03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
                      ملازمین کے لیےپراویڈنٹ فنڈ اور EOBIفنڈ کاحکم  
89952اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال نمبر:

  1. Provident Fund: ہرماہ سیلری کا 5% تنخواہ سےکٹوتی کی جائےگی،اور 5%کمپنی کی طرف سےجمع ہوگا ،جب کبھی Employeeنوکری چھوڑ کر جائےگا،اس وقت جو اس کافنڈ جمع ہوگا اسےاداکردیاجائےگا۔
  2. EOBI Fund::جواسٹاف ممبر کمپنی میں 5سال کاعرصہ گزارچکاہے،اس کو EOBIمیں رجسٹرڈ کروادیاجائےگا،جوایک سرکاری ادارہ ہے،وہ Employeeکی تنخواہ سےہرماہ کچھ رقم لیتا ہےوہ کمپنی تنخواہ سےکٹوتی کرکےخودجمع کرواتی ہے۔

نوٹ: گزارش عرض یہ ہے کہ کچھ اسٹاف ممبر کو مندرجہ بالا نکات میں سے کچھ نکات پر شرعی طور سے اعتراض ہے۔ لہذ آپ سے گزارش ہے کہ شرعی طور پر اگر نکات میں کوئی غلطی ہے تو رہنمائی فرمادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

EOBI (ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن ایک سرکاری ادارہ ہے، جس کا مقصد پرائیویٹ کمپنیوں اور اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو ریٹائر ہونے کے بعد ، وفات یا کسی حادثے کی وجہ سے معذوری کی صورت میں ان ملازمین یا ان کے لواحقین کو حکومتی ملازمین کی طرح ان کی خدمات کے نتیجے میں اپنی طرف سے ان کی تنخواہوں سے کائی ہوئی رقم مع اضافہ فراہم کرنا ہے، اس لیے یہ ادار و پرائیویٹ کمپنیوں اور اداروں کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ کمپنی کچھ رقم ملازمین کی تنخواہوں سے کاٹ کر اور کچھ رقم اپنی طرف EOBI ( ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن) میں جمع کروائے، لہذا پرائیویٹ ادارے ملازمین کی تنخواہوں سے جبرا یہ رقم کاٹ کر اس ادارہ کو جمع کروانے کے پابند ہیں، چونکہ یہ رقم مذکورہ حکومتی قانون کے تحت جبراً کاٹی  جاتی ہے ، ملازم کو اس میں کوئی اختیار نہیں ہوتا اس لیے اس کا حکم پراویڈنٹ فنڈ کی طرح ہے۔

پراویڈنٹ فنڈ کا حکم یہ ہے کہ اس میں جو ر قم سود کے نام سے اضافی دی جاتی ہے وہ سود نہیں، کیونکہ اس صورت میں ادارہ اپنے ملازم کی تنخواہ میں سے کچھ حصہ کی ادائیگی فی الفور کر دیتا ہے اور کچھ حصہ تاخیر سے، یعنی ریٹائر منٹ کے بعد ادا کرتا ہے، اور اجرت میں تاخیر کی وجہ سے اجرت میں اضافی رقم ملا کر ساتھ ادا کرتا ہے، گویا یہ اضافہ اجرت ہی کا حصہ ہوتا ہے لہذا اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں۔

البتہ اگر ملازم نے اپنے اختیار سے کوئی رقم کٹوائی ہے یا ملازم نے اپنی کمپنی سے تنخواہ وصول کرنے کے بعد خود E.O.B.I میں جمع کروائی (جیسا کہ ان دونوں صورتوں کی 1.E.O.B کے قواعد وضوابط میں اجازت ہے) تو ان دو صورتوں میں سے پہلی صورت (ملازم اپنے اختیار سے رقم کٹوائے) میں اس اضافی رقم سے اجتناب کرنا بہتر ہے کیونکہ اس میں سود سے مشابہت ہے۔

جبکہ دوسری صورت ملازم تنخواہ وصول کرنے کے بعد خود E.O.B.I میں جمع کروائے) میں یہ اضافہ سود ہےجس سے بچا واجب ہے۔

حوالہ جات

" البحر الرائق شرح كنز الدقائق "300/7:

قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة. " فقط(ماخوذازتبویب :55768/55)

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

15/شعبان1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب