| 90081 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میر ادوست ایک ایپ جس کا نام لی پیکس (lypex) ہے میں کام کرتا ہے، جس کے مختلف لیول ہوتے ہیں ان لیول میں سے بیسک لیول کی مختصر تفصیل یہ ہے۔
(1) کوئی بھی شخص اس میں (USDT50) پچاس ڈالر کار وبوٹ خریدتا ہے پھر وہ ر وبوٹ چار دن ورک (یعنی کرنسی کی خرید و فروخت) کرتا ہے جس کے نتیجے میں؛
پہلے دن کوئی منافع نہیں ملتا۔
دوسرے دن کا منافع USDT 0.77
تیسرے دن کا منافع USDT 0.77
چوتھے دن کا منافع USDT 0.77
چاردن کا ٹوٹل منافع USDT 2.31 ملتا ہے۔
وضاحت : مذکور بالا منافع کرنسی کی متعین مقدار ہے جو صارف کو روبوٹ ایکٹیو کرنے کے بعد مذکورہ ترتیب کے مطابق ملتی ہے۔ یاد رہے کمپنی کا مدعٰی یہ ہے کہ وہ 2.22 فیصد نفع دیا کرتی ہے اور بقول قدیم صارفین کے کبھی کبھار مذکورہ مقدار میں کی زیادتی بھی ہو جاتی ہے۔(یہ اجباری ہے)
تفصیل:
مطلب یہ کہ آپ کو یہ روبوٹ ہر چاردن بعد ایکٹو کرناپڑتا ہے۔ اس لیے کہ وہ پچاس ڈالرجس کا آپ نے روبوٹ خریدا دوبارہ آپ کے اکاؤنٹ میں آجاتے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ وہ کمپنی کے پاس رہیں۔ پھر آپ چاہیں تو انہیں پیسوں سے روبوٹ دوبارہ ایکٹیو کر لیں۔ چاہیں تور قم نکال لیں۔
بیسک لیول میں ایک روبوٹ کی قیمت USDT50 ہے۔
ا یک روبوٹ کا چار دن ورک کرنے کے بعد کا کل منافع 2.31USDT ہے۔
دور و بوٹ کا چاردن ورک کرنے کے بعد کا کل منافع 2.31×2= USDT 4.62 ہے۔
دس روبوٹ کا چاردن ورک کرنے کے بعد کا کل منافع 2.31×10= USDT 23.1ہے۔
یعنی جتنے روبوٹ اتناہی روبوٹ کی تعداد کے بقدر منافع ملتا ہے،جس میں روبوٹ کی آخری حد سو ہے۔
نوٹ: یہاں ایک روبوٹ، دوروبوٹ، دس روبوٹ اور سورروبوٹ سے مراد روبوٹ کی تعداد نہیں ہے بلکہ ایک ہی روبوٹ دس اور سوگنا کام کر کے اتنے گنا منافع دیتا ہے انہیں چار دن میں۔
(2)اس میں چین سسٹم بھی ہے کہ اگر کسی ممبر کے توسط سے دس بندے اس سسٹم میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو اس ممبر کو مندرجہ ذیل سہولیات ملیں گی۔
- ایک ہزار USDTقرض ملتا ہے، جس پر روبوٹ دس دن ورک کر کے منافع آپ کو دیتا ہے یعنی دس کو ایڈ کرنے پر ایک ہزار USDT بطور قرض ملتا ہے۔
نوٹ: یہ سہولت صرف بیسک لیول والوں کے ساتھ خاص ہے۔
- آپ کا لیول اپگریڈ ہو جاتا ہے جس کے سبب منافع اور سہولیات بڑھ جاتی ہیں اور ان میں تبدیلی بھی ہو جاتی ہے۔
- اگر کوئی آپ کے لنک سےیہ سسٹم جوائن کرتا ہے تو آپ کو10 فیصد جوائن کرنے والے کے منافع کا ملے گااور اس سے تیسرا بندہ شامل ہو تو سب سے پہلے والے کو 3 فیصد ملے گا۔
وضاحت: یہ دس فیصد اور تین فیصد کا ملنا صرف بیسک لیول والوں کے ساتھ خاص ہے ،اوپرکے لیول والوں کو یہ فیصد نہیں ملتا اور سب کوبیسک لیول سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے، ڈائریکٹ کوئی بھی اوپر والے لیول میں نہیں جا سکتا۔
- جس بندے کے لنک سے آپ جوائن کرتے ہیں تو جوائن کرنے والے کو اور جس کے لنک سے جوائن کیا، دونوں کو لکی ڈرا (lucky draw) میں شرکت کا موقع ملتا ہے، جس میں USDT 5, 10 , 15, 20ہوتے ہیں اور participate کے نتیجے میں آپ کے نصیب کے مطابق آپ کو ملیں گے، کبھی پانچ یا دس یا بیس وغیرہ۔
یہ چاروں اختیاری ہیں۔
[3] مزید یہ کہ آپ اپنی رقم منافع کے ساتھ نکالیں یا صرف منافع نکالیں یا صرف اپنی رقم نکالیں، تینوں کا مکمل اختیار ہوتا ہے، جس پر کمپنی صرف ہمارے USDT 0.5 کاٹتی ہے۔ یعنی ایک مرتبہ ڈال کر دو بارہ نکالنے پر کمپنی USDT 0.5 کاٹتی ہے، چاہے آپ کو منافع ہوا ہو یا نہیں۔ (یہ اجباری ہے)
[4] کاپی ٹریڈنگ: اس کا مطلب بقول کمپنی یہ ہے کہ آپ خود اس میں ٹریڈنگ کرتے ہیں، جس میں نفع ونقصان دونوں کا امکان ہے لیکن اگر آپ کمپنی کی پالیسی کے مطابق PM 05:30 to PM05:59 کے دوران کرتے ہیں تو آپ کے نقصان کی ذمہ داری کمپنی پر ہوگی اور وہ اس نقصان کی تلافی کرے گی بصورت دیگر نقصان کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔ (یہ اختیاری ہے)
سوالات:
[1]یہ کونسی تجارت ہے ؟ شرعی یا عرفی یادونوں، نام بتادیجیے۔ مزید علت عدم جواز یا صورت جواز۔
[2]چین سسٹم کی صورت میں سیکنڈ پر سن کے منافع سے 10 فیصد اور تھرڈ پر سن کے منافع سے 3 فیصد لیناپہلےوالے کا کیسا ہے ؟؟؟ یعنی ان کی رقم سے پہلے والے کو ملنا یا ان کے منافع کے سبب کمپنی کی جانب سے پہلے والے کو ملنا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ رقم انہیں کمپنی کی طرف سے ملتی ہے سپر وائزر کی حیثیت سےاور ممبروں کے منافع میں کوئی کٹوتی نہیں ہوتی ،البتہ منافع کے سبب ملتی ہے۔ یہ اس لیے کہ اس پہلے والے بندے نے انہیں ٹرینگ دی، اسے ایڈ کیا اور اس کی نگرانی کرتا ہے وغیر ہ وغیرہ۔
[3]لکی ڈرا (Lucky draw) کی شرعی نقطہ نظر سے کیا حیثیت ہے ؟
[4]اپنی مکمل رقم نکلوانے کی صورت میں کمپنی USDT 0.5 کاٹتی ہے،خواہ صارفین کو نفع ہو یا نقصان،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
[5]مذکورہ کا پی ٹریڈ نگ کا کیا حکم ہے؟یعنی علت عدم جواز اور صورت جو از دونوں سے آگاہ فرمائیں اور مزیدمطلقاً ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
[6]کمپنی میں کرنسی کی خرید و فروخت کی مطلوبہ شرائط مکمل ہیں یا نہیں؟ہمیں معلوم نہیں، ہمارا کمپنی سے تجارتی تعلق مذکورہ ترتیب کے مطابق ہے ۔اس کو بھی سامنے رکھ کر ر ہنمائی فرمائیں ؟ اس لیے کہ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی کسی مسلم کمیونٹی کے ماتحت نہیں۔
[7]گویا مذ کورہ بالا ایپ سسٹم میں اصل رقم میں خسارے کا کوئی وجود نہیں، ہاں نفع میں کمی زیادتی کا امکان ضرور ہے۔ اس پر بھی رہنمائی فرمائیں۔
[8] علی کل حال اس ایپ سے متعلق مفصل و مدلل تحقیقانہ کافی و شافی جواب عنایت فرمائیں ،اس لیے کہ اس میں بہت سے علماء بھی شامل ہیں، انہوں نے اسے تاویل کے ساتھ جائزڈ کلیئر کیا ہوا ہے، اس لیے اس معاملے میں بندہ بہت الجھن کا شکار ہے۔
[9] اگر یہ ناجائز ہے تو جو رقم منافع کی حیثیت سے حاصل ہوئی اس کا کیا کریں؟اگر وہیں رہنے دیں تو کمپنی استعمال کرے گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے آن لائن ارننگ کے نام پر مختلف ایپلیکیشنز، سوشل میڈیا پیجز اور ویب سائٹس مسلسل نئے نئے ناموں کے ساتھ سامنے آتی رہی ہیں۔ ان تمام پلیٹ فارمز کا طریقۂ کار عموماً ایک جیسا ہوتا ہے، یعنی لوگوں سے سرمایہ کاری (Investment) لینا اور اس پر غیر معمولی نفع دینے کا وعدہ کرنا۔بعض پلیٹ فارمز ڈیجیٹل ایسٹس کے نام پر کام کرتے ہیں، بعض روایتی کرنسیوں کے عنوان سے،بعض گولڈ وغیرہ کے عنوان سے جبکہ بعض دیگر مختلف تجارتی یا تکنیکی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اب تک سامنے آنے والی اس نوعیت کی تقریباً تمام اسکیمیں دھوکہ دہی، غلط بیانی، غیر شفافیت یا کسی نہ کسی شرعی خرابی پر مشتمل پائی گئی ہیں۔
اس لیے ذیل میں کچھ اصولی باتیں ذکر کی جاتی ہیں ،ان کے مطابق اس طرح کی ایپلیکیشنز،پیجز اور ویب سائٹس وغیرہ سے متعلق عمل کیا جائے؛
کمپنی کی قانونی حیثیت اور تعارف
سب سے پہلے یہ تحقیق کی جائے کہ سرمایہ کاری لینے والی کمپنی:
- کن افراد یا ادارے کی ملکیت ہے؟اس کے مالکان اور انتظامیہ کون ہیں؟
- کس ملک میں قائم ہے؟کیا وہ اپنے ملک کے کسی معتبر اور مجاز قانونی ادارے میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے یا نہیں؟
اگر کمپنی رجسٹرڈ ہونے کا دعویٰ کرتی ہو تو:
- رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کی اصل اور جعلی ہونے کے اعتبار سے مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔
- یہ معلوم کیا جائے کہ یہ سرٹیفیکیٹ کن بنیادوں پر جاری کیا گیا ہے۔
- محض رجسٹریشن، کیاسرمایہ کاری لینے کے لیے کافی ہے یا لوگوں سے انویسمنٹ لینے کے لیے مزید قانونی اجازت(لائسنس وغیرہ) درکار ہوتی ہے؟
- اس رجسٹریشن کی بنیاد پر کمپنی کو کن کاموں کی قانونی اجازت حاصل ہے، اور آیا وہ عوام سے سرمایہ کاری لینے کی مجاز ہے یا نہیں؟
کمپنی کے کاروبار کی حقیقت
اس کے بعد یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ:
- کمپنی حقیقتاً کون سا کاروبار کر رہی ہے؟
- کس ذریعے سے وہ سرمایہ کاری سے نفع کماتی ہے؟
- اس کاروبار کی تفصیلی نوعیت، طریقۂ کار اور حقیقت کیا ہے؟
- ان تمام پہلوؤں کی تحقیق کے بعد اس کاروبار کا شرعی حکم معلوم کیا جائے۔
سرمایہ کاری اور منافع کا طریقۂ کار
تیسرے مرحلے میں یہ دیکھا جائے کہ:
- کمپنی سرمایہ کاری کس بنیاد پر لیتی ہے؟
- نفع کس شرح اور کس طریقے سے دیتی ہے؟
- نفع و نقصان کی شرائط و تفصیلات کیا ہیں؟
پھر یہ ساری تفصیلات لکھ کر کسی مستند دارالافتاء سے شرعی حکم معلوم کیا جائے۔بسا اوقات مالی فراڈ کرنے کے لیے مختلف پونزی یعنی جعلی اسکیمیں متعارف کروائی جاتی ہیں۔
پونزی اسکیمز یااسکیمز (Scams) کی پہچان کے عمومی اصول
موجودہ دور میں ماہرینِ معیشت پونزی اسکیمز اور مالی دھوکہ دہی کو پہچاننے کے جو اصول بتاتے ہیں، وہ معمولی فرق کے ساتھ وہی ہیں جو اوپر بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں خاص طور پر درج ذیل نکات شامل ہیں:
- یہ دیکھا جائے کہ کمپنی واقعی کوئی حقیقی پروڈکٹ یا سروس فراہم کر رہی ہے، یا صرف نئے ممبرز بنانے پر انحصار کر رہی ہے کیونکہ محض ممبرشپ پر مبنی نظام اکثر پونزی اسکیم ہوتا ہے۔
- کمپنی کی شفافیت دیکھی جائے، کیا مالکان، انتظامیہ، مالی ڈھانچہ اور آپریشنز مکمل طور پر واضح اور قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں؟
- مختلف آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے کمپنی کے بارے میں تحقیق کی جائے، جیسے آڈٹ رپورٹس، میڈیا رپورٹس، متعلقہ حکومتی ادارے اور صارفین کےفیڈبیکس۔
- کمپنی کی ریگولیٹری کمپلائنس (Regulatory Compliance) کا جائزہ لیا جائے۔
- یہ پرکھا جائے کہ آیا کمپنی مارکیٹ کے عمومی اصولوں کے خلاف غیر معمولی نفع کا وعدہ تو نہیں کر رہی کیونکہ ایسا وعدہ عموماً پونزی اسکیم کی علامت ہوتا ہے۔
بنیادی اصولی باتیں ذکر کرنے کے بعد آپ کے سوالات کے بالترتیب جوابات درج ذیل ہیں؛
[1]سوال میں بیان کی گئی عقد کی تفصیل کسی شرعی عقد پر مشتمل نہیں ہے،بلکہ اس میں کئی ایسے مفاسد ہیں جو خلافِ شریعت ہیں اور جن کی وجہ سے مذکورہ ایپ کے ذریعے سرمایہ کاری کرنااور نفع یا کمیشن حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔
- اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ کمپنی/ایپ کا معاملہ،سرمایہ کاروں سے پارٹنرشپ پر مبنی عقود یعنی شرکت،مضاربت یا وکالہ بالاستثمار(Investment Agent) تینوں میں سے کسی عقد کی بھی بنیادی لازمی شرائط کے مطابق نہیں ہے۔
- ویب سائٹ اور سوال میں موجود تفصیل کے مطابق مذکورہ کمپنی/ایپ کی طرف سے سرمایہ کاری کی ایک متعین فیصد کے بقدر نفع کی ضمانت لی گئی ہے جو کہ شرعاً درست نہیں ہے۔
- مذکورہ کمپنی/ایپ کی طرف سے معاملہ شرعی پہلو کے اعتبار سے انتہائی مبہم ہے، جس کی وجہ سے اس معاملے میں جہالت کا پہلو غالب ہے،اوراس درجے جہالت کے ہوتے ہوئے معاملہ شرعاً جائز نہیں ہوتا۔
- عقلی،تجرباتی اور مشاہداتی طور پر بھی مذکورہ کمپنی/ایپ کی طرف سے نفع کی جس مقدار کی ضمانت لی جارہی ہے وہ عملاً تقریباً ناممکن ہے،اس لیے کہ کسی بھی کاروبار میں مستقل طور پر اتنا نفع برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔جیسے کہ سوال میں بتایا گیا ہے کہ بیسک پلان میں ہر چار دن کا نفع سرمایہ کاری کے تناسب سے تقریبا 2.31 فیصد ملتا ہے،30(مہینے کے ایام) کو 4 سے تقسیم کریں تو 7.5 جواب آتا ہے،اب 7.5 کو 2.31 سے ضرب دیں تو جواب 17.325 آتا ہے،مطلب یہ ہوا کہ بیسک پلان میں ماہانہ تقریباً 17 فیصد نفع اور اب 17.325 کو 12 (بارہ ماہ یعنی سالانہ) سے ضرب دیں تو یہ 207.9 فیصد نفع بنتا ہے،اس کا مطلب یہ ہوا کہ مذکورہ کمپنی/ایپ کی طرف سے بیسک پلان لینے والے کو سالانہ 207.9 فیصد نفع دیاجاتا ہے،جس کا حقیقی نفع پر مشتمل ہونا عملاً تقریباً ناممکن ہے ۔
[2]سوال میں جس چین سسٹم کا ذکر کیا گیا ہے اسے اصطلاح میں ملٹی لیول مارکیٹنگ(MLM) یا نیٹ ورک مارکیٹنگ کہتے ہیں،اور اس کا عمومی بنیادی اسٹرکچر چار وجوہ سے ناجائز ہے۔
۱۔پہلی وجہ یہ ہے کہ شرعاًایک معاملے کو دوسرے معاملے کے ساتھ مشروط کرنا جائز نہیں ہے اور اس سے معاملہ فاسد ہو جاتا ہے، ملٹی لیول مارکیٹنگ میں لوگوں کو چیز فروخت کروا کر کمیشن لینا، اجارے (ملازمت) کے تحت آتا ہے، جسے پراڈکٹس کی خریداری کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے۔ اگر پراڈکٹس نہیں خریدی گئیں تو دوسروں کو خریداری کروا کر کمیشن کا حق بھی نہیں ہوگا۔ یوں ایک عقد (معاملے) میں دوسرا عقد جمع کیا جاتا ہے جو شرعاً ناجائز ہے۔
۲۔دوسری وجہ یہ ہے کہ بغیر عمل کے اجرت کا ملنا یاایک ہی مرتبہ کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت کا ملنا جائز نہیں ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ کاروبار میں جب کوئی شخص پہلا ممبر بناتا ہے اور وہ ممبر مزید آگے ممبرز بناتا ہے تو ان آگے والے ممبران کی لین دین میں اس شخص کا کوئی ایسا عمل نہیں ہوتا ،جس کا تعلق براہ راست کمپنی اور خریدار کے لین دین سے ہو، ایسی صورت میں یہ شخص جو اجرت لیتا ہے، وہ بغیر کسی عمل کے ہوتی ہےیا ابتدا میں بنائے گئے ممبر کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت ملتی ہے اور ان دونوں صورتوں میں اجرت جائز نہیں ہے۔
۳۔تیسری وجہ قمار یعنی جوے کا ہونا ہے اور جوا،ناجائز ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ کاروبار میں شامل ہونے والے لوگ نیٹ ورک بنانے کے مقصد سے شامل ہوتے ہیں اور پراڈکٹ خریدنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ آگے چل کر زیادہ سے زیادہ ممبران بنائیں تو ان کا کمیشن حاصل ہو، لہٰذا یہ رقم پراڈکٹ خریدنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے کام کے لیے لگائی جاتی ہے، جس کام کا ہونا یا نہ ہونا ، دونوں ممکن ہوتے ہیں، اگر کام ہو گیا (یعنی ممبر بن گئے) تو کمیشن کی صورت میں نفع ہو جائے گا اور ممبر نہ بن سکے تو یہ رقم بھی ڈوب جائے گی،چونکہ معاملات میں مقاصد کا اعتبار ہوتا ہے،تو مقصد کو دیکھتے ہوئے یہ معاملہ شرعاً قمار (جوے) کے تحت آتا ہے،جوکہ ناجائز ہے۔
۴۔عدم جواز کی چوتھی وجہ حق مجرد کی بیع ہونا ہے،جس کی تفصیل یہ ہےکہ مذکورہ کاروبار میں پراڈکٹس کی خریداری کا مقصد پراڈکٹس نہیں ہوتیں بلکہ نیٹ ورکنگ کا حق حاصل کرنا ہوتا ہے، لہٰذا یہ نیٹ ورکنگ کے حق کی خرید وفروخت ہوتی ہے، نیٹ ورکنگ کا عمل اجارہ کے تحت آتا ہے ، اس کی بیع حق اجارہ کی بیع ہے جو ایک حق مجرد ہے اور حق مجرد کی بیع جائز نہیں ہے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکورہ کمپنی/ایپ کے چین سسٹم میں بعینہ نیٹ ورک مارکیٹنگ کا مذکورہ ماڈل تو اگرچہ نہیں ہے لیکن اس سے ملتا جلتا ضرور ہے، وہ اس طرح کہ اس میں بھی اسی شخص کو مزید ممبر بنانے کا حق اور اس پر کمیشن حاصل ہوگا جو پہلے سے باقاعدہ انوسٹر ہو،معلوم ہوا کہ مزید ممبر بنانے اور اس پر کمیشن حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے خود انویسٹمنٹ کرے۔
اسی طرح اجرت/کمیشن کا معاملہ تو بعینہ اسی طرح ہے،کہ ایک مرتبہ کے عمل کے نتیجے میں down lines کا بار بار کمیشن ملتا رہے گا۔رہی بات نگرانی وغیرہ کی تو یہ کوئی ایسا قابل ذکرکام نہیں ہے جس کی عرفاً اجرت ملتی ہو، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عملاً ایسا کوئی کام مستقل نہیں کرنا پڑتا بلکہ نئے آنے والے ممبر کے تمام معاملات براہ راست کمپنی خود دیکھ رہی ہوتی ہے۔
بہرحال!دوسرےسوال کے جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نام سے رائج کاروبار کی مختلف اسکیمیں یا کسی اور نام سے مذکورہ کاروبار کی طرح کی رائج اسکیمیں مذکورہ خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے،لہٰذا اس طرح کی کاروباری اسکیمیں شروع کرنا یا اس کاحصہ بننا جائز نہیں ہے،اور چونکہ مذکورہ کمپنی/ایپ کا چین سسٹم بھی تقریباًاسی ناجائز طریقِ کار کے مطابق ہے،لہٰذا اس کا حصہ بننا بھی جائز نہیں ہے اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے مذکورہ چین سسٹم کے تحت موجود، ممبر بنانے والے یا ممبر بننے والے کو ملنے والی مزید سہولیات (قرض،کمیشن،لکی ڈرا وغیرہ) سے استفادہ حاصل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
[3]لکی ڈرا کے جائز ناجائز ہونے کا تعلق اس کے عملی طریق کار سے ہوتا ہے،جب تک وہ مکمل طور پر واضح نہ ہو اس کا حکم طے نہیں کیا جاسکتا۔اس کی کئی صورتیں قمار یعنی جوا پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں اور بسا اوقات بعض ایسی صورتیں بھی اختیار کی جاتی ہیں جن میں شرعی خرابی نہیں ہوتی۔البتہ مذکورہ ایپ کے معاملے میں جیسا کے اوپر تفصیل سےذکر کیا گیا ہے،اس تفصیل کے مطابق اس سے اجتناب ضروری ہے۔
[4]چونکہ مذکورہ ایپ کےا پنے صارفین کے ساتھ معاملے کی نوعیت، کسی شرعی واضح عقد پر مشتمل نہیں ہے،اس لیے جیسے اس کمپنی سے معاملہ جائز نہیں تو انوسٹمنٹ دینا اور اضافے کے ساتھ واپس لینا بھی جائز نہیں،رہی بات فیس کی کٹوتی کی تو کمپنی سے اس کی وضاحت معلوم کرنی چاہیے کہ وہ کس مد میں یہ فیس کاٹتی ہے۔
[5]کاپی ٹریڈنگ (Copy Trading)، فاریکس میں کاپی ٹریڈنگ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسی خودکار سرمایہ کاری حکمتِ عملی ، جس میں سرمایہ کار (فالوورز) تجربہ کار ٹریڈرز (پرووائیڈرز) کی ریئل ٹائم ٹریڈز کو کاپی کرتے ہیں۔جب پرووائیڈر یعنی ٹریڈر کوئی پوزیشن کھولتا یا بند کرتاہے تو وہی عمل خود بخود فالوور کے اکاؤنٹ میں بھی ہو جاتا ہے۔ اس طرح نئے افراد بغیرمارکیٹ تجزیہ کے،فقط ماہرین کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
چونکہ مذکورہ ایپ کے ذریعے سے انویسٹمنٹ جائز نہیں ہے ،لہٰذا کاپی ٹریڈنگ کی مذکورہ سہولت حاصل کرنا بھی جائز نہیں ہے،پھر بالخصوص خاص وقت میں ٹریڈنگ کی صورت میں کمپنی کی طرف سے نقصان کی ذمہ داری لی گئی ہے،یہ بھی ایک شرعی خرابی ہے،اس لیے کہ شرکاء میں سے کوئی شریک اپنی شرکت کے تناسب سے زیادہ نقصان برداشت کرنے یا مضارب،نقصان برداشت کرنے کی ضمانت نہیں لے سکتا۔
البتہ فی نفسہ کاپی ٹریڈنگ میں موجود پوزیشن کھولنا اور بند کرنا ،پھر اس میں آپشنز اور لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم آپشنز اور اس میں موجود خیارات وغیرہ سے متعلق فاریکس کی تفصیلات چونکہ طویل ہے اور یہاں بظاہر اس کی ضرورت نہیں،اس لیے اسے جواب میں ذکر نہیں کیا جارہا۔اگر یہ تفصیل بھی مطلوب ہو تو فاریکس،شیئرز اور مختلف کموڈٹیز میں آن لائن خرید وفروخت کے حوالے سے تفصیلی فتوی،دارالافتاء جامعۃ الرشید کی ویب سائٹ almuftionline.com پر بعنوان "آن لائن فاریکس ٹریڈنگ اور اسٹاک ایکسچینج میں رائج مختلف صورتوں کا حکم" یا فتوی نمبر "85615" سرچ کرکے ضرور ملاحظہ فرمائیں۔
[6]جیسا کہ پہلے لکھا جاچکا کہ یہ بظاہر حقیقی کاروباری اسکیم نہیں ہے بلکہ جعلی اسکیم ہے،اس لیے اجتناب ضروری ہے،بالفرض حقیقی کاروباری اسکیم ہو تب بھی ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ کمپنی یا ایپ کا بزنس ماڈل شریعت کے مطابق نہیں ہے ،اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔اس لیےکہ؛
- کمپنی کی ویب سائٹ پر موجود اشتہارات سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ بظاہر یہ ایک پونزی اسکیم ہے،اس لیے کہ کمپنی نےانویسٹمنٹ کا کم از کم 2.5 فیصد یومیہ یا چار دن کا،نفع کا دعوی کیا ہے،اگر یہ فکس ہو تو شرعاً درست نہیں،اور اگر یہ متوقع نفع ہو تو عملاً تقریباً ناممکن ہے ،اس لیے کہ اتنا زیادہ نفع کسی حقیقی کاروبار میں عام طور پر ممکن نہیں ہوتا۔
- دوسری بات یہ ہے کہ ویب سائٹ پر موجود تفصیل کے مطابق یہ ایپ کرپٹو میں ٹریڈنگ کرتی ہے اور کرپٹو کے حوالے سے دارالافتاء کی رائے، اب تک کی دستیاب معلومات کے مطابق اجتناب کی ہے۔(اگرچہ اس دوران قانونی اعتبار سے کچھ ڈویلپمنٹ ہوئی ہے لیکن مکمل طور پر ابھی بھی سرمایہ کار کے اموال کی حفاظت کے حوالے سے تفصیلی قانون سازی اور نگرانی کی تفصیلات واضح نہیں ہیں،اس لیے اجتناب بہتر ہے۔)تفصیل کے لیے دارالافتاء جامعۃ الرشید کی آفیشل ویب سائٹ Almuftionline.com پر موجود درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ کیے جائیں:
- فتویٰ نمبر 81020 بعنوان:
"بائنانس (Binance) اور کرپٹو ٹریڈنگ کا حکم" - فتویٰ نمبر 84734 بعنوان:
"کرپٹو کی ٹریڈنگ کے ذریعے پیسے کمانے کا حکم"
ان فتاویٰ میں کرپٹو کرنسی اور اس سے متعلقہ معاملات کا شرعی حکم تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
- تیسری بات یہ ہے کہ مذکورہ ایپ کے یوزر ایگریمنٹ (User Agreement) میں موجود مذکورہ ایپ کی سروسز کے بارے میں جو تفصیل لکھی ہے ،اس کے مطابق (بالفرض اگر یہ حقیقی کاروباری اسکیم ہےتب بھی)کمپنی ڈیجیٹل ایسٹس میں کام کرتی ہےاور اسپاٹ و فیوچر دونوں طرح کی ٹریڈنگ کرتی ہے،اس سے بھی یہ بات واضح ہے کہ یہ ایپ شرعی احکام کی پابندی کے ساتھ کاروبار نہیں کرتی ہے بلکہ مروجہ آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کی طرح کام کرتی ہےاور مروجہ فاریکس ٹریڈنگ کئی شرعی خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے۔اس لیے کہ آن لائن فاریکس ٹریڈنگ درج ذیل شرائط کےساتھ جائز قرار دی گئی ہے،جوعام طور پر فاریکس ٹریڈنگ میں نہیں پائی جاتی؛
- جائز چیز کی خریدو فروخت ہو۔
- لین دین حقیقی ہو ، صرف اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کیا جاتا ہو۔
- چیز بیچنے والا اس کامالک ہواور بیچنے سے پہلے اس پر قبضہ بھی کیا ہو ۔
- عقد کی مجلس میں ہی مبیع (subject matter)پرحقیقتاً یا حکماً قبضہ کیا جائے۔
- کرنسی اور سونا چاندی کی خرید وفروخت میں بوقت عقد کسی ایک عوض پر لازمی قبضہ کیا جائے۔
- بیع فوری ہو ، فیوچر یا فارورڈسیل نہ ہو،اسی طرح آپشز(options)،لانگ یا شارٹ پوزیشن،مارجن ٹریڈنگ،شارٹ سیل اوربلینک سیل کی صورت نہ ہو۔
ہماری معلومات کےمطابق آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کےمروجہ ماڈلز میں ان شرائط کا عملاً خیال نہیں رکھا جاتا،buy اور sell وغیرہ کے الفاظ فقط رسمی طور پر لکھے ہوتے ہیں، حقیقتاً خرید و فروخت شرعی اصولوں کے مطابق نہیں کی جاتی،بلکہ صرف فرق برابر کیا جاتا ہے،اس لیےاس سے احتراز لازم ہےاور اس کے ذریعےٹریڈنگ کرنا،شرعاً،ناجائز ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ کئی مفاسد کی وجہ سے مذکورہ ایپ کے ذریعے انویسٹمنٹ کرنا اور اس سے نفع کمانا جائز نہیں ہے۔
[7]مذکورہ کاروباری اسکیم کے فراڈ اور پونزی ہونے کی یہ بھی ایک واضح علامت ہے۔
[8]کسی کاروباری سرگرمی کے جائز یا ناجائز ہونے کا مدار علماء کی اس کاروبار میں شمولیت و عدم شمولیت پر نہیں ہوتا بلکہ اس کاروبار کی عملی حقیقت پر ہوتا ہے، لہٰذا اگر کاروبار ناجائز ہو تو عالم اور غیر عالم سب کو بچنا چاہیے اور اگر جائز ہو تو ہر ایک اسے اختیار کرسکتا ہے۔
بہرحال !اس کمپنی کی ویب سائٹ https://www.lypexchg.com/#/service/company پر دو سرٹیفیکٹ موجود ہیں ،ایک امریکا (U.S) اور دوسرا ہانگ کانگ کا۔ہانگ کانگ کی متعلقہ ویب سائٹ https://apps.sfc.hk/publicregWeb/searchByName?locale=en پر اس کمپنی کی رجسٹریشن کا کوئی سرٹیفیکٹ یا ثبوت نہیں ملا۔جبکہ دوسرا سرٹیفیکٹ بھی امریکا کی متعلقہ ویب سائٹ https://www.sec.gov/edgar/search پر موجود نہیں ہے،جس سے بظاہر ان کا جعلی ہونا واضح معلوم ہوتا ہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ بالفرض یہ سرٹیفیکٹ اصلی ہوں ،تو بھی یہ فقط رجسٹریشن کے سرٹیفیکٹس ہیں، جن سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک رجسٹڑڈ لیگل انٹٹی(Registered Legal Entity) ہے،اس سے زیادہ مزید کچھ ان سرٹیفیکیٹ سے معلوم نہیں ہوتا۔
ان کے بزنس کی تفصیلات،پھر اس تفصیلات کے مطابق بزنس کرنےاور لوگوں سے انوسٹمنٹ لینے کی قانونا اجازت ہونے کے لیے علیحدہ سے لائسنس کا ہونا ضروری ہے ،وہ ان کی ویب سائٹ پر دستیاب نہیں ہے۔
[9] اصل سرمایہ کاری کی رقم جو اپنے حلال اموال سے جمع کروائی گئی تھی ،اس کے بقدررقم وصول کرکے خود استعمال کرسکتے ہیں، اور جو رقم نفع کے نام پر حاصل کرچکے ہیں(خواہ وہ خرچ ہو چکی ہو یا باقی ہو) یا کمپنی کے پاس رکھی ہوئی ہے،اسےوصول کرکے بلا نیت ثواب صدقہ کردیں،وہ رقم واجب التصدق ہے،اس کا استعمال آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 58)
فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركۃ
(ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.
(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 82)
فصل فی شرائط رکن المضاربۃ
والجهالة تفضي إلى المنازعة، والمنازعة تفضي إلى الفساد، وهذا لا يجوز.
الموسوعة الفقهية الكويتية (40/ 78، بترقيم الشاملة آليا)
واشتراط الوضيعة على المضارب باطل .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 305)
ولا خلاف أن اشتراط الوضيعة بخلاف قدر رأس المال باطل واشتراط الربح متفاوتا عندنا صحيح.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505)
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561)
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.
(الجوهرة النيرة، 1/203، ط: المطبعة الخيرية)
(وكذلك لو باع عبدا على أن يستخدمه البائع شهرا، أو دارا على أن يسكنها شهرا، أو على أن يقرضه المشتري دراهم، أو على أن يهدي له هدية) فالبيع فاسد۔۔۔ وقد نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة ونهى عن بيع وشرط عن شرطين في بيع وعن بيع وسلف وعن ربح ما لم يضمن وعن بيع ما لم يقبض وعن بيع ما ليس عند الإنسان ، أما بيع وشرط فهو أن يبيع بشرط فيه منفعة لأحد المتعاقدين وأما نهيه عن شرطين في بيع فهو أن يبيع عبدا بألف إلى سنة، أو بألف وخمسمائة إلى سنتين ولم يثبت العقد على أحدهما، أو يقول: على إن أعطيتني الثمن حالا فبألف، وإن أخرته إلى شهر فبألفين، أو أبيعك بقفيز حنطة، أو بقفيزي شعير فهذا لا يجوز. لأن الثمن مجهول عند العقد ولا يدري البائع أي الثمنين يلزم المشتري، وأما صفقتان في صفقة أن يقول: أبيعك هذا العبد بألف على أن تبيعني هذا الفرس بألف وقيل هو أن يبيع ثوبا بشرط الخياطة، أو حنطة بشرط الحمل إلى منزله فقد جعل المشتري الثمن بدلا للعين والعمل فما حاذى العين يكون بيعا وما حاذى العمل يكون إجارة فقد جمع صفقتين في صفقة۔۔۔.
(المبسوط للسرخسي، 15/102، ط: دار المعرفة)
وإن اشترى ثوبا على أن يخيطه البائع بعشرة فهو فاسد؛ لأنه بيع شرط فيه إجارة؛ فإنه إن كان بعض البدل بمقابلة الخياطة فهي إجارة مشروطة في بيع، وإن لم يكن بمقابلتها شيء من البدل فهي إعانة مشروطة في البيع، وذلك مفسد للعقد۔۔۔.
(المبسوط للسرخسي، 16/41، ط: دار المعرفة)
وإن سلم غلاما إلى معلم ليعلمه عملا وشرط عليه أن يحذقه فهذا فاسد؛ لأن التحذيق مجهول إذ ليس لذلك غاية معلومة وهذه جهالة تفضي إلى المنازعة بينهما، وكذلك لو شرط في ذلك أشهرا مسماة؛ لأنه يلتزم إيفاء ما لا يقدر عليه فالتحذيق ليس في وسع المعلم بل ذلك باعتبار شيء في خلقة المتعلم، ثم فيما سمي من المدة لا يدري أنه هل يقدر على أن يحذقه كما شرط أم لا والتزام تسليم ما لا يقدر عليه بعقد المعاوضة لا يجوز.
(شرح القواعد الفقهية، 1/55، دار القلم)
العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني۔۔۔ والمراد بالمقاصد والمعاني: ما يشمل المقاصد التي تعينها القرائن اللفظية التي توجد في عقد فتكسبه حكم عقد آخر كما سيأتي قريبا في انعقاد الكفالة بلفظ الحوالة، وانعقاد الحوالة بلفظ الكفالة، إذا اشترط فيها براءة المديون عن المطالبة، أو عدم براءته.
وما يشمل المقاصد العرفية المرادة للناس في اصطلاح تخاطبهم، فإنها معتبرة في تعيين جهة العقود، فقد صرح الفقهاء بأنه يحمل كلام كل إنسان على لغته وعرفه وإن خالفت لغة الشرع وعرفه: (ر: رد المحتار، من الوقف عند الكلام على قولهم: وشرط الواقف كنص الشارع) .
(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)
لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض).
(الاختیار لتعلیل المختار:۳/۶۱)
والملک الخبیث ،سبیلہ التصدق بہ…
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 385)
قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 99)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.
(معارف السنن،أبواب الطهارة، باب ما جاء: لاتقبل صلاة بغیر طهور، ج:1، ص:34، ط: المکتبة الأشرفیة)
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة وغیرها: أن من ملك بملك خبیث، ولم یمكنه الرد إلى المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء ... قال: و الظاهر أن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولایرجو به المثوبة."
"المبسوط للسرخسي" (11/ 7):
"فأما إذا كان غنيا فليس له أن يصرف اللقطة إلى نفسه عندنا".
"الدر المختار " (2/ 338):
ورابعها الضوائع مثل ما لا ... يكون له أناس وارثونا...
ورابعها فمصرفه جهات ... تساوى النفع فيها المسلمونا
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله: ورابعها فمصرفه جهات إلخ) موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوية عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك. اهـ".
"اعلاء السنن" (13/ 29):
"واللقطة ان کانت واجبة التصدق لیست من الصدقات الواجبة،بل مصارفھا مصارف الصدقة النافلة حیث جاز ان یتصدق بھا علی فقیر ذمی".
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
29.شوال1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


