| 89365 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
کیا فرماتےہیں علمائے دین اور مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا 360 Factors جیسی آرگنائزیشنز میں کام کرنا اسلام میں حلال ہے؟ مذکورہ کمپنی جس کا نام 360 factors ہے،یہ کمپنی انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق 2012 عیسوی میں وجود میں آئی،اس کا ہیڈ آفس آسٹن،ٹیکساس،امریکا میں ہے،یہ ایک پرائیویٹ کمپنی ہے،اس کا بنیادی کام سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور فنانشل ٹیکنالوجی(آپریشنل رسک مینجمنٹ،ریگولیٹری کمپلائنس،ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی،متوقع خطرات کی پیش گوئی وغیرہ) سے متعلق سروسز فراہم کرنا ہے۔یاد رہے اس کمپنی کے کلائنٹس زیادہ تر فائنانشل انسٹییٹوشنز ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلے اصولی جواب ملاحظہ ہو؛
1. اگرکمپنی صرف جائز کام میں استعمال کے قابل سافٹ ویئر بناتی ہے تو ایسی کمپنی میں ملازمت جائز ہے۔
2. اگر کمپنی صرف ناجائز کام میں استعمال کے قابل سافٹ ویئر بناتی ہے تو ایسی کمپنی میں ملازمت ناجائز ہے۔
3. اگر کمپنی دونوں طرح (جائز وناجائزکاموں میں استعمال کے قابل)کے سافٹ ویئر بنائے تو ایسی صورت میں اس شرط کے ساتھ ملازمت جائز ہے کہ مسلمان ملازم صرف جائز کاموں میں استعمال کے قابل سافٹ ویئر تیار کرے گا،اس صورت میں بالفرض اگر کمپنی یہ(جائز کاموں میں استعمال ہونے والا) سافٹ ویئر کسی ایسے ادارے کو فروخت کرتی ہے، جن کا کام ناجائز ہےتو یہ کمپنی کی مینجمنٹ کا ذاتی عمل ہے، اس کا ملازم کے کام یا اجرت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا،لہٰذاملازم کی اجرت بلاشبہ جائز ہوگی۔
البتہ اگر مجبوراً ناجائز کاموں کے لیے بننے والے سافٹ ویئرز میں خدمات دینی پڑیں تو ایسی صورت میں توبہ استغفار کے ساتھ ساتھ اس کام میں خرچ ہونے والے وقت کے بقدر اپنی تنخواہ میں سےصدقہ کرنا لازم ہوگا۔
4. اگر سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی صرف ایسے سافٹ ویئر بناتی ہو جو ناجائز کام کرنے والی کمپنی میں،صرف ناجائز کاموں کے لیےہی استعمال ہوتے ہوں یا ان سافٹ ویئر کا استعمال جائز اور ناجائز دونوں طرح کے معاملات میں ہوتا ہو لیکن سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی ناجائز معاملات میں معاونت کی نیت سے معاملہ کرتی ہو ،اپنا سافٹ ویئر بیچتی ہو اور دیگرخدمات فراہم کرتی ہو یا عقد کرتے وقت مذکورہ سافٹ ویئر کے ناجائز معاملات میں استعمال کی صراحت کردی گئی ہو تو ایسی صورت میں ایسی سافٹ ویئر کمپنی میں ملازمت جائز نہیں،البتہ اگر وہ سافٹ ویئرز جائز معاملات میں بھی استعمال ہوتے ہوں اور عقد کرتے وقت، ناجائز معاملات میں استعمال کی صراحت نہ کی گئی ہواورنہ سافٹ ویئرز ناجائز معاملات مین تعاون کی نیت سے بیچے گئے ہوں اور نہ بیچتے وقت یہ معلوم ہو کہ ناجائز کام کرنے والی کمپنی ان سافٹ ویئرز کو لازماً ناجائز معاملات میں استعمال کرے گی تو ایسی صورت میں ایسی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی میں ملازمت کی گنجائش ہے ۔
