمينة في مذهب عالم المدينة (2/ 417) دار الغرب الإسلامي، بيروت:

السبب الخامس: التولية، وإنما يزوج السلطان البالغة عند عدم الولي أو عضله أو غيبته، وليس له أن يزوج الصغيرة، ولا يزوجها غير الأب من سائر الأولياء، فإذا كانت يتيمة فلا تزوج أصلاً حتى تبلغ. وروي: أن لسائر الأولياء تزويجها، ولها الخيار إذا بلغت. وروي: إن دعتها ضرورة، ومستها حاجة وكان مثلها يوطأ، ولها في النكاح مصلحة جاز تزويجها. قال الأستاذ أبو بكر: والأول هو المذهب الصحيح. وقال القاضي أبو محمد: (أظهر الروايات وأصحها والمعمول  بها والذي به نفتي أنه لا يزوجها غير الأب على أي وجه كان حتى تبلغ. قال: وإلى ذلك رجع مالك، ذكره محمد بن عبد الحكم.

وقال الشيخ أبو الطاهر: (وأما ما كانت ممن يخالف عليها الفساد، فلم يختلف أحد من المتأخرين أنها تزوج، وإن كان إطلاق الروايات يقتضي منع التزويج).

وإذا فرعنا على الرواية الصحيحة فزوجت، فروي: يفسخ النكاح ولا يقران عليه وإن بلغت، ما لم يدخل بها، وهذا مقتضى القول بالمنع من التزويج. وقيل: ينظر فيه الحاكم، فإن رآه صواباً أمضاه، وإلا فسخه. وقيل: الخيار لها، فإن رضيت مضى، وإلا فسخ. قال: ((وإنما يكون ذلك بعد بلوغها))، هذا حكم الولاية الخاصة.

حاشية العدوي على كفاية الطالب الرباني (2/ 44) الناشر: دار الفكر – بيروت:

(ولا يزوج الثيب) البالغة العاقلة الحرة التي لم تزل بكارتها بعارض أو بزنا رشيدة كانت أو سفيهة (أب ولا غيره إلا برضاها وتأذن بالقول) .

وقيدنا بالبالغة احترازا من الصغيرة التي ثيبت قبل البلوغ فإنه لا يزوجها غير الأب على ما رجع إليه مالك.

الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني (2/ 10) الناشر: دار الفكر،بيروت:

وللوصي أن يزوج الطفل في ولايته ولا يزوج الصغيرة إلا أن يأمره الأب بإنكاحها وليس ذوو الأرحام من الأولياء والأولياء منالعصبة.

الإشراف على نكت مسائل الخلاف (2/ 689) الناشر: دار ابن حزم

[1228] مسألة: لا يزوج الصغيرة، ولا يملك إجبار البكر البالغ إلا الأب وحده، خلافاً لأبي حنيفة في قوله إن سائر العصبة في ذلك كالأب.

بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 34) الناشر: دار الحديث – القاهرة:

فأما هل يزوج الصغيرة غير الأب؟ أم لا؟ فقال الشافعي: يزوجها الجد أبو الأب والأب فقط. وقال مالك: لا يزوجها إلا الأب فقط، أو من جعل الأب له ذلك إذا عين الزوج إلا أن يخاف عليها الضيعة والفساد.                                                                   

مسائل الإمام أحمد رواية ابنه (3/ 38) الناشر: الدار العلمية – الهند:

 ولا يزوج الصغيرة إلا أبوها ولا يزوج الجد ولا يزوج الصغيرة الأخ ولا الولي إلا أن تكون بنت تسع سنين فتستأمر فإن أذنت لم يكن لها خيار إذا كان مثلها يوطأ.

الشرح الممتع على زاد المستقنع (12/ 58) دار النشر: دار ابن الجوزي:

 وقال ابن شبرمة من الفقهاء المعروفين: لا يجوز أن يزوج الصغيرة التي لم تبلغ أبداً؛ لأننا إن قلنا بشرط الرضا فرضاها غير معتبر، ولا نقول بالإجبار في البالغة فهذه من باب أولى، وهذا القول هو الصواب، أن الأب لا يزوج بنته حتى تبلغ، وإذا بلغت فلا يزوجها حتى ترضى.

 الجامع لعلوم الإمام أحمد - الفقه (10/ 528) الناشر: دار الفلاح للبحث العلمي:

ولا يزوج الصغيرة إلا أبوها، ولا يزوج الجد، ولا يزوج الصغيرة الأخ، ولا المولى، إلا أن تكون بنت تسع سنين فتستأمر، فإن أذنت لم يكن لها خيار إذا كان مثلها يوطأ.

عدالت کے ذریعہ نکاح فسخ کروانے کا طریقہ

سوال: پیچھے ذکر کی گئی وجوہ اور اسباب کے پائے جانے کی صورت میں اگر شوہر طلاق یا خلع پر رضامند نہ ہو تو اس صورت میں عدالت سے نکاح فسخ کروانے کا کیا طریقہ کار ہے؟

جواب: عدالت کے ذریعہ نکاح فسخ کروانے کے طریقےسے پہلے بطورِ تمہید دو باتیں جاننا ضروری ہیں:

پہلی بات: بغیر کسی عذر اورمجبوری کے شوہر سے خلع یا طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں، ایسی صورت میں عورت کو کسی طرح بھی فسخِ نکاح کا حق حاصل نہیں ہے، نہ کوئی عدالت عورت کو فسخِ نکاح کی ڈگری دینے کی شرعا مجاز ہے، اگر کوئی عدالت اس صورت میں بلا وجہ فسخ کی ڈگری جاری کر دے تو شرعا اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی، البتہ اگر شوہر کی طرف سے ظلم اور زیادتی ہو اور میاں بیوی کے درمیان نباہ مشکل ہو اور شوہرطلاق اور خلع دینے پر بھی رضامند نہ ہو تو ایسی صورت میں عورت شرعی طریقہٴ کار کے مطابق عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے۔

دوسری بات: عدالت کا محض مدعی کے دعوی کے مطابق فیصلہ جاری کرنا دنیا کے کسی نظام میں معقول نہیں ہے اور شریعت میں بھی اس کا تصور نہیں ہے، لہذا کسی بھی دعوی کے ثبوت کے لیے معتبر دلائل ہونا ضروری ہیں اورمالیاتی حقوق کی طرح نکاح بھی ایک لازمی حق ہے، اس لیے نکاح کے دعوی میں بھی عدالت کو وہ تمام قرائن اور ثبوت پیشِ نظر رکھنا ضروری ہیں جو کسی مالیاتی مقدمے میں لازمی سمجھے جاتے ہیں، اگر عدالت حقوق کے فیصلوں سے متعلق شرعی قانون شہادت وغیرہ کی پیروی نہیں کرے گی تو اس کا فیصلہ کالعدم تصور ہو گا۔

اس تمہید کے بعد جواب یہ ہے کہ مجبوری کی صورت میں جب شوہر خلع یا طلاق نہ دے رہا ہو تو عورت درج ذیل شرائط کے ساتھ عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے:

  1. فسخِ نکاح کی شرعی وجہ موجود ہو، جیسےشوہر کا  مفقود یعنی گم ہو جانا،حقوقِ زوجیت ادا نہ کرنا،   نان ونفقہ نہ دینا یا ظلم وتشدّد کرنا وغیرہ، جن کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
  2. عورت یا اس کا وکیل دعوی دائر کرتے وقت دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتوں (یہ گواہ عورت کے اصول یعنی آباؤ اجداد اور فروع یعنی اولاد وغیرہ میں سے نہیں ہونے چاہئیں) کی گواہی کے ذریعہ اپنے دعوی یعنی فسخِ نکاح کی شرعی وجہ کو عدالت میں ثابت کرے اور بہتر یہ ہے کہ عدالت کے طریقہٴ کار کو پورا کرتے ہوئے اپنا حلفیہ بیان(Affidavit) بھی عدالت میں جمع کروائے، تاکہ اگر کسی وجہ سے کوئی ایک گواہ موقع پر نہ مل سکے تو بقیہ ایک گواہ اور مدعیہ کےحلفیہ بیان کے مطابق فیصلہ درست اور نافذ ہو جائے، کیونکہ مالکیہ کے نزدیک دد گواہوں کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ  ایک گواہ اور مدعیہ کی قسم یعنی  حلفیہ بیان کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ  بھی درست ہوتا ہے۔
  3. اگر فسخِ نکاح کی وجہ  مثلاظلم وتشددیا نان ونفقہ نہ دینے وغیرہ پر موقع کے گواہ موجود نہ ہوں یا گواہ تو موجود ہوں، مگر وہ عدالت میں گواہی دینے کے لیے تیار نہ ہوں تو ایسی صورت میں شہرت حقیقيہ (حقیقیہ کا مطلب یہ ہے کہ کثیر تعداد میں لوگوں کے درمیان وہ وجہ مشہور ہو) یا شہرتِ حکمیہ (حکمیہ کا مطلب یہ ہے کہ گواہی دینے والے شخص نے کم از کم دو آدمیوں سے سنا ہو کہ فلاں شخص واقعتاً اپنی بیوی کے ساتھ ظلم وزیادتی وغیرہ کرتا ہے) کی بنیاد پر بھی گواہی دی جا سکتی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ گواہی تو کسی چیز کے ثبوت کے لیے ہوتی ہے ایسی صورت میں نان ونفقہ کی نفی یعنی  نہ دینے پر کیسے گواہی قائم  کی جا سکتی ہے؟ تو اس کا جواب یہ کہ بعض صورتوں میں نفی پر بھی گواہی دی جا سکتی ہے،چنانچہ علامہ طرابلسی رحمہ اللہ نے معین الحکام  اورعلامہ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ نے معین القضاة میں  نفی پر گواہی کی تین صورتیں ذکر فرمائی ہیں، ان میں سے ایک امرِ منفی ( جس کی نفی کی گئی ہو، جیسے مفلس کے پاس مال نہ  ہونا وغیرہ) کا ظنِ غالب سے معلوم ہونا بھی ہے۔

نوٹ:یادرہے کہ ہماری عدالتوں میں  عام طور پر خلع کے فیصلوں میں گواہی طلب نہیں  کی جاتی، بلکہ محض عورت کے مطالبہ پر ڈگری جاری کر دی جاتی ہے، ایسی صورتِ حال میں درخواست دہندہ کو چاہیے کہ دعوی پیش کرتے وقت اسٹامپ پیپر پر دو گواہوں کا تحریری بیان بھی دستخطوں کے ساتھ پیش کر دے یا جج کے سامنے حاضری کے وقت اپنے ساتھ گواہ لے جائے اور عدالت کی طرف سے گواہی کے مطالبہ کا انتظار کیے بغیر خود ہی جج سےیہ کہہ دےکہ میرے پاس اس دعوی پر یہ گواہ موجود ہیں، ان کا بیان بھی لےلیا جائے، پھر جج اگر کسی ایک گواہ سے بھی دعوی کی تصدیق کروا لے تو ایک گواہ اور مدعیہ کی قسم یعنی حلفیہ بیان کے مطابق فیصلہ درست ہو جائے گا، کیونکہ پاکستان میں مسلمان قاضی  کا فیصلہ مذاہبِ اربعہ میں سے کسی بھی مذہب کے مطابق ہو تو وہ شرعاً نافذ ہوتا ہے۔

