03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 سی فوڈ کی مصنوعات جودیگرممالک سےحلال سرٹیفائیڈہوں،ان کاکیاحکم ہوگا؟
89748جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

 سوال نمبر  2.1 :بسا اوقات اس قسم کی مصنوعات مسلمان ممالک ( مثلا ملیشیا، انڈو نیشیا و غیرہ) سے درآمد کی جاتی ہیں اور وہ اشیاء ” حلال سر ٹیفائیڈ “ بھی ہوتی ہیں،کیونکہ ان ممالک کے حلال اسٹینڈرڈز ( اور وہاں کی رائج فقہ) کے مطابق ان پر حلت کا حکم لگتا ہے اور چونکہ حکومت پاکستان کے قانون کےمطابق حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات کو درآمد کرنے کی اجازت ہے، اس لیے عام طور پر اسٹورز میں موجود متعلقہ اسٹاف بس اس قدر اہتمام کر لیتا ہے کہ خریدی جانے والی اشیاء " حلال سرٹیفائیڈ " ہوں اور اس حد تک اطمینان کے بعد اسٹور اسٹاف مذکورہ مصنوعات خرید لیتا ہے۔ ایسی اشیاء کی خریداری اور اسٹورز پر ان کی فروخت کا شرعی حکم کیا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حکومت پاکستان کےقانون کےمطابق اگرایسی اشیاء کو درآمدکرنےکی اجازت ہوپھربھی  وہی حکم ہوگاجواوپرتفصیل سےذکرکیاہے،قانونی طورپراگرچہ اجازت ہو،لیکن شرعی طورپرحلال حرام کوبھی دیکھناضروری ہے۔

اگرظاہری طورپرکسی پروڈکٹ پر حلال سرٹیفائیڈ کالیبل لگاہوتوایک عامی شخص کےلیےاس کااستعمال کسی حدتک جائزہوگا،کیونکہ اجزائےترکیبی کی معلومات  اورتفصیلات  معلوم کرنامشکل ہے،اورشرعابھی بہت زیادہ گہرائی میں اجزائےترکیبی کی تحقیق کاحکم نہیں دیاجاتا،اس لیےعام شخص کےلیےاس کےاستعمال کی گنجائش ہوگی،اگرچہ بہترپھربھی یہی ہےکہ اجزائےترکیبی کی معلومات کرکےپھر پروڈکٹ کو استعمال کیاجائے۔

لیکن کسی ادارےاور خاص طورپر ایسےادارےجن  کاکام ہی اس طرح کی پروڈکٹ کی خریدوفروخت ہو،ان  کےلیےشرعاحکم یہ ہوگاکہ وہ خریدتےہوئےحلال حرام کاخیال کریں،اجزائےترکیبی کی مکمل معلومات کرکےآرڈردیاجائے۔

اگرانجانےمیں ایسی مصنوعات خریدلی گئی ،جن میں واقعتا کوئی حرام اجزاء شامل ہیں اگرچہ وہ کسی مذہب کےمطابق حلال ہی  کیوں نہ ہوں ،پاکستان میں ان کابیچناپھربھی  جائزنہیں ہوگا۔

ایسی مصنوعات کاحکم یہ ہےکہ یا تو ان کوواپس کیاجائے(آرڈرکےوقت ہی اگر معاہدہ کیاجائےکہ جو اس طرح کی مصنوعات ہونگی ان کوواپس کیاجائےگا)یاپھرضائع کیاجائے،کیونکہ حرام اجزاء شامل ہونےکی وجہ سےاستعمال بھی جائزنہیں ہوگااور بیچنا بھی جائزنہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"صحيح البخاري"3/ 53:

باب الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات: عن النعمان بن بشير رضي الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: الحلال بين والحرام بين وبينهما أمور مشتبهة فمن ترك ما شبه عليه من الإثم كان لما استبان أترك ومن اجترأ على ما يشك فيه من الإثم أوشك أن يواقع ما استبان والمعاصي حمى الله من يرتع حول الحمى يوشك أن يواقعه۔

باب تفسير المشبهات: وقال حسان بن أبي سنان ما رأيت شيئاً أهون من الورع، دع ما يريبك إلى ما لا يريبك۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

17/رجب1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب