| 90044 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک کمپنی QNET کے نام سے کام کر رہی ہے۔ جو ای کامرس میں ڈائرکٹ سیلنگ (E-Commerce direct selling) کے ذریعے مختلف مصنوعات اور خدمات فروخت کرتی ہے۔ اس کمپنی میں خریدوفروخت دو اقسام کی ہوتی ہیں۔ کچھ افراد صرف کمپنی سے سامان یا سروس خریدتے ہیں بغیر کسی کاروباری نیت کے، جبکہ کچھ افراد سامان یا سروس خریدنے کے ساتھ ساتھ کمپنی کے ساتھ بطور آزاد نمائندہ (Independent Representative) بھی کام کرتے ہیں۔جو لوگ بطور آزاد نمائندہ کام کرتے ہیں وہ دو طریقے سے کمیشن حاصل کر سکتے ہیں :
1۔پروڈکٹ بیچ کر۔
2۔کسی اور شخص کو کمپنی کے ڈسٹری بیوشن رائٹس بیچ کر اس کو بھی بطور آزاد نمائندہ کام کرنے کا موقع فراہم کر کے۔
درج بالا دونوں صورتوں میں کمیشن، پروڈکٹس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے دیا جاتا ہے نہ کہ محض نئے آزاد نمائندہ کی شمولیت پر،جس کا نیٹ ورک مارکیٹنگ میں عام تاثر ہے۔اس نوعیت سے یہ کمپنی جو نیٹ ورک مارکیٹنگ بزنس کر رہی ہے وہ اس کو منفرد اور شفاف بناتی ہے، کمپنی میں اس امر کی پابندی نہیں ہے کہ فرد واحد نے صرف آزاد نمائندہ بن کر ہی پروڈکٹ خریدنی یا بیچنی ہے۔ کوئی بھی شخص محض پروڈکٹ کی خریداری بھی کر سکتا ہے جبکہ اپنی مرضی سے آزاد نمائندہ بن کر ڈسٹری بیوشن رائٹس بھی حاصل کر سکتا ہے۔ آزاد نمائندہ بننے کی صورت میں اسے آن لائن پورٹل فراہم کیا جاتا ہے جس کی مینٹیننس کی مد میں سالانہ معمولی فیس واجب الادا ہوتی ہے۔ کمپنی کا مار کیٹنگ نظام نیٹ ورک مارکیٹنگ پر مبنی ہے، جس میں پوائنٹس، کمیشن اور مختلف درجات (Ranks) مقرر ہیں، اور کمیشن ایک متعین حد کے اندر دیا جاتا ہے۔ ریفرنس کے ذریعے سے افراد کو شامل کرنے سے ایک نیٹ ورک فروغ پاتا ہے۔ کمیشن کا فائدہ نیٹ ورک کے تمام افراد کو ہوتا ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ صرف بالا سطح پر موجود افراد ہی زیادہ کمیشن حاصل کریں۔ زیریں سطح پر موجود افراد اپنی محنت سے اپنے اوپر والوں سے زیادہ کمیشن بھی حاصل کر سکتے ہیں۔فنانشل سسٹم اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ مستقل محنت اور وقت کا متقاضی ہوتا ہے۔ QNET کی مختلف ممالک کے لیے مختلف ریفرنڈ پالیسی ہے اور پاکستان میں آپ پروڈکٹ پر چیز کرنے کے سات دن کے اندر اندر اپنا ریفنڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ کمپنی حقیقی اور موجود مصنوعات و خدمات فروخت کرتی ہے، معاہدہ واضح اور صریح ہوتا ہے، ادائیگی قانونی ذرائع سے کی جاتی ہے، اور بظاہر اس نظام میں دھو کہ، جہالت (غرر ) یا سود شامل نہیں کیا جاتا۔ مزید اس کمپنی کے بارے میں ایک فتوی جو بحرین یونیورسٹی سے شائع ہوا ہے ، منسلک ہے، اسمیں بھی مزید متعلقہ معلومات شامل ہیں اور درج ذیل نمبر بھی اس حوالے سے دیا گیا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسی کمپنی کے ساتھ خرید و فروخت کرنا یا بطور آزاد نمائندہ اس میں کام کرنا اور کمیشن حاصل کرناشرعا جائز ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکردہ تفصیلات کے مطابق مذکورہ صورت ملٹی لیول یا نیٹ ورک مارکیٹنگ ہی کی ایک شکل ہے،کیوں کہ بظاہراس میں بھی نیٹ ورکنگ سے آمدنی حاصل کرناہی مقصد ہے۔اس لیے کہ کمپنی کی ویب سائٹ اور بالخصوص اس کی شرائط و ضوابط (Terms & Conditions) کا بالتفصیل اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مذکورہ کمپنی یا ڈسٹری بیوٹر، پروڈکٹس کی صرف ڈائرکٹ سیلنگ سے آمدن حاصل کرنے کے بجائے نیٹ ورکنگ ہی سے آمدن حاصل کرتے ہیں۔مثلاً؛
- مذکورہ کمپنی کے مطابق ڈسٹری بیوٹر کی تعریف:مذکورہ کمپنی میں ڈسٹری بیوٹر (Distributor) سے مراد وہ شخص ہے جو کمپنی میں رجسٹر ڈ ہو تاکہ وہ مصنوعات فروخت کرنے اور دوسروں کو شامل کرنے کے ذریعے اپنا کاروباری نظام قائم کرے۔جبکہ عام بزنس ماڈل میں ڈسٹری بیوٹر بننے کا بہت سادہ میکینزم ہوتا ہے کہ ڈسٹری بیوٹر اصل کمپنی سے سامان لیتا ہے اور آگے بیچ کر نفع کماتا ہے ، دوسروں کو شامل کرکے کمیشن کمانے کا سلسلہ نہیں ہوتا۔
- اسی طرح ریفرر (Referrer) کا پورا ایک ترغیبی نظام موجود ہے۔
- شق نمبر 3.01(2)(c) کے مطابق ڈسٹری بیوٹر بننے کے لیے ریفرر(Referrer) لازم ہے۔
- شق نمبر 3.01(2)(c) کے مطابق ڈسٹری بیوٹر بننے کے لیے Distributorship Package کی خریداری لازم قراردی گئی ہے۔
- شق نمبر 5.02 Right to refer کے مطابق صرف پہلے سے موجود ڈسٹری بیوٹر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نئے کسٹمر کو ریفر کرے یا نئے ڈسٹری بیوٹر کو ریفر کرے۔
- اس کے علاوہ downline اور مختلف referral lines کی پابندیاں وغیرہ سے واضح ہے کہ کمپنی کا نظام ڈائرکٹ سیلنگ کے بجائے نیٹ ورک کے تحت ہی ہے۔
یہ تمام امور واضح کرتے ہیں کہ یہ کاروبار محض retail sale نہیں بلکہ ایک layered referral-based compensation structure ہے،جو کہ نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ ہی کی ایک صورت ہےاور یہ چار وجوہ سے ناجائز ہے۔
۱۔پہلی وجہ یہ ہے کہ شرعاًایک معاملے کو دوسرے معاملے کے ساتھ مشروط کرنا جائز نہیں ہے اور اس سے معاملہ فاسد ہو جاتا ہے، ملٹی لیول مارکیٹنگ میں لوگوں کو چیز فروخت کروا کر کمیشن لینا، اجارے (ملازمت) کے تحت آتا ہے، جسے پراڈکٹس کی خریداری کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے۔ اگر پراڈکٹس نہیں خریدی گئیں تو دوسروں کو خریداری کروا کر کمیشن کا حق بھی نہیں ہوگا۔ یوں ایک عقد (معاملے) میں دوسرا عقد جمع کیا جاتا ہے جو شرعاً ناجائز ہے۔
۲۔دوسری وجہ یہ ہے کہ بغیر عمل کے اجرت کا ملنا یاایک ہی مرتبہ کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت کا ملنا جائز نہیں ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ کاروبار میں جب کوئی شخص پہلا ممبر بناتا ہے اور وہ ممبر، مزید آگے ممبرز بناتا ہے تو ان آگے والے ممبران کی لین دین میں اس شخص کا کوئی ایسا عمل نہیں ہوتا ،جس کا تعلق براہ راست کمپنی اور خریدار کے لین دین سے ہو، ایسی صورت میں یہ شخص جو اجرت لیتا ہے، وہ بغیر کسی عمل کے ہوتی ہےیا ابتدا میں بنائے گئے ممبر کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت ملتی ہے اور ان دونوں صورتوں میں اجرت جائز نہیں ہے۔
۳۔تیسری وجہ قمار یعنی جوے کا ہونا ہے اور جوا،ناجائز ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ کاروبار میں شامل ہونے والے لوگ نیٹ ورک بنانے کے مقصد سے شامل ہوتے ہیں اور پراڈکٹ خریدنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ آگے چل کر زیادہ سے زیادہ ممبران بنائیں تو ان کا کمیشن حاصل ہو، لہٰذا یہ رقم پراڈکٹ خریدنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے کام کے لیے لگائی جاتی ہے، جس کام کا ہونا یا نہ ہونا ، دونوں ممکن ہوتے ہیں، اگر کام ہو گیا (یعنی ممبر بن گئے) تو کمیشن کی صورت میں نفع ہو جائے گا اور ممبر نہ بن سکے تو یہ رقم بھی ڈوب جائے گی،چونکہ معاملات میں مقاصد کا اعتبار ہوتا ہے،تو مقصد کو دیکھتے ہوئے یہ معاملہ شرعاً قمار (جوے) کے تحت آتا ہے،جوکہ ناجائز ہے۔
۴۔عدم جواز کی چوتھی وجہ حق مجرد کی بیع ہونا ہے،جس کی تفصیل یہ ہےکہ مذکورہ کاروبار میں پراڈکٹس کی خریداری کا مقصد پراڈکٹس نہیں ہوتیں بلکہ نیٹ ورکنگ کا حق حاصل کرنا ہوتا ہے، لہٰذا یہ نیٹ ورکنگ کے حق کی خرید وفروخت ہوتی ہے، نیٹ ورکنگ کا عمل اجارہ کے تحت آتا ہے ، اس کی بیع حق اجارہ کی بیع ہے جو ایک حق مجرد ہے اور حق مجرد کی بیع جائز نہیں ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سوال میں ذکر کردہ صورت، اور کمپنی کی اپنی جاری کردہ Terms & Conditions کی روشنی میں، یہ ماڈل ملٹی لیول / نیٹ ورک مارکیٹنگ ہی کی ایک صورت ہے۔ اگرچہ اس میں مصنوعات حقیقی ہیں اور کمپنی کمیشن کو ظاہراً product sales سے مربوط بتاتی ہے، لیکن اس کی عملی حقیقت یہ ہے کہ کمیشن کا حق(Paid distributorship, referrer system, qualification / activation, personal purchase / RSP, direct referrals, downlines, group volume, rank advancement ) وغیرہ کے ساتھ اس طرح مربوط ہے کہ یہ معاملہ سادہ جائز brokerage یا ڈسٹری بیوٹر شپ اور direct retail sale کی بجائے نیٹ ورکنگ ماڈل کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
لہٰذا اس طرح کی اسکیم میں بطور business participant داخل ہونا، distributorship package لے کر compensation plan میں شامل ہونا اور نیٹ ورک بنا کر کمیشن حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
البتہ جو شخص محض ایک عام صارف کی حیثیت سے کسی حقیقی اور مباح(جائز) پروڈکٹ کو استعمال کرنےکے لیے یا آگے بیچنے کے لیے مذکورہ کمپنی سے خریدتا ہے، اور وہ اس compensation structure کا حصہ نہیں بنتا، تو ایسا کرنا جائز ہے،لیکن بطور independent distributor / network participant اس بزنس ماڈل میں شامل ہونا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
