| 89464 | حج کے احکام ومسائل | احصار اور حج فوت ہوجانے کابیان |
سوال
مفتی صاحب! ہمارا ایک دوست پہلے سعودی عرب میں تھا، پھر وہاں سے واپس آگیا۔ اب وہ دوبارہ عمرے کی نیت سے جا رہا تھا۔ پاکستان میں گھر سے احرام باندھ کر ملتان ایئرپورٹ پہنچا، مگر فنگر پرنٹ نہ لگنے کی وجہ سے سعودی عرب جانے کی اجازت نہ ملی۔ اسے پہلے سے علم نہیں تھا کہ اس پر دس سال کی پابندی ہے، جس کی وجہ سے وہ عمرہ ادا نہ کر سکا۔ کیا اس پر دم واجب ہوگا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے احرام باندھنے کے ساتھ عمرہ کی نیت سے تلبیہ بھی پڑھ لیا ہو، اور اس کے بعد کسی وجہ سے عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا ہو، تو ایسی صورت میں وہ شرعاً محرم شمار ہوگا، اور احرام سے نکلنے کے لیے اس پر ایک دم واجب ہوگا۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی شخص کے توسط سے حدودِ حرم میں ایک بکری یا دنبہ بطور دم ذبح کروائے ۔ جب دم ادا ہو جائے تو وہ احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو کر حلال ہو جائے گا۔البتہ بعد میں جب پابندی ختم ہوجائے تو اس پر عمرے کی قضاء بھی لازم ہوگی۔
اور اگر مذکورہ شخص نے صرف احرام باندھا تھا،یعنی احرام کے کپڑے پہن لیے تھے، لیکن تلبیہ نہیں پڑھا تھا، اس کے بعد کسی وجہ سے ایئرپورٹ پر روک دیا گیا ہو ، تو ایسی صورت میں وہ شرعاً محرم شمار نہیں ہوگا، لہٰذا اس پر نہ دم لازم ہوگا،اور نہ عمرے کی قضاء لازم آئے گی۔
حوالہ جات
وفی الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:أما قرن النية بقول أو فعل، فقال الحنفية:لا يصيرشارعاً في الإحرام بمجرد النية، ما لم يأتِ بالتلبية، أي أن الإحرام لايثبت بمجرد النية ما لم يقترن بها قول أوفعل هو من خصائص الإحرام أو دلائله. (الفقه الإسلامي وأدلته :3/ 2181)
قال العلاۃ الحصکفی رحمہ اللہ : (إذا أحصر بعدو أو مرض) أو موت محرم أو هلاك نفقة حل له التحلل فحينئذ (بعث المفرد دما) أو قيمته فإن لم يجد بقي محرما حين يجد أو يتحلل بطواف (إلی قوله) (و) يجب (عليه إن حل من حجه) ولو نفلا (حجة) بالشروع (وعمرة) للتحلل إن لم يحج من عامه (وعلى المعتمر عمرة، و) على (القارن حجة وعمرتان) إحداهما للتحلل اھ (الدر المختار:2 / 591-593)
قال العلاۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : (قوله بعث المفرد) أي بالحج أو العمرة إلى الحرم قهستاني اھ. (رد المحتار: 2/ 591)
وفى بدائع الصنائع: وإن كان إحرامه بالعمرة لا غير قضاها لوجوبها بالشروع في أي وقت شاء؛ لأنه ليس لها وقت معين. اھ (2/ 182)
وفی الفتاوى الهندية:المحصر من أحرم ثم منع عن مضي في موجب الإحرام سواء كان المنع من العدو أو المرض أو الحبس أو الكسر أو القرح أو غيرها من الموانع من إتمام ما أحرم به حقيقة أو شرعا وهذا قول أصحابنا رحمهم الله تعالى ... (وأما حكم الإحصار) فهو أن يبعث بالهدي أو بثمنه ليشتري به هديا ويذبح عنه وما لم يذبح؛ لايحل وهو قول عامة العلماء سواء شرط عند الإحرام الإهلال بغير ذبح عند الإحصار أو لم يشترط، ويجب أن يواعد يومًا معلومًا يذبح عنه فيحل بعد الذبح ولايحل قبله حتى لو فعل شيئًا من محظورات الإحرام قبل ذبح الهدي يجب عليه ما يجب على المحرم إذا لم يكن محصرًا، وأما الحلق فليس بشرط للتحلل في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - وإن حلق فحسن، كذا في البدائع ...ثم إذا تحلل المحصر بالهدي وكان مفردا بالحج؛ فعليه حجة وعمرة من قابل، وإن كان مفردًا بالعمرة؛ فعليه عمرة مكانها وإن كان قارنا فإنما يتحلل بذبح هديين وعليه عمرتان وحجة، كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية:1/ 255)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/29جماد الثانی،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