جماعت المسلمین کے ذریعہ نکاح ختم کروانے کا طریقہ

اگر کسی وجہ سے عدالت کا فیصلہ معتبر نہ ہو، مثلا عدالت نے بغیر شرعی ثبوت کے فیصلہ کیا ہو اور کسی دوسری عدالت میں بھی عورت کے لیے دعوی دائر کرنا مشکل ہو، جیسا کہ آج کل عدالتوں کا طریقہٴ کار ہے کہ اگرکسی فریق کے حق میں عدالت فیصلہ کر دے تو وہ اوپر عدالت میں بھی نظرثانی کی اپیل نہیں کر سکتا، کیونکہ نظرثانی کی درخواست تب دائر کی جا سکتی ہے جب فیصلہ درخواست گزار کے خلاف ہو،اسی طرح کسی اور ضلع کی عدالت میں بھی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ہر عدالت کا فیصلہ کرنے کا علاقہ محدود ہوتا ہے، اس لیے ایک ضلع کا کیس دوسرے ضلع کی عدالت قبول نہیں کرتی۔ ایسی صورت میں شرعی اعتبار سے جماعت المسلمین کے ذریعہ نکاح ختم کروایا جا سکتا ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ  اپنےعلاقے کے چار پانچ  نیک اور صالح آدمیوں (یہ مسئلہ چونکہ مالکی مسلک سے لیا گیا ہے،لہذا مالکی مسلک پر عمل کرتے ہوئے اس جماعت کے تمام اراکین کا صالح ہونا ضروری ہے، کیونکہ مالکیہ کے نزدیک  شرعی فیصلہ کے لیے قاضی کا صالح ہونا شرط ہے، لہذا فاسق جیسے ڈاڑھی منڈوانے والا اور دیگر کبائر کا مرتکب شخص اس جماعت کا رکن نہیں بن سکتا  (کذا فی الحیلة الناجزة:صفحہ:39) کو فیصلہ کے لیے نامزد کرلیا جائے، جن میں کم از کم ایک یا دو آدمی عالم ہوں، جو نکاح و طلاق وغیرہ کے مسائل سے واقف ہوں، خاتون ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کرے اور فیصلے کی مجلس میں گواہوں کے ذریعہ فسخِ نكاح كی وجہ کو  ثابت کردے ، يہ حضرات دعوی سننے کے بعد شوہر کو مجلسِ قضاء میں حاضرہونے کا نوٹس بھیجیں، اگر وہ نوٹس کا علم ہونے کے باوجودحاضر نہ ہو تو یہ چار یا پانچ رکنی جماعت   گواہوں سے ثابت شدہ فسخِ نکاح کی وجہ کو بنیاد پر اتفاقِ رائے سے مالکیہ کے مسلک کے مطابق عورت پرایک طلاقِ بائن واقع کردیں، نیز اس فیصلہ کے لیے جماعت کے تمام اراکین کا اتفاق ضروری ہے،مالکیہ کے نزدیک کثرتِ رائے سے کیا گیا فیصلہ نافذ نہیں ہو گا،اس کے بعد اِس فیصلہ کی تاریخ سے عورت  کی عدت شروع ہو  جائے گی، عدت مکمل ہونے پر عورت شرعاً دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔

حوالہ جات

 

[1] The Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939

Grounds for decree for dissolution of marriage:

A woman married under Muslim Law shall be entitled to obtain a decree for the dissolution of her marriage on any one or more of the following grounds, namely:

(i) that the whereabouts of the husband have not been known for a period of four years;

(ii) that the husband has neglected or has filed to provide for her maintenance for a period of two years;

(ii-A) that the husband has taken an additional wife in contravention of the provisions of the

Muslim Family Laws Ordinance, 1961.

(iii) that the husband has been sentenced to imprisonment for a period of seven years or upwards;

(iv) that the husband has failed to perform, without reasonable cause, his marital obligations for a period of three years;

(v) that the husband was impotent at the time of the marriage and continues to be so;

(vi) that the husband has been insane for a period of two years or is suffering from leprosy or a virulent venereal disease;

(vii) that she, having been given in marriage by her father or other guardian before she attainedthe age of sixteen years, repudiated the marriage before attaining the age of eighteen years: Provided that the marriage has not been consumated;

(viii)that the husband treats her with cruelty, that is to say,

 (a) habitually assaults her or makes her life miserable by cruelty of conduct even if such conduct does not amount to physical ill-treatment, or

 (b) associates with women of evil repute of leads an infamous life, or

 (c) attempts to force her to lead an immoral life, or

 (d) disposes of her property or prevents her exercising her legal rights over it, or

 (e) obstructs her in the observance of her religious profession or practice, or

 (f) if he has more wives than one, does not treat her equitably in accordance with the injunctionsof the Quran.