(وكذلك لو باع عبدا على أن يستخدمه البائع شهرا، أو دارا على أن يسكنها شهرا، أو على أن يقرضه المشتري دراهم، أو على أن يهدي له هدية) فالبيع فاسد۔۔۔ وقد نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة ونهى عن بيع وشرط عن شرطين في بيع وعن بيع وسلف وعن ربح ما لم يضمن وعن بيع ما لم يقبض وعن بيع ما ليس عند الإنسان ، أما بيع وشرط فهو أن يبيع بشرط فيه منفعة لأحد المتعاقدين وأما نهيه عن شرطين في بيع فهو أن يبيع عبدا بألف إلى سنة، أو بألف وخمسمائة إلى سنتين ولم يثبت العقد على أحدهما، أو يقول: على إن أعطيتني الثمن حالا فبألف، وإن أخرته إلى شهر فبألفين، أو أبيعك بقفيز حنطة، أو بقفيزي شعير فهذا لا يجوز. لأن الثمن مجهول عند العقد ولا يدري البائع أي الثمنين يلزم المشتري، وأما صفقتان في صفقة أن يقول: أبيعك هذا العبد بألف على أن تبيعني هذا الفرس بألف وقيل هو أن يبيع ثوبا بشرط الخياطة، أو حنطة بشرط الحمل إلى منزله فقد جعل المشتري الثمن بدلا للعين والعمل فما حاذى العين يكون بيعا وما حاذى العمل يكون إجارة فقد جمع صفقتين في صفقة۔۔۔.
(الجوهرة النيرة، 1/203، ط: المطبعة الخيرية)
وإن اشترى ثوبا على أن يخيطه البائع بعشرة فهو فاسد؛ لأنه بيع شرط فيه إجارة؛ فإنه إن كان بعض البدل بمقابلة الخياطة فهي إجارة مشروطة في بيع، وإن لم يكن بمقابلتها شيء من البدل فهي إعانة مشروطة في البيع، وذلك مفسد للعقد۔۔۔.
(المبسوط للسرخسي، 15/102، ط: دار المعرفة)
وإن سلم غلاما إلى معلم ليعلمه عملا وشرط عليه أن يحذقه فهذا فاسد؛ لأن التحذيق مجهول إذ ليس لذلك غاية معلومة وهذه جهالة تفضي إلى المنازعة بينهما، وكذلك لو شرط في ذلك أشهرا مسماة؛ لأنه يلتزم إيفاء ما لا يقدر عليه فالتحذيق ليس في وسع المعلم بل ذلك باعتبار شيء في خلقة المتعلم، ثم فيما سمي من المدة لا يدري أنه هل يقدر على أن يحذقه كما شرط أم لا والتزام تسليم ما لا يقدر عليه بعقد المعاوضة لا يجوز.
(المبسوط للسرخسي، 16/41، ط: دار المعرفة)
العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني۔۔۔ والمراد بالمقاصد والمعاني: ما يشمل المقاصد التي تعينها القرائن اللفظية التي توجد في عقد فتكسبه حكم عقد آخر كما سيأتي قريبا في انعقاد الكفالة بلفظ الحوالة، وانعقاد الحوالة بلفظ الكفالة، إذا اشترط فيها براءة المديون عن المطالبة، أو عدم براءته.
وما يشمل المقاصد العرفية المرادة للناس في اصطلاح تخاطبهم، فإنها معتبرة في تعيين جهة العقود، فقد صرح الفقهاء بأنه يحمل كلام كل إنسان على لغته وعرفه وإن خالفت لغة الشرع وعرفه: (ر: رد المحتار، من الوقف عند الكلام على قولهم: وشرط الواقف كنص الشارع) .
(شرح القواعد الفقهية، 1/55، دار القلم)
لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض).
(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
24.شوال1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