درج بالا اصولی جواب کی روشنی میں نیز کمپنی کی سروسز سے متعلق دستیاب معلومات کے مطابق آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ نے ابھی تک اس کمپنی میں ملازمت اختیار نہیں کی ہے تو کمپنی کا بنیادی کام اگر شق نمبرایک یا تین سے متعلق ہے تو ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے،لیکن اگر کمپنی کابنیادی کام شق نمبر چار کے مطابق ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ آپ ناجائز سرگرمیوں کا حصہ بنیں گے تو ایسی ملازمت اختیار کرنے سے اجتناب ضروری ہے،البتہ اگر ملازمت اختیار کرچکے ہیں تو شق نمبرتین کے مطابق جائز کاموں کے بقدر اجرت جائز ہوگی اور بقیہ اجرت صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
نیزاس صورت میں دوسری جائزملازمت کی تلاش بھی ضروری ہے،البتہ جب تک دوسری جائز ملازمت نہ ملے اس وقت تک عارضی طور پراس شرط کے ساتھ مذکورہ ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں کہ کل اجرت میں سے جتنی اجرت حرام ہو اسے بلا نیت ثواب صدقہ کرتے رہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 391)
(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية ونقل المصنف عن السراج والمشكلات أن قوله ممن أي من كافر أما بيعه من المسلم فيكره ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما زاد القهستاني معزيا للخانية أنه يكره بالاتفاق.
(قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل.
(فقہ البیوع:۲/۱۰۳۱)
وقد اشتھر علی الألسُن أن حکم التعامل مع من کان مالُہ مخلوطا بالحلال والحرام أنہ اؔن کان الحلال فیھا أکثر،جاز التعامل معہ بقبول ھدیتہ وتعاقد البیع والشراء معہ،وبذٰلک صدرت بعض الفتاوی،ولکن مایتحقق بعد سبر کلام الفقہاء الحنفیۃ فی ھذا الموضوع أن اعتبار الغلبۃ انما ھو فیما اذا کان الحلال متمیزا عن الحرام عند صاحبہ،ولا یعلم المتعامل معہ أن مایعطیہ من الحلال أو من الحرام ،فحینئذ تعتبر الغلبۃ،بمعنی انہ ان کان اکثر مالہ حلالا،یفرض أن مایعطیہ من الحلال،والعکس بالعکس،کما قدمنا نصوصہ فی الصورۃ الاولی.أما اذا کان مخلوطا بالحرام دون تمییز أحدھما بالآخر،فانہ لا عبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ، بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال، سواء اکان الحلال قلیلا ام کثیرا.
(الاختیار لتعلیل المختار:۳/۶۱)
والملک الخبیث ،سبیلہ التصدق بہ…
(فقہ البیوع:۱/۱۹۴)
قال الشیخ المفتی محمد تقی العثمانی حفظہ اللہ :ویتلخص منہ، أن الانسان اذا قصد الاعانۃ علی المعصیۃ باحدی الوجوہ الثلاثۃ المذکورۃ(أن یقصد الاعانۃ علی المعصیہ،بتصریح المعصیۃ فی صلب العقد،بیع اشیاء لیس لھا مصرف الا فی المعصیۃ)، فان العقد حرام لا ینعقد والبائع آثم۔اما اذا لم یقصد ذٰلک، وکان البیع سببا للمعصیۃ، فلا یحرم العقد ،ولکن اذا کان سببا محرکا، فالبیع حرام ،وان لم یکن محرکا ، وکان سببا قریبا بحیث یستخدم فی المعصیۃ فی حالتھا الراھنۃ ، ولا یحتاج الی صنعۃ جدیدۃ من الفاعل کرہ تحریما والا فتنزیھا…وکذٰلک الحکم فی برمجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر)لبنک ربوی، فان قصد بذٰلک الاعانۃ، او کان البرنامج مشتملا علی مالا یصلح الا فی الاعمال الربویۃ،أو الأعمال المحرمۃ الأخری،فان العقد حرام باطل.أما اذا لم یقصد الاعانۃ ،ولیس فی البرنامج ما یتمحض للأعمال المحرمۃ ،صح العقد وکرہ تنزیھا.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
23.جمادی الآخرۃ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


