| 90043 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
میراسوال یہ ہے کہ والد صاحب کے پاس پیسے تھے لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں زکوٰۃ نہیں دی اور قربانی بھی صرف ایک ہی بار کی۔ اب ترکہ کے مال سے ان کی زکوٰۃ اور قربانی کا کیا حکم ہوگا؟
نیزوالد صاحب لوگوں سے مالی امداد مانگتے تھے، اور انتقال کے بعد ان کے پاس سے اچھی خاصی رقم بھی ملی۔ اب ہمیں مکمل نہیں پتا کہ کس نے کب ،کتنا پیسہ دیا اور کس زمرے میں دیا، اب ہمارے لیے ان پیسوں کا کیا حکم ہوگا؟ کیا یہ سارا پیسہ ہم ترکہ سمجھ سکتے ہیں یا جن جن کا کچھ یاد ہے ان کو پیسہ واپس کرنا لازم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ کے والد مرحوم نے زندگی میں وصیت کی تھی توگزشتہ سالوں کی زکوۃ وقربانی تہائی مال سے ادا کرنا ورثہ پر فرض ہے اور اگر مرحوم نے وصیت نہیں کی تھی توفرض نہیں ہے۔تاہم اگر ترکہ کی تقسیم کے بعدورثہ اپنی طرف سے زکوۃ ادا کرنا چاہیں تو امید ہے والد صاحب سے اللہ تعالی درگزر فرمائیں گے ۔
جن لوگوں نے آپ کے والد کی مالی مددکی ہے ،ان کی دی ہوئی رقم آپ کے والد صاحب کی ملکیت میں آنے کی وجہ سےان کا ترکہ ہے ،جو ورثہ میں تقسیم ہوگی ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين:6/760
وفی درمختاروأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي، وإلا لا (ثم) تقدم (وصيته) ولو مطلقة على الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه.
(قوله وأما دين الله تعالى إلخ) محترز قوله من جهة العباد وذلك كالزكاة والكفارات ونحوها قال الزيلعي فإنها تسقط بالموت فلا يلزم الورثة أداؤها إلا إذا أوصى بها؛ أو تبرعوا بها هم من عندهم، لأن الركن في العبادات نية المكلف وفعله، وقد فات بموته فلا يتصور بقاء الواجب اهـ
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبی:6/230
والمراد بالدين دين له مطالب من جهة العباد لا دين الزكاة والكفارات ونحوها لأن هذه الديون تسقط بالموت فلا يلزم الورثة أداؤها إلا إذا أوصى بها أو تبرعوا بها هم من عندهم لأن الركن في العبادات نية المكلف وفعله، وقد فات بموته فلا يتصور بقاء الواجب يحققه أن الدنيا دار التكليف۔۔۔۔۔۔۔الخ
الفتاوى الهندية:5/293,294
ولو مات الموسر في أيام النحر قبل أن يضحي سقطت عنه الأضحية.۔۔۔۔۔۔"رجل اشترى أضحية وأوجبها على نفسه بلسانه، ثم مات قبل أن يضحى بها، كان ميراثاً عنه في قول أبي حنفية و محمد رحمهما الله تعالى.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
25 /شوال المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


