| 90135 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
آپ کو اللہ کا واسطہ ہے برائے مہربانی چند سوالات کے جوابات دے دیں سوال نمبر 1 حسین درلافتاء کو سوالات بھیج رہا تھا اس نے لکھا کہ زید نے کہا میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں حسین نے جب سوال کے باقی کالم پر کیے تو ایک جگہ سوال پوچھنے والے کا شہر پوچھ رہے تھے حسین فیصل آباد کا تھا اس نے پہلے فیصل آباد لکھا پھر اس کو وہم آیا کہ اس طرح اپنا شہر کا نام لکھنے سے حسین کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی جبکہ حسین کو یہ علم تھا کہ یہ وہم ہے اس نے وہم دور کرنے کے لیے لکھا اوکاڑہ اور زبان سے کہا اب طلاق نہیں ہوگی ؟ کیا حسین کی بیوی مطلقہ تو نہیں بن جائے گی؟ سوال نمبر 2 حسین نے ڈاکٹر کے بارے غصہ میں گھر آکر کہا لگتا ہے آپ وی حرام توں پیدا ہویا سی حسین کی بیوی سن رہی تھی مذکورہ جملہ کہنے سے حسین کی بیوی کو طلاق تو نہ ہوگی؟ سوال نمبر 3 حسین کے دل میں طلاق کے وساوس آرہے تھے کہ طلاق دے دو حسین نے کہا نہیں نہیں اس طرح نہیں حرام ہو جائے گی؟ کیا حسین کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی؟ سوال نمبر 4 حسین نے بیٹی کو اٹھایا ہوا تھا کہ اس دل میں وسوسہ آیا کہ اگر زینب کو گیٹ تک اٹھا کر نا گیا تو ریشم کو طلاق زینب کو اس نے گیٹ تک نہ اٹھایا غیر اختیاری حسین کی زبان سے نکل گیا قسم تو گیٹ تک اٹھا کر لے جانے کی تھی حسین کو علم تھا یہ وہم ہے اس طرح تعلیق منعقد نہیں ہوتی لیکن جو اس کی زبان سے غیر اختیاری جملہ نکلا کہ قسم تو گیٹ اٹھا کر لے کر جانے کی تھی حسین نے دل میں احتیاط میں جو وسوسے کے الفاظ سے سوچے لیکن اس کی زبان پر جاری ہوگیا اس کی مراد قسم سے تعلیق طلاق کا اقرار نہ کرنے کی تھی وہ صرف وہم کو ذہن سے نکال رہا تھا؟ سوال نمبر 5 علی کے دل میں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے خیال آیا کہ علی میرے موٹر سائیکل پر طلاق کی تحریر لکھی ہو تو اس سے زینب کو طلاق علی کے موٹر سائیکل کے رم پر پہلے سے لفظ طلاق تحریر شدہ تھا جو کہ علی نے نہیں لکھا تھا ٹائر گھوم رہا تھا تب بھی علی نے لفظ طلاق پر طلاق کی نیت کی اور ٹائر کے رکنے پر بھی کی اور طلاق کا لفظ جو ٹائر کی رم پر لکھا ہوا تھا ظاہر ہوگیا۔ جبکہ علی نے زبان سے نہ طلاق بولا نہ ہی ہاتھ سے لکھا؟ سوال نمبر 6 حسین نے طلاق کی نیت کے بغیر کہا بی بی کو طلاق کیا حسین کی بیوی کو طلاق ہوگی جبکہ بی بی سے مراد اس کی بیوی نہ تھی بی بی سے مراد خاتون تھی؟ سوال نمبر 7 حسین نے طلاق کی نیت سے کاغز پر نقطہ بنایا کیا اس کی بیوی کو طلاق ہوگی؟نقطے اس طرح ہوتے ہیں (.) سوال نمبر 8 ایک دیوار پر ارشد نے لکھا تھا میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں عثمان اپنی بیوی ساجدہ کو طلاق دینے کی نیت سے دیوار کے سامنے کھڑا ہوگیا سی سی ٹی وی کیمروں نے اس کی تصویر بنا لی عثمان نے جو طلاق کی نیت سے تصویر کھنچوائی کیا اس کی بیوی مطلقہ ہوگی جبکہ اس نے زبان سے ایک بھی لفظ نہیں کہا؟ سوال نمبر 9 علی کی بیٹی نے کہا ماما (ماں) اور ساتھ کہا چھوڑو علی بولا ٹھیک ہے علی کی بیٹی نے بلاوجہ کہا چھوڑو حالانکہ علی نے بچی کو پکڑا بھی نہیں تھا کیا علی کی بیوی کو طلاق ہوگی جبکہ علی کی طلاق کی نیت نہ تھی علی نے کسی کو پکڑا بھی نہیں تھا؟ سوال نمبر 10 علی کے دل میں وسوسہ آیا علی نے کہا خیر ہے کیا علی اگر طلاق کی نیت سے خیر ہے بولے گا تو اس کی بیوی کو طلاق نہ ہوگی؟ سوال نمبر 11 علی نے کہا میزان بنک اس کے ہر معاملے کا وکیل ہے علی کی نیت میزان بنک کو طلاق کا وکیل بنانے کی نہ تھی کیا میزان بنک اس کی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ان تمام صورتوں میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔آپ نے بہت سے الفاظ تو کہے ہی نہیں ہیں ۔ صرف سوچے ہیں اور اگر کہیں کہے ہیں تو وہ بھی طلاق کے الفاظ نہیں ہیں، لہٰذا کسی صورت میں طلاق نہیں ہوگی ۔ آپ کے سوالات سے واضح ہے کہ آپ وہم اور وساوس کا شکار ہیں وساوس سے بچنے کے لیے کثرت سے لا حول و لا قوۃ الا با للہ کا ورد کریں اور نفسیاتی معالج سے اس کا علاج بھی کروائیں ۔
حوالہ جات
«صحيح مسلم» (1/ 116 ت عبد الباقي):
حدثنا سعيد بن منصور، وقتيبة بن سعيد، ........................................، عن أبي هريرة؛ قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "إن الله تجاوز لأمتي ما حدثت به أنفسها ما لم يتكلموا أو يعملوا به"
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 224):
«(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 126):
عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه، لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك كحياة المفقود، أنها لما كانت ثابتة ووقع الشك في زوالها لا يحكم بزوالها بالشك حتى لا يورث ماله ولا يرث هو أيضا من أقاربه
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 278):
لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول أنت طالق ولا ينوي لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال ثم يقف ويكتب: امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة باللفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه وما في القنية: امرأة كتبت أنت طالق ثم قالت لزوجها: اقرأ علي فقرأ لا تطلق
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي(4/ 99):
(وإذا قال لرجل: طلق امرأتي فله أن يطلقها في المجلس وبعده) وله أن يرجع عنه لأنه توكيل وأنه استعانة، فلا يلزم ولا يقتصر على المجلس،
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
01/ذيقعده /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


