| 90414 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
ایک شخص کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے اپنی اہلیہ سے بات کرتے ہوئے کچھ کنایہ الفاظ کہے (مثلاً: 'اپنے گھر چلی جاؤ')۔ یہ الفاظ بولتے وقت اس نے جان بوجھ کر (Deliberately) اپنے دماغ میں یہ سوچا کہ 'میری نیت ہے'۔ لیکن حقیقت (Asal) میں اس کے دل میں طلاق دینے کا کوئی پختہ ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ رشتہ ختم کرنا چاہتا تھا، بلکہ اس نے محض ایک ذہنی کیفیت یا وسوسے کے طور پر خود سے یہ کہا کہ 'میری نیت ہے'۔
براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس طرح جان بوجھ کر دماغ میں 'نیت ہے' سوچنے سے (جبکہ اصل میں طلاق کا حقیقی ارادہ نہ ہو) کنایہ الفاظ کے ذریعے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ یا نکاح برقرار رہتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
'اپنے گھر چلی جاؤ' یہ الفاظ کنایہ میں سے ہے۔ الفاظ کنایہ سےطلاق واقع ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ دل میں طلاق دینے کی نیت ہو۔لہٰذا طلاق واقع ہوگئی ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (3/296):
الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا ونحو خلية برية حراما......(وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة والنية باطنة.
رد المحتار (3/ 301):
والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية.
البحر الرائق(3/326):
(قوله: اخرجي اذهبي قومي) لحاجة أو لأني طلقتك قيد باقتصاره على اذهبي لأنه لو قال: اذهبي فبيعي ثوبك لا يقع وإن نوى، ولو قال: اذهبي إلى جهنم يقع إن نوى كذا في الخلاصة، ولو قال: اذهبي فتزوجي، وقال لم أنو الطلاق لم يقع شيء؛ لأن معناه تزوجي إن أمكنك وحل لك كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان.
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24/ذیقعدہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


