| 89158 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ہمارے کام کی تفصیل یہ ہے کہ ویب سائٹ پر ہم اپنی دوکان کھولتے ہیں،جس پر ہم نے لکھا ہوتا ہے کہ "ہم فلاں چیز(مثلاً کپڑے،کپ، میز یا کوئی اور پروڈکٹ) پر آپ کا دیا گیا ڈیزائن یا ہمارا اپنا ڈیزائن پرنٹ کرکے فروخت کرتے ہیں"۔
جس کسٹمر کو پرنٹ کروانے کی ضرورت پیش آتی ہے،وہ ہم سے رابطہ کرتا ہے کہ فلاں چیز پر فلاں ڈیزائن پرنٹ کرکے ہمیں بھیج دو۔ہم اپنے سپلائر سے رابطہ کرکے اسے آرڈر دیتے ہیں اور ساتھ ہی اس کی ادائیگی بھی کرتے ہیں،سپلائر سے وصولی براہ راست کرنے کے بجائے ہم اسے کہتے ہیں کہ تم وہ پرنٹ شدہ چیز براہ راست فلاں شخص کو بھیج دو۔پوچھنا یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے ہمارا یہ طریقہ کار درست ہے؟اگر نہیں تو ہم کیا ایسی تبدیلی کریں کہ کام بھی چلتا رہےاور شریعت کے مطابق بھی ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکور کاروبار کی دو صورتیں رائج ہیں؛
(1)ایک صورت تو یہ ہے کہ جس چیز پر پرنٹ کیا جانا ہے وہ چیز کسٹمر خود لاکر دیتا ہے،صرف پرنٹنگ کی خدمات حاصل کرتا ہے،ایسی صورت میں ویب سائٹ پر لکھے گئے الفاظ اور طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے،چنانچہ خرید وفروخت کے الفاظ استعمال کرنے کے بجائے یوں لکھ دیا جائے کہ "ہم آپ کی طرف سے دی گئی فلاں چیز(مثلاً کپڑے،کپ، میز یا کوئی اور پروڈکٹ) پر آپ کا دیا گیا ڈیزائن یا آپ کا منتخب کردہ ہمارا اپنا ڈیزائن پرنٹ کرواکر دیتے ہیں"۔اس طرح کرنے سے کسٹمر آپ کو آرڈر دے گا اور آپ وہ خدمات اپنے سپلائر سے حاصل کرکے کسٹمر کے حوالے کردیں گے، مذکورہ صورت میں آپ بطور اجیر (Service provider) کام کرسکتے ہیں،یعنی آرڈر لیتے ہوئے کسٹمر سے فکس اجرت (fee) طے کریں اور اس کے عوض اسے، اس کا مطلوبہ کام کروا کر دے دیں۔
(2)دوسری صورت یہ ہے کہ جس چیز پر پرنٹ کیا جانا ہے وہ چیز کسٹمر خود لاکر نہیں دیتا،بلکہ وہ بھی آپ انتظام کرکے اور پھر اس پر پرنٹ کرواکر کسٹمر کو دیتے ہیں، ایسی صورت میں جس وقت آپ کسٹمر سے عقد خرید وفروخت کر رہے ہوں اس وقت اس چیز کا آپ کی ملکیت اور قبضے میں ہونا ضروری ہے،لہٰذا اگر وہ چیز آپ کی ملکیت میں نہ ہویا ملکیت میں ہو لیکن فی الحال آپ کے قبضہ(حقیقی یا حکمی) میں نہ ہو تو ایسی چیز فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔
بالفرض اگر آپ کے لیے پہلے سے سامان (Inventory) خرید کررکھنامشکل ہو تو آپ ابتدائی طور پر خرید وفروخت کا عقد کرنے کے بجائے کسٹمر کے ساتھ وعدہ ٔ بیع کریں(Promise to sale)،یعنی آپ کی ویب سائٹ وغیرہ پر ایسے الفاظ لکھے ہوں،جس سے یہ واضح ہورہا ہو کہ" فی الحال یہ چیز ہمارے پاس نہیں،البتہ آپ کی طرف سےخریداری کا اظہار کرنے کے بعد ہم وعدہ کرتے ہیں کہ یہ چیز ارینج کرکے آپ کو بیچ دیں گے"،پھر مارکیٹ سے خرید کرباقاعدہ خریدار کے ساتھ علیحدہ سے خرید و فروخت کا معاملہ کریں تو ایسا کرنا جائز ہے۔
چنانچہ مذکورہ طریقہ اختیار کرنے کے بعد آپ سپلائر سے مطلوبہ چیز تیار کروا کر پھر براہ راست خود یا سپلائر کے علاوہ اپنے کسی ایجنٹ کے ذریعے اس چیز پر قبضہ کرکے پھر وعدہ پورا کرتے ہوئے کسٹمر کو باقاعدہ عقدِ خرید وفروخت کے ذریعے ڈیلیور کریں تو یہ معاملہ شرعاً درست ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ آپ سپلائر کے وکیل (کمیشن ایجنٹ) کے طور پر کام کریں، اس سے یہ معاہدہ کریں کہ میں آپ کی چیزیں آپ ہی کے لیے اپنے آن لائن ا سٹور پر بیچوں گا اور اس پر آپ سے متعین اجرت لوں گا۔ ہر پروڈکٹ پر الگ الگ اجرت مقرر کرنا ضروری نہیں، ایک دفعہ معاہدہ کرنا بھی کافی ہے۔ اجرت میں اصل یہ ہے کہ لم سم رقم کی شکل میں طے ہو، مثلا ہر پروڈکٹ بیچنے پر دس روپے، یا فلاں پروڈکٹ بیچنے پر دس روپے، فلاں پر بیس روپے ۔ اگر پروڈکٹ کی کل قیمتِ فروخت کا فیصدی حصہ (مثلا ٪10) بطورِ اجرت مقرر کریں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ اس صورت میں چونکہ آپ آرڈر دینے والے کو، اپنی چیز نہیں بیچیں گے بلکہ سپلائر کی چیز بیچیں گے، اس لیے مصنوعات سے متعلق ہر قسم کے خطرات (Risks) بھی سپلائرکے ذمے ہوں گے، الاّ یہ کہ آپ کی طرف سے اصول و قواعد کی خلاف ورزی، زیادتی یا بے احتیاطی کی وجہ سے کوئی نقصان ہو تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ یاد رہے کہ سپلائر سے وکالت (Agency) کا معاہدہ کرتے ہوئے نقصان سے متعلق اس حکمِ شرعی کی صراحت اور وضاحت ضروری ہے،تاکہ بعد میں کوئی اختلاف اور تنازع نہ ہو۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505)
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561)
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل.
المبسوط للسرخسي (13/ 8)
قال ومن اشترى شيئا فلا يجوز له أن يبيعه قبل أن يقبضه ولا يوليه أحدا ولا يشرك فيه؛ لأن التولية تمليك ما ملك بمثل ما ملك، والإشراك تمليك نصفه بمثل ما ملك به.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63)
مطلب في أجرة الدلال [تتمة]
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 47)
قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل وذكر أصلا يستخرج منه كثير من المسائل فراجعه في نوع المتفرقات والأجرة على المعاصي.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63)
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
08.جمادی الآخرۃ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