[2] یہ مجموعہ حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمہ اللہ کی زیرنگرانی مسلم پرسنل لاء بورڈالہند کی جانب سے مرتب کروایا گیا، جس کی ترتیب میں دارالعلوم دیوبند سے حضرت مفتی ظفیر الدین صاحب، دارالعلوم دیوبند وقف سے حضرت مفتی احمد سعید صاحب، دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ سے حضرت مفتی برہان الدین صاحب، جامعہ رحمانی مونگیر سے مفتی نعمت اللہ صاحب اور امارات شرعیہ پھلواری شریف سے حضرت مولانا مجاہد الاسلام صاحب رحمہ اللہ شریک ہوئے۔ (اسباب فسخِ نکاح صفحہ:12، مؤلفہ: مولانا ثمیر الدین صاحب قاسمی)

[3] The Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939

Grounds for decree for dissolution of marriage:

(i) that the whereabouts of the husband have not been known for a period of four years.

(ii) that the husband has neglected or has filed to provide for her maintenance for a period of two years.

(ii-A) that the husband has taken an additional wife in contravention of the provisions of the

(iii) that the husband has been sentenced to imprisonment for a period of seven years or upwards.

(iv) that the husband has failed to perform, without reasonable cause, his marital obligations for a period of three years.

[4] The Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939

Grounds for decree for dissolution of marriage:

A woman married under Muslim Law shall be entitled to obtain a decree for the dissolution of her marriage on any one or more of the following grounds, namely:…………………………

 (iv) that the husband has failed to perform, without reasonable cause, his marital obligations for a period of three years;

(v) that the husband was impotent at the time of the marriage and continues to be so;

(vi) that the husband has been insane for a period of two years or is suffering from leprosy or a virulent venereal disease.

"شرح مختصر خليل للخرشي" (4/ 198) دار الفكر للطباعة ، بيروت:

"وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل".

الحيلة  الناجزة للحليلة العاجزة:(ص:190):

أن المتعنّت إذا رجع يحتمل إلحاقه بالمعسر وهو الأقرب فله إجزاء فی العدة، لا بعدها ويحتمل أن الطلاق عليه بائن وعليه فلا رجعة له حيث لا نص صريح فی المسئلة كما تقدم والله سبحانه وتعالى أعلم                                                          

المغني لابن قدامة(9/ 244) دار الفكر ، بيروت:

وجملته أن الرجل إذا منع امرأته النفقة لعسرته وعدم ما ينفقه فالمرأة مخيرة بين الصبر عليه وبين فراقه وروي ذلك عن عمر وعلي وأبي هريرة وبه قال سعيد بن المسيب و الحسن وعمر بن عبد العزيز و حماد و مالك و يحيى القطان و عبد الرحمن بن مهدي و الشافعي و إسحاق و أبو عبيد و أبو ثور وذهب عطاء و الزهري و ابن شبرمة و أبو حنيفة وصاحباه إلى أنها لا تملك فراقه بذلك.

الذخيرة (11/ 21) دار الغرب،بيروت:

قاعدة شاع بين الفقهاء أن الشهادة على النفي غير مقبول وفيه تفصيل مجمع عليه وهو أن النفي المحصور تقبل الشهادة فيه كالشهادة على هذا البيت ليس قبلي فإنه معلوم النفي بالضرورة وكذلك غير المحصور إذا علم بالضرورة أو النظر كالشهادة على نفي الشريك لله تعالى ونفي زوجية الخمسة فهذه ثلاثة أقسام تقبل الشهادة فيها على النفي إجماعاً۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

28/جمادی الاولی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب